مقبوضہ کشمیر میں بگڑتے حالات-پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

بھارت کے زیر تسلط کشمیر المعروف مقبوضہ کشمیر ،ہمیشہ سے پاکستان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ہماری داخلہ پالیسی ہو یا خارجہ پالیسی، الیکشن مہمات ہوں یا ایوانوں کی بحث، کشمیر دہائیوں سے اس روزمرہ کاروبارِ حکومت کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ شاید دنیا کی واحد سٹوری ہے جو 1947آزادی کے وقت سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ بھارت نے جموں کشمیر کو، اٹوٹ اٹنگ کا نام دے رکھا ہے جبکہ پاکستان نے اس بابائے قوم قائد اعظم سے منسوب کرکے پاکستان کی شہ رگ مانا ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے آبی ذخائر اور دریاوں کے ماخذ پاکستان کی بقا اور ترقی کے ضامن ہیں، شاید اسی لیے پاکستانی حکومتیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے نظریں نہیں بچا سکتیں۔

پچھلے ایک دہائی سے مقبوضہ کشمیر اور وہاں اُٹھنے والی آزادی کی تڑپ تقریباً سو چکی تھی اور بھارتی قدرے سکون محسوس کررہے تھے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ چنگاری دب ضرور گئی ہے مگر ختم نہیں ہوئی۔ اسی گزشتہ دہائی میں بھارت نے بہت سے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا، دریاوں کے رخ  موڑے، نئے ڈیم دھڑا دھڑ بنا ئے اور ماحولیاتی حملہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک خاص علاقے سے جنگلوں کا صفایا کرنا شروع کیا جس کا براہ راست اثر پاکستان کے شمالی علاقوں پر پڑنا شروع ہوگیا۔ جبکہ کے پاکستان اور اس کی “جموری بمعہ ڈکٹیڑ” حکومتیں سوتی رہیں۔

مگر اچانک 8 جولائی 2016 کا دن ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن کر اُبھرا۔برہان مظفر وانی جو کہ برہان وانی یا کمانڈر وانی کے نام سے مشہور تھے انہیں بھارتیوں نے شہید کردیا۔ برہان وانی جو چند سال پہلے ایک سکول کے پرنسپل تھے اچانک مجاہد بن گئے اور پھر پاکستان سے محبت اور بھارتی تسلط سے آزادی کی یہ رفاقت 8 جولائی کی شام 6.15 بجے تک چلتی رہی تاوقت کہ سانس کی ڈوریں ٹوٹ گئیں۔ ایک کہاوت مقبوضہ کشمیر میں بہت مشہور ہے، ایک باپ نے کہا تھا کہ ایک مجاہد کی زیادہ زیادہ عمر 7 سال ہوتی ہے جبکہ مظفر وانی کی مجاہدانہ عمر 6سال تھی۔برہان وانی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا اور پوری وادی میں اب “پاکستان زندہ باد” کے نعرے گونج رہے ہیں۔

برہان اور ان کی ساتھیوں کی ہلاکت کے فوری بعد آزادی کی یہ تحریک یکایک زور پکڑ گئی۔ مظاہرے، حملے شدت اختیار کرگئے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق 42 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، 60 سے زائد فوجی چوکیوں پر حملوں کے اطلاعات ہیں۔

ایک طرف پر تشدد مظاہرے ہیں تو دوسری طرف عالمی سطح پر بھی بھارت کے اس رویے پر اسے آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے، بانکی مون کا بیان، جرمنی سمیت دیگر ممالک نے اپنے تحفظات کا شدید الفاظ میں اظہار کیا ہے۔ اور تو اور خود بھارت کے اندر ان مظالم کے خلاف آواز اُٹھنا شروع ہوچکی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے استعمال کو غلط قرار دے دیا ہے۔ منگل کے روز سپریم کورٹ آف انڈیا کے تین رکنی بنچ نے طاقت کے استعمال پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا  کہ متنازعہ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور اس کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے حالات میں آنے والی حالیہ تبدیلی کا بظاہر فائدہ پاکستانی مفادات کو ہوتا نظر آرہا ہے اسے لیے بھارت نے فوری طور پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی ہے۔اور سرحد کے دونوں پار بیانات کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ پاکستان نے بھی بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ بلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ بھارت نے پاکستان کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے۔

حالانکہ خود بھارت کو معلوم ہے کہ اس کے اپنے قانون کی دفعہ 370 کے مطابق جموں کشمیر ایک خود مختار ریاست ہے، بھارت کو وہاں آزاد وزیر اعظم، صدر، الیکشن کمیشن اور دیگر حکومتی سسٹم رائج کرنا تھا جو کہ آج تک نہ ہو سکا۔ جبکہ اقوام متحدہ کی 25 سے زائد قراردوں کے تحت استصوابِ رائے پر عمل کرنا ہنوز باقی ہے۔

آج  اگر15 سال پہلے کے حالات پر نظر دوڑائی جائے تو سب کو یاد ہوگاکہ 11/9 حملوں کے بعد کس طرح بھارت نے امریکہ کو مدد کی پیش کش کی تھی تاکہ پاکستان کو دہشتگرد ریاست قرار دلو ا کر دیوار سے لگا دیا جائےاور آج حالات بھارت کے خلاف کروٹ لے رہے ہیں اور شاید قدرت کے انصاف کا وقت آچکا ہے۔

اگر محتاط طور پر دیکھا جائے تو آج کھیل پاکستان کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے- پاکستانی حکومت، ریاست اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ وقت کے نزاکت کو سمجھتے ہوئے نہایت تیزی سے اقدامات اور فیصلے کریں، خود پاکستانی میڈیا کو بھی کشمیر کاز کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج وقت آچکا ہے کہ پی ٹی وی سے شام پانچ بجے کاکشمیر ٹائم پروگرام اور 5.30 بجے کشمیری زبان میں بلٹین پیش کرنے سے کچھ زیادہ کام کرنا ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو ز بانیں “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگاتے نہیں تھکیں ان کی آواز میں آواز ملانے کا وقت آچکا۔

The writer is Islamabad based and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

One thought on “مقبوضہ کشمیر میں بگڑتے حالات-پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

  • July 15, 2016 at 1:04 am
    Permalink

    100% agree humen bhi kmaz km musalman hoty huay bhaiyon k sath khara hony ka waqt aa gya hy is sy pehly shayd hum saoy huy thy

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *