بلڈی پی آئی اے

انوار ایوب راجہ۔


سر آپکے پاس ابھی بھی پانچ کلو کا الاؤنس ہے ، کیا آپ کچھ اور سامان بیلٹ پر رکھنا پسند کریں گے ؟” نہیں ، شکریہ ” میں نے جواب دیا . خاتون نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولی ” آر یو شور ؟” میں نے کہا ” یس آئی ایم شور “. میرے ساتھ والے کاونٹر پر ایک صاحب چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے ” یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ کل رات میں نے وزن کیا تھا ، یہ سامان 40 کلو تھا اور اب 50 کیسے ہو گیا ؟ تم لوگوں کے سکیل خراب ہیں ، یو بلڈی پی آئی اے “. یہ صاحب آخری اونس تک ایسے لڑ رہے تھے جیسے کہیں نیاز بٹ رہی ہوتی ہے تو لوگ ثواب کے چکر میں آخری دانے تک لڑتے ہیں . ہمارے لوگ عجیب ذہنی کیفیت سے دوچار گھر لوٹتے ہیں ، سامان سے لدے ، حالات سے تنگ اور رشتے داروں کی فرمائشوں سے پریشان ، یہ فرمائشیں بھی عجیب طرح کی ہوتی ہیں . کسی کو موبائل فون چاہیے تو کسی کو آئی پیڈ ! پین ، کاپی اور بستہ کوئی نہیں مانگتا . اب تو گھر کے ملازم بھی کہتے ہیں ، “صاب آؤ گے تو سیب والا فون ضرور لانا یا پھر چپاتی والا فون. سیب والا فون یعنی ” ایپل کمپنی کا فون ” اور چپاتی والا فون یعنی ” ٹچ سکرین فون “. ان سب فرمائشوں کا وزن اٹھاتے اٹھاتے اور قیمت ادا کرتے کرتے انسان اپنے غصے کا اظہار جب کرتا ہے تو منہ سے بے دریغ نکلتا ہے! ” بلڈی پی آئی اے۔۔

اب اس میں پی آئی اے کا قصور ہو نہ ہو بس ہم اسے” بلڈی پی آئی اے “کہہ کر اپنے غصے کو کم کر لیتے ہیں . پچھلے تین سالوں میں میں نے پی آئی اے پر آٹھ بار سفر کیا . چار پاکستان سے باہر کے سفر اور چار سفر سر زمین پاکستان کی طرف . پاکستان کی کرپٹ سیاسی مشنری نے جہاں تمام شعبہ جات کا بیڑہ غرق کیا ہے وہیں اس قومی سرمائے کو بھی ” بلڈی پی آئی اے ” بنا دیا ہے . میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ کسی دور میں پی آئی اے میں سفر ایک آسائیش سے کم نہیں تھا . اور پھر بہت سی عرب ائیرلائین کمپنیوں کو کھڑا کرنے میں پی آئی اے کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے مگر آج حالات ایسے ہیں کہ مجبوری میں اور بعض اوقات کوئی متبادل آپشن کی غیر موجودگی میں پی آئی پر ہی سفر کرنا پڑ جاتا ہے . مجھے پی آئی اے کے عملے پر ترس آتا ہے جو پالیسی میکرز کی نااہلی اور کرپشن کے رد عمل میں عوام کی بے رخی کا شکار ہوتے ہیں . خیر وہ پہاڑی زبان کی ایک ضرب المثل ہے کہ ” بڈھے ناں رو کھندولی اپر ” ( بوڑھے کا غصہ بستر پر ) ، مجھے یہ نہیں پتہ کہ اس ضرب المثل کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے مگر ایک بار کسی نے مجھے بتایا تھا کہ کسی بڑی عمر کے ایک شخص نے ایک نوجوان کو مارا ، نوجوان طاقت میں اس شخص سے کمزور تھا اس لیے وہ مار کھانے کے بعد اپنے گھر آیا ، اس نے ایک ڈنڈا لیا اور سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور اس نے اپنے بستر پر ڈنڈوں کی بارش کر دی یعنی بوڑھے کا غصہ بستر پر اتارا۔

اسی طرح پی آئی اے کا عملہ بھی اپنے باسز کی نا اہلی اور اپنے حکمرانوں کے لالچ کی وجہ سے آئے دن عوام کے غصے کا سامنا کرتا ہے . آخر عملہ بھی کیا کرے ، اس وقت جب ملک پاکستان کا ہر حصہ بے یقینی کا شکار ہے اور مہنگائی آسمان سے آفت کی صورت اترتی ہے تو بہت سی باتوں پر ” سمجھوتہ ” کرنا پڑ جاتا ہے . پہلے پاکستانی کامیڈینز “پی آئی اے”کے بارے محافل میں لطیفے سناتے تھے اور عوام ہنستی تھی مگر اب تو اس قومی اثاثے کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔

آپ خود اندازہ کریں ، جس پروڈکٹ یا انڈسٹری پر قومی مہر لگی ہوتی ہے ،وہ قومی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کی حفاظت کی جاتی ہے ، اسے نکھارا اور سنوارا جاتا ہے مگر ہماری بد نصیبی ہے کہ ہمیں تاریخ کے کرپٹ ترین حکمران ملے جو اپنے اپنے خاندانوں کی افزائش میں اس قدر مصروف رہے کہ انہوں نے ملکی خزانوں کو بغیر چبائے ہڑپ کر لیا اور کوئی پوچھنے والا ان سے یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ میاں صاحب ، زرداری صاحب ، ملک صاحب ، چوہدری صاحب ، سردار صاحب ، مخدوم صاحب یا پیر صاحب کہیں گلے میں کچھ اٹک تو نہیں گیا ؟ بعض سیاستدانوں کے کارنامے تو اس قدر شاندار ہیں کہ سوچنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے یہ سب کیسے کیا ؟

صرف “پی آئی اے ” بلڈی نہیں ، آج پاکستان کا ہر محکمہ ، ہر شعبہ ، اور ہر سوچ ” بلڈی” بن گئی ہے . ہر طرف خون آلود مناظر ہیں ،ہر سوچ میں تشدد ہے. یہ فطری بات ہے ،پچھلے دس سالوں میں جس قدر تشدد پاکستان کے عوام نے دیکھا ہے اگر اس کو سامنے رکھا جائے تو عوامی سوچ میں تشدد آنا اس عمل کا حصہ ہے . یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آگ لگے تو فائیر برگیڈ کی کاکردگی کو جانچا جائے بلکہ سکون اور معمول میں بھی ان آلات کی جانچ ضروری ہوتی ہے جن کا استعمال ہنگامی حالات میں کیا جاتا ہے . ہماری قوم کی ٹریننگ شائد ایسے حکمرانوں کے ہاتھوں ہوئی جنہوں نے کبھی بھی سچ نہیں بولا، کبھی بھی پلان بی نہیں بنایا اور کبھی بھی پاکستان کو اپنا نہیں سمجھا۔

ہم سب اپنے اپنے تجربات کی عینک سے حالات کا جائزہ لیتے ہیں ، میں اس وقت پاکستان سے ساڑھے چار ہزار میل دور ، آسمان کی بلندیوں پر اس ” بلڈی پی آئی اے ” میں سوار واپس اپنے گھر کی جانب محو پرواز ہوں کہ جہاں کے حالات آئے روز ہمیں یورپ میں پریشان کر دیتے ہیں. آج کے حالات کو سامنے رکھا جائے تو سچ یہ ہے کہ ” بلڈی پی آئی اے ” کے علاوہ کوئی اور عالمی ہوائی کمپنی پاکستان میں سیدھی پرواز کی سہولت دیتی نہیں ہے لہذا اس لیے تمام خرابیوں کے باوجود اس” بلڈی ” کمپنی کے ساتھ ہی سفر کر پڑجا تا ہے ۔

اس” بلڈی پی آئی اے” کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے مسافروں کی طرح یہ بھی تھک گئی ہے . ایک کیبن کے عملے کے رکن کے مطابق عوامی خواہشات کو پورا کرنے والی حکومتوں نے اس میں اتنے بندے بھرتی کر لیے ہیں کہ کام کم اور بندے زیادہ ہیں ، اب کمپنی چلے نہ چلے عملے کو تو تنخواہ دینی پڑ جا تی ہے یعنی آمدنی ایک روپیہ اور خرچہ پانچ روپے۔ 

پچھلے سال میں اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ فلائٹ کینسل ہو گئی ہے ، مجھے برطانیہ اسی روز پہنچنا تھا اس لیے میں نے احتجاج کیا ، میں نے گراونڈ سٹاف سے شکایت کی کہ انھیں کسی کے فائدے یا نقصان کا احساس نہیں . گراونڈ سٹاف نے مجھے ایک کھڑکی کی طرف بھجوایا اور یہاں یہ شکایت درج کروانے کو کہا . یہاں دو بہت بڑی توندوں والے افسران بیٹھے تھے . بدتمیزی ایک بہت مہذب لفظ ہے ، ان افسران کا برتاؤ ایسے تھا جیسے اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے ساتھ کرتی ہے . میں جس فلائٹ پر جا رہا تھا اس پر بیشتر میرپور آزاد کشمیر کے مسافر تھے اور ان کے ساتھ یہ افسران ایسے بات کر رہے تھے جیسے یہ ان کے غلام ہیں ، خیر ، کہانی لمبی ہو جائے گی اور اگر قصہ کشمیر پاکستان تعلقات کا شروع ہو گیا تو “بلڈی پی آئی اے ” پیچھے رہ جائے گا . میں مایوس تھا ، مجھے ان افسران اور دیگر عملے کا برتاؤ ناگوار گزرا میں نے حکام بالا سے بات کرنا چاہی تو مجھے بتایا گیا کہ :” صاحب راؤنڈ پر ہیں  اور مل نہیں سکتے “. اب میں بھی گھٹنے ٹیک گیا ، میں واپس گراونڈ کے عملے کے پاس گیا اور اپنی مجبوری بتائی ، انہوں نے اپنی کمپنی کی غلطی ماننا تو دور معزرت کرنے کے بجائے مجھے مانچسٹر کی فلائٹ پر ڈال دیا . میں نے پھر سے مانچسٹر سے آگے سفر کے بارے میں استفسار کیا تو مجھے اس “بلڈی” عملے کے رکن نے کہا کہ مانچسٹر میں ہمارے کسٹمر سروس ڈیسک پر جانا وہاں تمہیں ہمارا عملہ ۔کوئی بندوبست کر دے گا ۔

بوجھل دل اور ” بلڈی پی آئی اے ” سے ناراض میں واپس برطانیہ آیا . یہاں نہ کوئی عملہ اور نہ ہی کوئی بندوبست . آگے کی داستان اس پریشانی کا ایک الگ باب ہے مگر میں نے باضابطہ شکایت کا رستہ اپنایا ، ایک ای میل اور ایک ٹیلیفون کال میں میں نے اپنے دکھ کی داستان ” بلڈی پی آئی اے ” کو لکھی اور سنائی مگر مجھے کافی د یر تک کوئی ” بلڈی جواب ” نہیں آیا . پھر ایک روز مجھے پی آئی اے کی ایک ” بلڈی ای میل ” آئی جسمیں لکھا تھا ” ہم نے آپکو نقصان کے ہرجانے کے طور پر پانچ کلو وزن فالتو لے جانے کی اجازت دی تھی اور ہمارے عملے میں کسی نے آپ کے ساتھ بد تمیزی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..” میں نہ رو سکتا تھا اور نہ ہی ہنس سکتا تھا . میں نے خاموشی سے اس ای میل کو تین بار پڑھا اور پھر ڈلیٹ کر دیا . “ہر بار قسم کھاتا ہوں نہ پینے کی اور ہر بار یہ کہہ کر پی لیتا ہوں ” کی تمثیل اس بار میں نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے اب” بلڈی پی آئی اے ” پر سفر نہیں کروں گا . مگر جو کہیں نہیں ہارتے وہ گھر میں ہار جاتے ہیں ، بیگم نے تاکید سے کہا ” میں جاؤں گی تو پی آئی پر ” میں نے پوچھا کیوں ؟ بولی ” مجھ سے جہاز بدلے نہیں جاتے اور پھر نمک مرچ والا کھانا اور کوئی نہیں دیتا “. عجیب لاجک تھا مگر ماننا پڑا . ٹکٹ بک کروایا اور کوئی پا نچ روز پہلے ٹریول ایجنٹ کا فون آیا ، بولا آپکی واپسی کی فلائٹ کینسل ہو گئی ہے ،۔ ” بلڈی پی آئی اے ” کے پاس جہاز نہیں ہے۔

مجھے پہلے بیگم پر اور پھر پی آئی اے پر غصہ آیا . بیگم کے ساتھ کسی قسم کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کا مطلب کشیدہ حالات اور عالمی طاقتوں کی دخل اندازی تھا اس لیے میں نے بھی بوڑھے کا غصہ بستر پر اتارا ، پی آئی اے کسٹمر سروس کو کال کی . ایک خاتون نے کراچی سے فون اٹھایا ، میں نے شدید احتجاج کیا اور وہ سنتی رہی ، آخر میں بولی ” جناب مجھے پتہ ہے کہ آپ اپ سیٹ ہیں مگر میں کچھ نہیں کر سکتی ” میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے ان تمام مسافروں سے ٹکٹ کے پیسے لیے تھے جنہوں نے اس تاریخ کو آپکے ساتھ سفر کرنا تھا ؟ خاتون نے اثبات میں جواب دیا . میں نے پھر پوچھا “اگر آپکے پاس جہاز نہیں تھا تو آپ نے اس تاریخ کے ٹکٹ کیوں جاری کیے ، دیار غیر میں بسنے والے کی زندگی پہلے ہی بہت پیچیدہ ہوتی ہے اسے مزید گھمبیر نہ بنائیں ، یہاں دیرہو جائے تو نوکریاں چلی جاتی ہیں ، سکول جرمانہ کرتے ہیں اور ڈاکٹر دیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں “. خاتون نے جواب نہیں دیا ، خاموش رہی ۔۔۔ جب میرے دل کی بھڑاس نکل گئی تو میں نے ایک انتہائی بے معنی فقرے کے ساتھ کال ختم کر دی۔ ” میڈم مجھے پتہ ہے کہ یہ کال ریکارڈ ہو رہی ہے ، اورمجھے پتہ ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتیں ، میں نے تو صرف احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے یہ کال کی تھی ۔۔۔..”

اس کال کے بعد میں کافی دیر خود پر ہنستا رہا ، مجھے پتہ ہے کہ ” بلڈی پی آئی اے ” کے سامنے احتجاج بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے تو پھر میں نے ناجانے کیوں اس ٹیلی فونک دھرنے کا فیصلہ کیا . سامان پیک کیا اور آج ہزاروں فٹ کی بلندی پر جب میں یہ لکھ رہا ہوں ( ٹائپ کر رہا ہوں ) تو راہداری کے دوسری جانب بیٹھی ایک پٹھان خاتون آدھے سفر کے بعد مجھ سے پوچھتی ہیں ” بھیا یہ جہاز اسلام آباد ہی جا رہا ہے ناں ” … میں نے ہنسی پہ قابو کرتے ہوئے ان کے سوال سے یہ نتیجہ نکالا کہ جیسی روح ہوتے ہیں ویسے ہی فرشتے ہوتے ہیں یعنی جتنا “بلڈی پی آئی اے “ہے اتنے ہی” بلڈی” ہم ہیں .
سفر جاری ہے اور کہانی بھی جاری ہے ۔۔۔۔۔ 

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *