شام کا بحران – بدترین انسانی المیہ



کشور سجاد

مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی صورتحال اگرچہ نئی نہیں،ارض فلسطین پر صیہونی ریاست کی ناجائز تخلیق کے نتیجے میں عرب اسرائیل جنگوں کا ظہور، لبنان میں طویل خانہ جنگی، غزہ سے اردن کا انخلا اور اس سے پہلے صابرہ، شتیلہ کے پناہ گزین کیمپوں میں یہودی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام، بیت المقدس کی دعویداری پر جھگڑا، یہودی بستیوں کی تعمیر اور غزہ کی ناکہ بندی یقیناًکسی المیے سے کم نہیں لیکن شام کے بحران کو بد ترین انسانی المیہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ شام کے حالات حافظ الاسد کے دور میں بھی مثالی نہیں تھے تاہم سنی اکثریت میں بغاوت کی سکت نہ ہونے کے باعث جبر کو خاموشی سے برداشت کیا جاتا رہا، بعدازاں امریکی و برطانوی پاگل پن کے نتیجے میں عراق اور لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہوئے تو شامی اپوزیشن کو بھی ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیے یہ موقع غنیمت محسوس ہوا لیکن اب ان کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

امریکہ، سعودی عرب اور ترکی خاطر خواہ کردارادا نہیں کرپائے جبکہ روس دولت اسلامیہ کی سرکوبی کے بہانے شامی اپوزیشن کو کچلنے کے لئے آموجود ہوا جس کے نتیجے میں بشار الاسد کی اقتدار پر کمزور ہوتی گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی، شامی مہاجرین جان بچانے کی کوشش میں سفر کی صعوبتیں جھیلتے اور سمندروں میں غوطے کھاتے عالمی ذرائع ابلاغ کا موضوع بنے ہوئے ہیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شام میں حکومت مخالف گروہوں کے مرکزی مذاکرات کار محمد علوش نے امن مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اعلی مصالحتی کمیٹی (ایچ این سی) کے محمد علوش نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں یہ تو کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنچا جا سکا اور نہ ہی محصور علاقوں میں رہنے والے شامیوں کی مشکلات میں کمی آئی،خیال رہے کہ ایچ این سی نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں شام کی حکومت کے ساتھ جنیوا میں فریقین کو قریب لانے والی بات چیت سے اپریل کے مہینے میں علیحدگی اختیار کر لی تھی، اس بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ محمد علوش نے کہا کہ بات چیت کے تین دور حکومت کی ضد اور شامی شہریوں پر اس کی مسلسل بمباری اور جارحیت کی وجہ سے ناکام رہے۔

محصور علاقوں تک امداد کی رسائی میں کمی پر برہمی پائی جاتی ہے۔ سعودی نواز (ایچ این سی) مہینوں تک جنیوا مذاکرات کے متعلق اپنی مایوسی کا اظہار کرتی رہی۔ محصور علاقوں تک امدادی سامان کی رسائی میں کمی، سیاسی قیدیوں کی رہائی میں سست روی اور بشار الاسد کے بغیر شام میں سیاسی منتقلی کی بات نہ ہونے پر ایچ این سی میں ناراضی پیدا ہو گئی تھی۔ امریکہ اور روس کی ثالثی سے شام میں جنگ بندی سرکاری طور پر اب بھی برقرار ہے لیکن اس کی مسلسل خلاف ورزی بھی ہوتی رہتی ہے۔ محمد علوش کے استعفے سے مزید لوگوں کا تحریک میں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ایچ این سی کے ایک دوسرے رکن نے بھی اپنے استعفی کا عندیہ دیا ہے۔

Syria Crisis_Inner Image

صدر بشار الاسد کے خلاف پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں تقریبا ڈھائی لاکھ شامی باشندے مارے جا چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ شام کی حکومت نے دو ساحلی شہروں طرطوس اور جبلہ میں ہونے والے دھماکوں کا الزام ترکی، قطر اور سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صعنا کے مطابق حملوں کا مقصد امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کرنا تھا۔ شام کی سرکاری میڈیا کے مطابق ان بم دھماکوں میں کم از کم 78 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ ایک مانیٹرنگ گروپ نے ہلاکتوں کی تعداد 145 سے زائد بتائی ہے۔ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ دھماکوں کا نشانہ بننے والے دونوں شہر شامی صدر بشار الاسد کے مضبوط گڑھ ہیں اور ابھی تک یہ خانہ جنگی کے شدید ترین حالات سے بچے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی، قطر اور سعودی عرب شام میں موجود مختلف باغی افواج کی حمایت کرتے ہیں تاہم یہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔ عماق نیوز ایجنسی کے مطابق دولت اسلامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجوں نے علویوں کے اجتماع پر حملہ کیا ہے، خیال رہے کہ صدر اسد علوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں سرکردہ امریکی کمانڈر نے خفیہ طور پر شام کا دورہ کیا ہے، امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے شمالی شام میں تقریبا 11 گھنٹے گزارے، اس دوران انھوں نے امریکی فوج کے مشیروں اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے رہنما ؤں سے ملاقات کی۔ خیال رہے کہ ایس ڈی ایف کرد اور عرب باغیوں پر مبنی فوج ہے جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے،امریکہ چاہتا ہے کہ شام اور عراق کے بڑے حصے پر قابض جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کو مقامی فوجیوں سے شکست کا سامنا ہو۔ دورے کے بعد مسٹر ووٹل نے کہا کہ مقامی جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ کے خلاف تربیت دینا صحیح طریق کار ہے، انھوں نے کہا: میں وہاں سے ان کی صلاحیتوں اور اپنی تعاون کی قوت پر اپنے بڑھے ہوئے اعتماد کے ساتھ لوٹا ہوں۔ میرے خیال سے یہ طریقہ کام کر رہا ہے اور ٹھیک سے کام کررہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ شام اور عراق کے بڑے حصے پر قابض جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کو مقامی فوجیوں سے شکست ملے۔ ایس ڈی ایف میں تقریباً 25 ہزار کرد جنگجو ہیں جبکہ پانچ ہزار عرب جنگجو ہیں اور امریکہ ان میں عرب جنگجوں کی تعداد میں اضافہ چاہتا ہے۔ جن عرب کمانڈروں نے اس دورے میں صحافیوں سے گفتگوکی انھوں نے کہا کہ انھیں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔ ایس ڈی ایف کے نائب کمانڈر قرہمان حسن نے کہا کہ انھیں مزید بکتر بند گاڑیاں، مشین گنیں، راکٹ لانچرز اور مارٹرز چاہئیں، انھوں نے کہا کہ ابھی تک ایس ڈی ایف ہتھیاروں کے لیے سمگلنگ پر بھروسہ کرتا ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ آپ سمگلنگ پر فوج نہیں چلا سکتے۔ قبائلی رہنماں نے فوجی اور انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کے معاملے میں امریکہ سے زیادہ تعاون کرنے کے لیے کہا، شام میں امریکہ کے تقریبا 200 فوجی مشیر ہیں جبکہ وہاں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی میں دولاکھ 70 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں لیبیا کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتیوں کے حادثات میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ یورپ پہنچنے کی کوشش میں تارکین وطن کی یہ کشتیاں بدھ، جمعرات اور جمعے کو اٹلی کے جنوب میں ڈوب گئی تھیں۔ موسم بہار میں افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی کشتیوں نے اس ہفتے تقریبا 13,000 تارکین وطن کو بچا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کی ترجمان کارلوٹا سمی کے مطابق بدھ کو سمگلروں کی کشتی کے الٹنے کے بعد تقریباً 100 تارکین وطن لاپتہ ہیں، ترجمان کے مطابق بدھ کو لیبیا کی بندرگاہ سبراتھا سے نکلنے والی کشتی جمعرات کی صبح الٹ گئی جس سے 550 کے قریب مزید تارکین وطن لاپتہ ہوگئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ تیسری کشتی کو حادثہ جمعے کو پیش آیا جس میں 135 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ پانی سے 45 لاشوں کو نکالا گیا،ان کا کہنا تھا کہ تاحال لاپتا ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی فلاحی طبی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 900 تک پہنچ سکتی ہے، حادثات میں بچ جانے والوں کو اٹلی کے ساحلی علاقوں ٹارانٹو اور پوزالو پہنچایا جارہا ہے۔

Syria Crisis_Immigrants

ادھر اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو لیبیا کے ساحل کے قریب سے یورپی یونین سے کشتیوں نے 600 تارکین وطن کو بچایا ہے جس سے رواں ہفتے بچائے جانے والے افراد کی تعداد کم از کم  13,000 ہوگئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کے بحران کے بارے میں یورپی یونین کی امیگریشن اور پناہ گزینوں کو محدود کرنے کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔ آسٹریا کی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے پناہ گزینوں کے بحران پر عائد کردہ پابندیاں رکن ممالک کے بین الاقوامی فرائض کے منافی ہیں۔ بان کی مون آسٹریا کی پارلیمان کی جانب سے ایک ایسے مسود قانون کی منظوری کے ایک دن بعد تقریر کر رہے تھے جس کے مطابق پناہ کے حصول کے حقوق کو محدود کیا جائے گا اور سرحد پر پناہ لینے کے دعووں کو مسترد کیا جا سکتا ہے، واضح رہے کہ یورپی یونین جس میں آسٹریا بھی شامل ہے۔ شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

گذشتہ سال دس لاکھ سے زائد افراد نے یورپ کا رخ کیا تھا جس کے بعد وہاں پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ یورپ آنے کے خواہشمند افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد نے یورپی یونین کو اس بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر منقسم کر دیا ہے۔ بان کی مون نے ویانا میں آسٹریا کے اراکینِ پارلیمان کو بتایا: مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ یورپی ممالک اب امیگریشن اور پناہ گزینوں کو محدود کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا: ایسی پالیسیاں رکن ممالک کے فرائض کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتی ہیں جو بین الاقوامی انسانی اور یورپین قانون کے تحت آتی ہیں۔ اس قانون کے مطابق آسٹریا کی حکومت پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے والے کسی بھی پناہ گزین کی تین سال کی مدت کو محدود کر سکے گی،آسٹریا کے وزیرِ داخلہ ولف گینگ سوبوٹکا کا کہنا ہے کہ چونکہ یورپی یونین کے دوسرے ارکان پناہ گزینوں کے بہاؤ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے آسٹریا کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے،آسٹریا میں منظور کیے جانے والے اس قانون کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جن میں ایمنیٹسی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ بھی شامل ہیں۔ یونان کے ججوں کا کہنا ہے کہ شام سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کو واپس ترکی نہیں بھیجنا چاہیے کیونکہ ترکی ان کے لیے محفوظ جگہ نہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم امنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یونان کے ججوں کے اس فیصلے نے پناہ گزینوں کے حوالے سے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ہوئے معاہدے پر شکوک پیدا کر دیے ہیں، واضح رہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان پناہ گزینوں کے معاہدے کے مطابق ایسے پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیج دیا جائے گا جو یونان پہنچ کر یا تو پناہ کی درخواست نہیں دیتے یا پھر ان کی درخواست مسترد کر دی جاتی ہے۔ اس معاہدے کا نفاذ اس سال مارچ میں ہوا اور اب تک اس معاہدے کے تحت 400 افراد کو واپس ترکی بھیجا جا چکا ہے، اوریورپی یونین کے مجوزہ معاہدے میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ترکی سے یونان پہنچنے والے تمام پناہ گزینوں کو ترکی واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس کے بدلے میں یورپی یونین ترکی کو مالی مدد پیش کرسکتی ہے اور ترک شہریوں کو یورپی ممالک میں ویزا فری داخلے کی اجازت بھی مل جائے گی۔ ترکی اگرچہ یورپی میڈیا کی تنقید کی زد میں ہے لیکن ترکی وہ ملک ہے جس نے سب سے زیادہ شامی مہاجرین کو پناہ دی ہے،شام کابحران حل نہ کرنے کی ذمہ دار عالمی طاقتیں امریکہ اورروس ہیں جن کے مفادات کاٹکراؤ اس انسانی المیے کی بنیاد بنا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *