چمت کار

.ارمغان نعیم خان

Chmatkar inner Image_02

درحقیقت   “چمت کار”  ہندی زبان کا لفظ ہے مگر ہمارے ہاں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے لغوی معنی تو” معجزہ” کے لئیے جاسکتے ہیں،مگر تشریحاً و تفصیلاً اس کے معنی جاننے کیلئے کچھ گہرائ میں اترنا پڑے گا۔ ہمارے ناقص مشاہدے کے مطابق لفظ چمت کار کے کویئ ایک مخصوص معنی نہیں ہیں۔ ہر طبقہ ِانسان اس لفظ کے مختلف معنی اخذ کرتا ہے۔

 ایک برہمن کے نزدیک چمت کار تپسیااور گیان کی وہ اعلیٰ ترین کیفیت ہوگی جس پر پہنچ کر کوئ شخص مراقبہ کرتے ہوئے اچانک ہوامیں معلق ہوکر مالاجپنا شروع کردے۔

اگر کسی گوئیے سے چمت کار کی تعریف پوچھی جائے تو غالباً اسے تان سین کا وہ راگ یاد آئے گا جسے الاپ کر وہ شیشے کا ساغر توڑ لیا کرتا تھا۔

جادوگر اس کی مثال اپنے آباؤ اجداد کے ماضی کے کارناموں سے دیں گے،جو حسین شاہزادیوں کے سر میں طلسمی میخ گاڑ کر انہیں سو،دوسوبرس کیلے ئچڑیا بنا کر چمت کاردکھایا کرتے تھے۔تاوقتیکہ شاہزادہ  گلفام آکر انہیں جادوگر کی قید سے نجات دلوادیں۔

جبکہ ایک شعبدہ باز کے نزدیک ہیٹ سے خرگوش برامد کرنا یا کوٹ کی آستین سے حکم کا یکہ نکالنا  چمت کار کی علامت ٹھرے گا۔

عامل درویش بابے چمت کار سے مراد وہ علم لیں گے جو پتھر دل محبوب کو موم کردے یا دلوں کو پھر سے ملا دے۔

اگر کسی پیر سائیں سے چمت کار کی تعریف پوچھی جائے تو شائید ان کے ہاں یہ کوئی ایسا کراماتی تعویز ہوگا کہ جسے گھول کر پینے سے بے اولاد ماں کی گود ہری ہوجائے ۔

حکیم سنیاسی باوا اس سے مراد ایک ایسی پُڑی یا پھکی سے لے گاجسے کھا کر دائمی قبض ٹوٹ جائے اور مریض بھلا چنگا ہو جائے ۔

جبکہ ایک سیدھاسادہ دیہاتی جس کی سوچ کا محور کھیت کھلیان اور مال مویشی تک محدود ہوتا ہے، اس سے مراد ایسی دوا سے لے گا کہ جسے کھلانے سے اس کی بھینس دوگنا دودھ دینے لگے۔

          سو یوں چمت کار کی سینکڑوں تشریحات پیش کی جاسکتی ہیں۔ اب ذرا آئیے ایک عام آدمی کی جانب،کہ اس کے نزدیک چمت کارکی کیا تعریف ہے۔عام آدمی کے مسائل ہیئت میں کافی بڑے ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کو ہوا میں معلق ہو کر مالاجپنے، راگ الاپ کرساغر توڑنے،طلسمی میخ گاڑکرچڑیا بنانے،ہیٹ سے خرگوش یا آستین سے حکم کا یکہ برامد کرنے،پتھر دل محبوب کو موم کرنے،بے اولاد ماں کی گود ہری کرنے، دائمی قبض توڑنے اور دوگنا دودھ حاصل کرنے جیسے چمت کاروں سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ عام آدمی کیلئے تو چمت کار جب ہو گا،کہ جب اسے پیٹ بھر کر روٹی ملنے لگے، جب اسے بضرورت پانی اور بجلی میسر آنے لگے،جب اس کے پاس رہائش وزیبائش کے خاطرخواہ سامان موجود ہوں،جب اسے روزمرہ بنیادی استعمال کی اشیاء ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوں،جب اس کے بچوں کوحکومتی اسکولوں میں معیاری تعلیم ملے، جب وہ اپنے ضعیف والدین کاسرکاری اسپتالوں سے تسلی بخش علاج کروا سکے، جب اس کے شہر اور گلیاں صاف ستھری،غلاظت وتعفن سے پاک ہوجائیں، جب وہ بلا خوف و خطر رات گئے مظافاتی سڑکوں پر سفر کرنے لگے، جب حکومتی اداروں اور اہلکاروں پر اس کا اعتماد بحال ہونے لگے،جب اسے اپنے گھر کی دہلیز پر انصاف ملنے لگے،  وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔

          اب ہمیں اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بھائی ، پاکستان میں تو یہ سب کچھ صرف چمت کارسے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ چلئے ، ذرا کچھ ماضی کے دروازے کھولتے ہیں۔ 2008ء کے عام انتخابات ہوئے ۔ عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ وہ سمجھے کہ اولیاء اللہ کی پاک سرزمین ملتان شریف سے سائیں سید زادے کی بابرکت سرکار آئی ہے، اب تو بھاگ لگیں اور اللہ کی رحمت برسے ہی برسے۔ سائیں سید زادہ چمت کاردکھائے گا اور مسا ئل ایسے ختم ہوں گے کہ جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ پھر اس حکومت کو ایک برس بیت گیا۔چمت کار تو خیر کیا ہونا تھا، الٹا پوری قوم ہوا میں معلق ہو کر ’ہری اوم‘ کے بجائے’ہائے بجلی‘، ’ہائے مہنگائی ‘ کی مالائیں جپنے لگی۔پھر چند روز مزید گزرے تو قوم یکایک پھر ایک نئے چمت کار کے خواب دیکھنے لگی ہے۔ وہ کچھ ایسا سمجھنے لگے ہیں کہ جناب چیف جسٹس صاحب کی بحالی کے بعد شائد وہ طویل المتوقع چمت کار رونما ہوا ہی چاہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب چیف جسٹس صاحب کی بحالی کا عمل بذاتِ خود ایک چمت کارہی تو تھا،مگر اب ایسا بھی نہیں ہے کہ آئے روز چمت کاررونما ہونے لگیں۔

          یوں بہت کچھ بیت گیا۔ زلزلہ، سیلاب، قحط سالی، دہشت گردی، لاقانونیت، بیروزگاری، اقربا پروری، طالع آزمائ،  لوٹ کھسوٹ،  ٹیلنٹ کی ناقدری ، بے انتہا کرپسن وغیرہ وغیرہ جیسے بہت سے امتحانات سے گزرنا پڑا، حتیٰ کہ 2008 ء   والی حکومت بھی ختم ہو گئی مگر اس چمت کار کو نہ رونما ہونا تھا نہ ہوا۔ چمت کار کے منتظر بیچارے عوام سیاسی رسہ کشی اور سیاسی پارٹیوں کے دعوؤں کے مابین نئی حکومت کو نئے امتحانات دینے کیلئے کمر کس کر کمرہِ امتحان میں جا بیٹھے۔

          خداجھوٹ نہ بلوائے ، اب تو یہ عالم ہے کہ کم آمدنی اور مہنگائی چکی کے دو ایسے پاٹ بن چکے ہیں کہ جن کے درمیان غریب تو غریب، متوسط طبقہ بھی پساِ جارہا ہے۔ خدالگتی کہیں تو صاحب ہمیں تو کوسوں دور یہ چکی بند ہوتی نظر نہیں آتی۔اب اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ہی چمت کار دکھائیں تو شائید مسا ئل کی یہ بیل منڈھے چڑھے،ورنہ بات اب مرشدوں،شاہوں، پیروں، فقیروں  کے بس سے باہر ہوچکی ہے۔

          دراصل اس میں قصور عوام کا نہیں ہے۔ وہ بیچارے اس حدتک عاجز اور نا امید ہو گئے ہیں کہ ذرا سی امید بھی ان کو اندھیری غار میں روشنی کی کرن معلوم پڑتی ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شائد مایوسی کا سفر ختم ہونے کو آیا۔ پھر یکلخت اچانک ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ روشنی نہیں تھی، یہ توایک جگنو تھا جو چند پل روشنی بکھیر کر چلتا بنا۔ چمت کار کے منتظر وہ بیچارے نئے سرے سے روشنی کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔

          صاحب صاف بات یہ ہے کہ اب بھی کوئی چمت کار ہونے والا نہیں۔ جہاں برس ہا برس سے اندھیروں کا راج ہو وہاں بھلاایک جگنو کیا اُجالا کرے گا۔ مگر پندونصا ئح کے حوالے سے یہ بھی یاد رہے کہ مایوسی گناہ ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید نہیں ہونا چاہیے ۔ ہمیشہ بڑے بڑے کاموں کیلیئ انسانوں کو ہی وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ کیا عجب اب کے مشیتِ ایزدی میں ایسا ہی ہونا مقصود ہو۔ہمیں  چاہیے  کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور بہتری کی دعا کریں اور حکیم الامت کا یہ قول یاد رکھیں۔

                   ؎                 پیوستہ رہ شجر سے امیدِبہار رکھ

Armughan Naeem Khan, Blogger with theweeklypakistan.com

The writer is a seasoned writer, poet, lyricist and analyst.

He can be contacted through email: armughannaeemkhan@yahoo.com or Twitter@armughannaeemkhan

5 thoughts on “چمت کار

  • June 27, 2016 at 2:39 pm
    Permalink

    The writer Naem Armaghun has develved on topic of dormance in current political situation of Pakistan under one word of CHAMATKAR in a very interesting and unique way. I fully agree that no ray of hope is visible in political leadership of Pakistan for time to come

    Reply
  • June 27, 2016 at 6:36 pm
    Permalink

    A good article writer by Armughan…chamatkar is not possible due to dishonest leadership ..we should not expect karaamaat from third class politicians…

    Reply
  • June 27, 2016 at 7:35 pm
    Permalink

    A good article which encompasses the Magic or Chamatkar we are expecting from our Rulers. The rulers should think that History will not spare them if they do not make beneficial/Long Term decisions for the Public they are ruling today. Their mind should not be restricted on small objectives but cater for Public Interest First and ALWAYS in their mind.

    Reply
  • June 27, 2016 at 7:56 pm
    Permalink

    very nice article written and ending lines give the crucks of the message. In our situation the Chamatkar is in our hand but we rely on some1 else to do that for us. Seek Allah help and struggle urself. When 18 crore inmate of the country struggle and work for themselves then the espected and dream of Chamatkar will happen otherwise Chamtkar will remain Chamtkar and we will remain as we are.
    Wajahat Hussain

    Reply
  • June 28, 2016 at 3:22 pm
    Permalink

    Beautifully written article on recent situation but I’m sure Noon league wouldn’t like it .Anyway keep doing jihad bilqalm.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *