دو ریل گاڑیاں

(ارمغان نعیم خان)

اگست کا مہینہ ہو اور آزادی کی بات نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے، اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پورے ملک میں جشن آزادی کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ آزاد ہوا میں سانس لینا اور آزاد ملک میں رہنا ایک ایسی نعمت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر بھی شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے اس کا جواب کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں سے پوچھو جو پچھلے ستر برسوں سے آزادی کی خاطر بھارتی فوج کے ہاتھوں اس قدر ظلم و ستم کا شکار ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر اپنے وطن کی اہمیت کا پوچھنا ہے تو فلسطین والوں سے پوچھو جو پچھلے اٹھاسٹھ برسوں سے ان کی اپنی ہی سر زمین پر مٹھی بھر زمین پر رہنے پر مجبور ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ آزادی نعمت ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے لیے قوموں کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔ آزادی قربانی مانگتی ہے۔ جان کی قربانی، مال کی قربانی، رسوم و رواج کی قربانی، اپنے پیاروں کی قربانی۔ جس نسل نے پاکستان حاصل کیا اس نسل نے اس کے حصول کے لیے بے پناہ قربانی دی۔

          ہم میں سے اکثر لوگ اسلام آباد کے ریلوے اسٹیشن نے ناواقف ہیں۔ اسلام آباد کا ریلوے اسٹیشن اسلام آباد کے سیکٹر۔آئی ۹ میں واقع ہے جو کہ دالحکومت کاصنعتی علاقہ ہے۔ 11 اگست 2016ء کے روز اسلام آباد ریلوے اسٹیشن پر آزادی ٹرین کا افتتاح منعقد ہوا۔ یہ ٹرین پچھلے تین سالوں سے پاکستان ریلوے، وزارتِ اطلاعات، فوج، نیوی، ائیر فورس، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے تیار کی جاتی ہے۔ تمام متعلقہ ادارے دن رات کی محنت سے پاکستان ریلوے کیرج فیکٹری اسلام آباد میں اس ٹرین کو تیار کرتے ہیں۔ اسلام آباد اسٹیشن پر افتتاح کے بعدیہ  ریل گاڑی پشاور کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔ پشاور سے پھر یہ ریل گاڑی ملک بھر کی طوالت طے کرتے ہوئے کراچی تک جاتی ہے۔ اس پورے سفر کے دوران یہ ریل گاڑی جہاں جہاں سے گزرتی ہے، اس کی سجاوٹ، تصاویر اور بلند آواز نشر ہونے والے ملی نغمے ہر سننے والے کے دل کو جذبہ آزادی اور جذبہ حب اوطنی سے گرماتے جاتے ہیں۔ جب میں اسلام آباد ریلوے اسٹیشن پر قدم رکھتا ہوں جہاں کچھ دیر بعد آزادی ٹرین کا افتتاح ہونا تھا، تو مجھے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد پلیٹ فارم پر نظر آتی ہے۔ ٹرین پر نصب طاقتور لاؤ اسپیکر اسلام آباد کی فضاء کو استاد امانت علی خان کی پرجوش آواز میں ”اے وطن پاک وطن“ کی سداؤں سے گرما رہے تھے۔ اس ریل گاڑی کو دیکھ کر اپنے اندر کچھ جوش، ولولہ سا اٹھتا محسوس ہوا، بلا شبہ تمام ادروں نے ریل گاڑی کو مزئین کرنے میں بڑھ چڑھ کر کام کیا تھا۔ جیسے جیسے میں پلیٹ فارم پر اس گاڑی کی بوگیوں کے ساتھ ساتھ چلتا گیا۔ ویسےویسے  مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے میں وطن عزیز کی باقاعدہ سیر کر رہا ہوں۔ پاکستان کے تمام صوبوں کی ثقافت اور طرز زندگی کی خوبصورت عکاسی کے علاوہ پاکستان کے دفاع کی ضامن پاکستان کی بری، بحری اور ہوائی افواج یعنی پاکستان آرمی، نیوی اور ائیر فورس کی بھر پور نمائندگی بھی موجود تھی۔ میں نے نہایت عقیدت و احترام سے ان شہداء کی تصاویر پر نگاہ ڈالی جنہوں نے دفاع وطن عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔بے اختیار میرے ذہین میں اندلس کا میدان جنگ اور طارق بن زیاد کی دعا گونجنے لگی۔

                             ؔ       شہادت ہے مطلوب و مقصود ِ مومن

                                       نہ    مالِ   غنیمت   نہ   کشور   کشائی

          اسی طرح سے کشمیر کی تحریک آزادی کو اس تحریک کے شہداء کی تصاویر سے اس انداز میں سجایا گیا تھا کہ بھارت کے ظلم و ستم کی درست عکاسی ہو رہی تھی۔ اسی رنگا رنگ ماحول، جوش جذبے اور زبر دست عوامی پذیرائی کے ساتھ کچھ دیر میں یہ ریل گاڑی اسلام آباد ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی ۔ ادھر ریل چلی، اُدھر لوگوں نے اپنے اپنے گھروں کا رخ کیا۔ کہانی ختم پیسہ ہضم، مگر میں ریل گاڑی کو دور تک دیکھتا رہا۔ حتیٰ کہ پہلے تو ریل گاڑی کی آواز غائب ہو گئی پھر کچھ دیر بعد پوری ریل گاڑی ہی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ میں پھر بھی اسی جگہ کھڑا رہا۔ میرا ذہن ماضی میں جا چکا تھا۔ 1947ء لاہور ریلوے اسٹیشن۔ وہ بھی ایک ریل گاڑی تھی۔ فرق صرف یہ کہ آج کی ریل گاڑی اسٹیشن سے روانہ ہوئی بھی جبکہ 1947ء والی ریل گاڑی ریلوے اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہجرت کر کے پاکستان آنے والے،ہاجرین کی ریل گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم کے قریب آرہی تھی۔ مہاجرین کے استقبال کیلئے اعلیٰ عہدیدار، فوجی دستے اور عوام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ایک جانب فوجی بینڈ دھنیں بکھیر رہا تھا۔ ریل گاڑی اپنے مخصوص انداز میں آکر پلیٹ فارم پر رُک گئی۔ عجیب اتفاق تھا کہ ریل گاڑی سے نہ تو کوئی مسافر نیچے اترا، نہ ہی کوئی مسافر ریل گاڑی کی بوگیوں میں بیٹھا نظر آرہا تھا۔ یہ عجیب اتفاق تھا ورنہ اس گاڑی کو تو مہاجرین سے کھچاکھچ بھرا ہوا ہونا چاہئیے تھا۔ چند لمحوں بعد جب کچھ لوگوں نے ریل گاڑی میں داخل ہوکر اندر کا حال دیکھا تو ایک نہائیت ہولناک منظر ان کا منتظر تھا۔ پوری ریل گاڑی ہجرت کرکے پاکستان نے والے مسلمانوں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہ وہ بد قسمت مسافر تھے جو اپنا گھر بار اور مال اسباب چھوڑ کر پاکستان کیلئے روانہ ہوئے تھے مگر راستہ میں ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم کا شکار ہوئے۔ ان ظالموں نے بِلا تفریق مرد، عورت، معصوم بچوں سب کو تہہِ تیغ کر ڈالا۔

یہ تو ایک ریل گاڑی کی داستان ہے جو آج کی آزادی ٹرین سے یکسر مختلف تھی۔آج کی آزادی ٹرین بھرپور آب و تاب اور سج دھج کے ساتھ خیبر سے کراچی تک آزادی کا پیغام پہنچا رہی ہے،مگر 1974ء والی گاڑی میں خوف و ہراساور موت کے سائے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ نہ جانے ایسی کتنی ریل گاڑیاں اور کتنے قافلے تھے جو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ آزادی کی قیمت تھی جو قوم کو ادا کرنا پڑی۔

          آزادی بیٹھے بٹھائے نصیب نہیں ہوتی۔ ہم ان گمنام شہداء کو جانتے تو نہیں، نہ ہی ہم ان کے ناموں سے واقف ہیں، مگر آج ہم ان لوگوں کو تہہِ دل سے سلام پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت ہم آج آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا احسان ہے جس کی ہم کسی صورت قیمت نہیں چُکا سکتے۔

 

Armughan Naeem Khan, Blogger with theweeklypakistan.com

The writer is a seasoned writer, poet, lyricist and analyst.

He can be contacted through email: armughannaeemkhan@yahoo.com or Twitter@armughannaeemkhan

2 thoughts on “دو ریل گاڑیاں

  • August 15, 2016 at 12:09 pm
    Permalink

    Mind blowing comparison. The way you expressed the real meaning of “Azadi” is quite impressive.

    Reply
  • August 18, 2016 at 4:05 pm
    Permalink

    Awesome !!
    I literally Shivered having read the comparison made this beautifully. .. remind me of Alakh Nagri !!
    The journey hasn’t ended , still more to go … still more to achieve. .. still need to protect the lives , This time from The religious fanatics & Economic terrorists of this side of The border !! What will galvanize the otherwise napping NAP & slumbering government! !
    Ahh .. Got distracted ..
    Its an Amazing piece overall !!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *