کر ہی کیا سکتا تھا مسلماں

ارمغان نعیم خان۔

Inner Text Image

سلطنتِ اردن کے دارلخلافہ عمان سے قریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر بحرِمردار کے کنارے قا ئم فا ئیو اسٹار ہوٹل کے سبزہ زار میں براجمان ہم غروبِ آفتاب کے منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پچھلے چند برسوں میں حکومتِ اردن نے اس مقام پر کثیر سرمائے سے متعدد فا ئیو  اسٹار ہوٹل تعمیرکئے ہیں جو عموماً سیاحوں سے بھرے رہتے ہیں۔ ڈھلتے ہوئے سورج کی کرنیں بحرِ مردار کے آبِ پُرجمود کو چھوتے ہوئے،ایک اور دن کی نویدِ اختتام دیتے ہوئے دلربا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس حسین منظر کو عرب موسیقی مزید دلکش بناتے ہوئے ہمیں یہ اعتراف کرواے دے رہی تھی کہ اچھی موسیقی زبان کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایسا معلوم پڑرہا تھا کہ یہ طلسم ہوش ربا کا کوئی منظر ہے او ر ابھی کوئی سامری جادوگر بحرِ مردارکے اُس پار سے اڑُن غالیچے پر سوار اس طرف آنکلے گا۔

          ہمارے میزبان بھی روا ئتی عرب مہمان نوازی کا عملی نمونہ پیش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کی ٹھانے ہوئے تھے،جس کا اظہار ان کے اشارے پر خوان در خوان میوہ جات کے نزول سے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ بے ساختہ کچھ خواہش سی ہوئی کہ کاش وقت تھم جائے اور یہ حسین نظارہ یونہی منجمد کا منجمد آنکھوں میں بسا رہے۔

          جب شام نے اپنا آنچل پھیلایا تو اُفق کے اُس پار روشن ہونے والی برقی روشنیوں نے ایک اور ہی سماع باندھ دیا۔ ایسا گمان پڑتا تھا کہ گویا موسیقی کی تال پر لاتعداد جگنو محوِ رقص ہیں۔ بالخصوص بحرِ مردارکے اُس پار کی روشنیاں نہایت خوشنما دکھتی تھیں۔ برسبیلِ وضاحت ہم نے اپنے میزبان سے معلوم کرنا چاہا کہ بحرِ مردار کے اُس پار نظر آنے والا حسین خطہ، اردن کا کون سا علاقہ ہے؟ہمارے استفسار پر میزبان صاحب عربی طبل کی تھاپ پر سر دھنتے ہوئے فرمانے لگے کہ جناب وہ اردن نہیں اسرائیل ہے۔ہمارے حلق میں نوالہ پھنستے پھنستے بچا۔ ہمیں اپنی قوتِ سماعت پر شبہ ہوا اور ہم نے دوبارہ ان سے تصدیق چاہی۔وہ تصدیق کرتے ہوئے بولے جی بالکل آپ نے درست سُنا وہ واقعی اسرائیل ہے، مگر اسے چھوڑئے اور لیجئے شوق فرمائے، یہ کہتے ہوئے انہوں نے بھنے ہوئے لبنانی گوشت سے لبالب بھری قاب ہماری جانب سِرکا دی۔

          اس تصدیق کا ہونا تھا کہ ہمارے ذہن میں بھونچال آگیا۔ تیز آندھیاں چلنے لگیں، آسمان سے آگ کی بارش ہونے لگی، بحرِ مردار کا پانی خون بن گیا، خوشنما جگنو آتشی چنگاریوں میں تبدیل ہو گئی ، عربی موسیقی ایک کریہہ الصوت چیخ میں تبدیل ہوکر اعصاب پر ہتھوڑے برسانے لگی اور بھنا ہوا لبنانی گوشت یکلخت لتھڑے ہوئے لحم الخنزیر میں تبدیل ہوگیا۔ ہمارے میزبان ہمارے اندراٹھنے والے طوفان سے بے خبر اب اس رقاصہ کے اعضاء اور فنِ رقص میں مہارت پر مفصل تبصرہ فرما رہے تھے جو کچھ ہی دیر میں وہاں اترنے والی تھی اور جس کا خصوصی انتظام ہمارے اعزاز میں کیا گیا تھا۔

          ہمارے جی میں آئ ،کہ تمام تر آدابِ مہمانی بالائے طاق رکھ کرہم اپنے میزبان کا گریبان تھام لیں اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ان سے پوچھیں۔کہ یہ بحرِ مردار آپ کے یہاں قومِ لوتؑ پر ٹوٹنے والے عذابِ الہٰی کا تاقیامت انمٹ نشانِ عبرت ہے اور آپ ہیں کہ بجائے عبرت حاصل کرنے اور تائب ہونے کے، عین برلبِ نشانِ عبرت،نشاط گاہیں قائم کرنے پر تُلے ہیں۔ پھر ہم دوسرے عرب کا گریبان تھام کر پوچھیں کہ صاحب جس خطے کو ابھی آپ نے منہ بھر کے اسرائیل بتایا وہ چند دہائیوں قبل آپ ہی کا حصہ تھا، اب اسے اسرائیل کہتے آپ کی زبان جلی کیوں نہ۔پھر ہم ایک تیسرے عرب سے پوچھیں کہ چالیس کی دہائی میں جو یہودونصاریٰ نے مل کر عالمِ عرب کے سینے میں یہودی ریاست کا جو خنجر گھونپا تھا اس کے گھاؤسے آج تک عالمِ عرب کا لہو رِس رہا ہے۔ کیوں کر اب یہ لہو آپ کو بے ر نگ دِکھتا ہے؟اس کے بعد ہم چوتھے عرب سے پوچھیں کہ صاحب بحرِ مردارکا یہ پُر سکون پانی چیخ چیخ کر آپ سے سوال کرتا ہے کہ 1947 ء سے لے کر 1974ء تک وقوع پذیر ہونے والے معرکہ ہائے یہودواسلام بشمول جنگِ رمضان میں آپ کے اصلاف شہداء نے جو قربانیاں دی تھیں وہ کیا ہوئیں؟آپ تو انہیں رائیگاں کرنے پر تُلے ہیں۔

          میزبانوں سے دست و گریباں ہونے کی جرأت تو ہم نہ کرسکے مگر اپنے تلخ خیالات کو مقدور بھر شائستگی کا لبادہ اوڑھا کر ہم نے خدشہ ظاہر کیا کہ آپ جو یہاں عالی شان ہوٹل اور عمارات تعمیر کئے بیٹھے ہیں، خاکِ بدہن اگر کہیں اسرائیل یہاں دوبارہ چڑھ دوڑا تو؟ اس پر ہمارے میزبان موصوف نے کچھ اس انداز میں تبسم فرمایاکہ اگر میزبانی آداب آڑے نہ آتے تو وہ تمسخرانہ ہنسی ہنستے۔پھر وہ شانے اچکانے ہو ئے فرمانے لگے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ  1994 ء میں امریکی سرپرستی میں ہمارا اسرائیل سے امن معاہدہ ہو گیاتھا، جس کی رو سے اسرائیل ہم پر حملہ نہ کرنے کا پابند ہے۔ اب کے ایک مرتبہ پھر ہمارا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔ بھلا اسرائیل اورامن؟؟ اسرائیل کو امن سے کیا سروکار۔  اوپر سے طرہ امتیاز ٹھہری امریکی سرپرستی۔

اب خیال ہوا کہ ہم ان کو نئے سرے سے جھنجھوڑ کر پوچھیں کہ یہودونصاریٰ کے ناپاک گٹھ جوڑ کے آگے گھٹنے ٹیک کر آپ نے اپنی سرحد کو تو فی الوقت بچا لیا مگر اس حقیقت کا کیا ہو کہ وہ جو اسرائیل والے آئے روز جن انسانوں کو تہہ تیغ کئے جا رہے ہیں وہ آپ ہی کے بھایئ بند مسلمان ہیں۔ آپ کی سرحد سے کچھ ہی فاصلے پر مغربی پٹی میں وہ فلسطینی مسلمان بستے ہیں جِن پر آپ کے دوست اسرائیل نے عرصہِ حیات کِس قدر تنگ کر رکھا ہے۔ وہ آپ کے اصلاف بشمول انور سادات، شاہ فیصل، جمال عبدالناصر، شاہ حسین، یاسر عرفات وغیرہ کے نظریات کیا ہوئے کہ جنہوں نے اسرائیل سے دوستی کرنا تو درکنار، ہمیشہ اسرائیل کو کھلے بندوں عالمِ اسلام کا دشمن کہتے رہے۔ یہ یکایک آپ کو کیا سوجھی کہ آپ یہودیوں سے دوستی کرنے چلے۔

          بہت جی مچلا کہ کاش ہمیں ایک پل کیلئے اسرائیل کی سرزمین پر قدم رکھنے کا موقع ملے تو ہم اخ تھو کرکے فوراً واپس پلٹ آئیں۔ مگر یہ کسی طور ممکن نہ ہوا۔ پھر سوچا کہ چلو بحرِمردادر کے اِس پار کھڑے ہوکر اسرائیل کی طرف منہ کرکے یہیں سے اخ تھو کر لیتے ہیں۔ مگر پھر سوچا کہ اس سے کیا ہوگا۔ الٹا ہماری اخ تھو واپس ہمارے منہ پر ہی آن پڑے گی ۔ ویسے بھی ایک ہماری اخ تھو پر کیا موقوف ہے۔ وہ جو اسرائیل ڈنکے کی چوٹ پر، امریکی سرپرستی میں پچھلی کئی دہائیوں سے عالمِ اسلام پر اخ تھو کر رہا ہے اس کا تدارک کون کرے گا۔ پھر سوچا کہ چلو کچھ نہ کرنے سے کم از کم اخ تھو کرنا ہی بہتر ہے۔

                                      ؎       کر ہی کیا سکتا تھا مسلماں اخ تھو کے سوا۔

Armughan Naeem Khan, Blogger with theweeklypakistan.comThe writer is a seasoned writer, poet, lyricist and analyst.

He can be contacted through email: armughannaeemkhan@yahoo.com or Twitter @armughannaeemkhan

 

3 thoughts on “کر ہی کیا سکتا تھا مسلماں

  • June 19, 2016 at 5:41 am
    Permalink

    Author has Highlighted the harsh realities in very simple but in effective manner..

    Reply
  • June 19, 2016 at 5:50 pm
    Permalink

    A wonderful article. Simple language is used to highlight the intensity of an issue. Indeed a good article. My all best wisbes for the writer.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *