لاہور میں بچوں کا اغواء اور سی پیک منصوبہ

پچھلے دو ہفتوں سے میڈیا کی بریکنگ نیوز کا محور لاہور سمیت پنجاب بھر میں بچوں کا اغوا بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن کے نمائندوں کے لیے سنہری موقع کہ وہ حکومت پر سیاسی تیر برسا سکیں جبکہ حکومت اوراس کے زیر سایہ ادارے حسب معمول بیک فٹ پر جاکر وضاحتیں پیش کئے جارہے ہی۔

اغواء خصوصاً بچوں کا اغواء یقیناً نہایت تشویش ناک امر ہے مگر جرائم کے دیگر قسموں کی طرح اسے بھی روکا جانا دنیا بھرمیں ناممکن ہے ۔ حالیہ واقعات کا روٹین کا معاملہ ہے یا کچھ غیر معمولی حالات اور غیر محسوس ہاتھ اس میں ملوث ہیں اس پر بات کرنے سے پہلے کچھ اعداد شمار پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔

سب سے پہلا کردار جو کسی بھی خبر کو “پٹی”یا “خبر” یا پھر “بریکنگ نیوز” بناتا ہے وہ ہے میڈیا  جس کے لیے کسی بھی خبر کو ٹریٹ کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی فارمولا ہے اور وہ ہے بھیڑ چال، ادھر کسی میڈیا نے کسی بھی خبر کو بریکنگ نیوز بنایا ادھر سب کے سب اس کے پیچھے بھاگنے لگے۔  حیران کن امر ہے کہ کس ڈھٹائی سے ہر میڈیا چینل یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے یہ خبر انہوں نے دی اور سامعین حیران اور پریشان ہاتھ میں ریموٹ پکڑے چینلز گھما گھما کر دیکھ رہے ہوتے کہ اصل میں سچ مچ کس نے یہ خبر بریک کی۔ مگر یہ سچ مچ کا معمہ آج بھی معمہ ہی ہے۔

Child kidnapping in Punjab

ہمارے ہاں میڈیا الفاظ کا استعمال بھی بغیر سوچے سمجھے استعمال کرتا نظر آتا ہے، گم ہوجانے والے بچوں کے لیے سیدھا لفظ “اغواء” استعمال کیا جاتارہا جبکہ مناسب لفظ “لاپتہ” تھا اور اس طرح کی غیر سنجیدہ رپورٹنگ کی وجہ سے عوام میں اضطراب پیدا ہوتا ہے جو شاید ہمارے میڈیا فرض عین ہے

اب چلتے ہیں ریسرچ کی طرف، اعداد شمار کہتے ہیں کہ پچھلے 6 سالوں میں جتنے بچے گمشدہ رپورٹ ہوئے ان میں سے 90 فیصد سے زائد کو ڈھونڈ  لیا گیا، حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیادہ تر بچے وہ تھے جوراستہ بھول جانے کی وجہ سے گم ہوئے یا گھر سے بھاگ گئے۔ رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ پچھلے 6 سالوں میں 6793 بچے گم ہوئے جن میں سے 6654 مل گئے جب کہ 139 بچے ابھی تک لاپتہ ہیں۔ سب سے زیادہ بچے سن 2011 میں لاپتہ ہوئے جن کی تعداد 1272 تھی جن میں سے 1264 کو ڈھونڈ نکالا گیا، اسی طرح سن 2012 میں 1260 بچے گم ہوئے جن میں سے 1156 مل گئے۔سال 2013 میں 1156 بچوں میں سے 16 نہیں مل سکے۔اسی طرح سال 2014 میں 1203 بچوں کی گمشدگی کے مقدمات درج ہوئے جن میں 1185 کو ڈھونڈ نکالا گیا ، سن 2015 میں 1134 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں سے 1093 بچے مل گئےاور اسی طرح موجودہ سال کے پہلے 7 مہینوں میں 767 بچے لاپتہ ہوئے جن میں سے 715 اپنے گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔

بچوں کے اغواء یا گمشدہ کے واقعات کا جائزہ کسی بھی ترقی یافتہ یا ہمسایہ ممالک سے لگایا جائے تو ہر جگہ کم و بیش اس ہی قسم کے اعداد وشمار ملیں گے سوائے ان ممالک کے جہاں بے لگام میڈیا نے “گمشدگی “کی خبر کو  بریکنگ نیوز  میں اپ گریڈ کرنے کے لیے  “اغواء”  بنا دیا ہو۔

ابھی ہم کچھ اعداد وشمار پر نظر ڈالتے ہیں جو نہایت چشم کشا ہ ہیں،  میں آپ کو ایک روپورٹ کا حوالہ دیتا ہوں جو ابھی جولائی 2016 میں شائع ہوئی۔ جس کا عنوان ہے 

Missing children in Southeast Asia – Regional review

یہ رپورٹ انٹرنیشنل سینٹر  فار مسنگ اینڈ ایکسپلاٹڈ چلڈرن نے تیار کی ہے،

 اس رپورٹ کے چند حصے ملاحظہ کریں

۔۔ آسٹریلیا میں ہر سال  20،000 بچے  گمشدہ ہوتے ہیں

۔۔ کینڈا میں 45،288 اور جرمنی میں ایک لاکھ بچے گمشدگی کی رپورٹس ہیں

۔۔ بھارت میں ہر سال 70،000 بچے غائب ہوتے ہیں

۔۔۔ اور۔۔ اور۔۔ اور امریکہ بہادر میں ہر سال 460،000 بچے غائب ہوتے ہیں یعنی تقریباً 1260بچہ روزانہ اور ہر منٹ میں ایک بچہ غائب

اعداد وشمار کا یہ گورکھ دھندا اس قدر وسیع ہے کہ اس پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں ہونے والے حالیہ واقعات کا مقصد بھی کچھ اور ہے اور نشانہ بھی کچھ اور۔

اب چلتے ہیں حالیہ واقعات اور اس کے ایک خاص “نشانے” کی طرف، اگرچہ ہم نے اعداد و شمار اور دنیا کے تناظر میں دیکھا کہ بچوں کے اغواء کا معاملہ اس قدر خوفناک نہ ہے جتنا سرخ رنگ اس میں میڈیا کی بریکنگ نیوز نے بھر دیا ہے۔ اس کا مقصد آخر کیا ہے؟ کونسے عناصر اس سے کیا فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اصل امر یہ ہے۔

بچوں کا اغوا، قصور میں سینکڑوں بچوں کے ساتھ زیادتی، یہ ایسی ہی خبریں ہیں جو پچھلی دہائی میں ہتھوڑا گروپ کی خبروں کی   شکل میں نظر آتی تھیں۔ مگر سب کی معلوم ہےکہ نہ تو ہتھوڑا گروپ نظر آیا نہ گرفتار ہوا، مقصد واضح تھا کہ صرف افوہیں پھیلانا۔

موجودہ خبر کا مقصد صرف اور صرف ایک ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے اور وہ ہے دشمن کی  غیر روائتی جنگ۔  دنیا کا ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ اور دوسرے ممالک پر معاشی اور سیاسی دباؤ بنائے رکھنے میں کوشا ں ہے۔ چونکہ دنیا سے روائتی جنگوں کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے مگر اب ساری دنیا غیر روائتی جنگ یعنی پراکسی وار کا شکار ہے۔

ہم سب متواتر دیکھ رہے ہیں کہ جب سے پاکستان میں چائینہ کے تعاون سے سی پیک کا منصوبہ  آیا ہے اسی وقت سے ملک میں غیر روائتی جنگ کے تمام محاذوں پر تیزی آچکی ہے۔ دشمن جس کو ہمارے بہت سے “اتحادیوں” کی بھی ایما ہے وہ پوری قوت سے  با آوز بلند رام رام پکار رہا ہے جبکہ اس کی بغل کی چھری متواتر وار کر رہی ہے۔

حالیہ اغواء کی خبروں کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور سیکورٹی ادارے یقیناً ان ہی راستوں پر کام کررہے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ وارداتوں کی تعداد اورتسلسل اس قدر نہیں ہے جس قدر ہمارا میڈیا اس “کار خیر” میں حصہ ڈال رہا ہے۔  

ابھی بھی وقت ہے کہ خبر کو خبر ہی رہنے دیں اس میں مرچ مصالے ڈال کر تیز سرخ آنچ پر اسے بریکنگ نیوز  نہ بنائیں۔ میڈیا اور ایسے دوسرے عناصر ہوش کے ناخن لے لیں ورنہ تاریخ اور عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

One thought on “لاہور میں بچوں کا اغواء اور سی پیک منصوبہ

  • October 9, 2016 at 8:40 am
    Permalink

    Ye sub bakwas ker rahy ho ap apko haqaiq pata hain
    Ap samjhty ho k apka khaliq maalik or raaziq nawaz sharif ha tu ap ghalt samjhty hain

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *