بے وقت مٹھائیاں اور ’’اگر‘‘۔۔



(شرجیل فاروق)

تذکرہ ہے عظیم کھلاڑی اور نیم سیاست دان عمران خان کا ‘ایک دہائی لگاتار کپتانی کے بعد92ء کا ورلڈ کپ ایک سیلاب کی مانند آیا اور آتے ہوئے عظمت بہا لایا‘وہ عظمت کا لبادہ ایک کھلاڑی نے پہنا تو ماضی کی تمام غیر نصابی سرگرمیاں وقتی طور پر اس تلے دفن ہوگئیں ‘شہرت و عزت خان صاحب کے قدم چومنے لگیں ‘شوکت خانم کینسر ہسپتال کا بیڑہ اٹھایاتوپاکستانی عوام سمیت دنیا بھر کے درد دل رکھنے والوں کے مال و متاع نے بھی کوئے یاراں کا رخ کرلیا‘ہسپتال بن گیا ‘فتح در فتح کا ماحول پیدا ہوگیا‘96ء میں مزید ملکی خدمت کرنے کا خیال آیا تو اپنی پارٹی بنا ڈالی ‘ 97ء کے الیکشن میں ورلڈ ریکارڈ بنایا کہ ایک پارٹی لیڈر بیک وقت جتنے حلقوں سے مقابلے میں اترا‘تمام کے تمام میں ہار گیا‘وقت گزرتا گیا کیونکہ وقت گزرتا ہی چلا جاتا ہے‘ 99 ء کا مارشل لاء لگا اور خان صاحب کو شیروانی پہننے کا خیال آگیا‘ مشرف کے غیر قانونی و غیر آئینی حق حکمرانی کو جب ریفرنڈم کی خلعت عطا کئے جانے کا اعلان ہوا تو خان صاحب حمایت کرنے والوں میں سر فہرست تھے ‘ مگر چوہدری برادران سیاست دان تھے وہ شیروانی اچک کر اقتدار کی راہداریوں میں گوشہ نشین ہوگئے ‘نتیجہ یہ ہوا کہ خان صاحب کو مشرف کی اسمبلی میں پانچ سال ’’مجرد ‘‘زندگی گزارنی پڑی ‘خدا خدا کرکے 2008ء کا الیکشن ہوا اور کھلاڑی میدان میں نہ اترا‘پیپلز پارٹی کا طرز حکمرانی ’’بلے ‘‘کا بھلا کرگیا ‘اس بھلے کے پیچھے کارفرما عوامل کا ذکر آگے چل کر ہوگا‘خیر خان صاحب کی پارٹی میں جان پڑ گئی ‘صاف شفاف چلنے والوں کے لئے فرشتوں کی تلاش مشکل تھی اس لئے اپنی ہی پارٹی کو لانڈری قرار دیتے ہوئے پارٹی میں آنے والوں کو شفافیت کی مہریں داغنے کا سلسلہ شروع ہوا اور 2013ء کے الیکشن میں جتنی توقع کی جارہی تھی اتنی ہی کامیابی پارٹی کے کھاتے میں درج ہوگئی ‘ اور تو اور خیبر پختونخوا میں اقتدار کا ہما بھی سر پر آبیٹھا‘تبدیلی کے نعرے میں جان پڑتی نظر آئی ‘ووٹروں کو کچھ امید ہوئی کہ اب خیبر پختونخوا میں بلند بانگ دعوے کرنے والے ایسی حکمرانی کریں گے کہ تاریخ لکھنے کو سنہری حروف کم پڑ جائیں گے ‘وزارت اعلیٰ کیلئے خان صاحب کی نظر انتخاب جاٹھہری کئی منزلوں کے تھکے ہوئے اور کئی راستوں کے لٹے ہوئے پرویز خٹک صاحب پر‘حکمرانی کا تو معلوم نہیں لیکن ایک کہانی ضرور اس کے بعد شروع ہوئی جوابھی تک جاری ہے‘خیرایک سال گزرنے کو آیا ‘ 4حلقو ں سے بات شروع ہوئی اور خان صاحب کی رگ احتجاج پھڑکنی شروع ہوئی ‘ عوام کا جم غفیربھی اب خان صاحب کی ایک آواز پر’’ملک بند‘‘کرنے کو تیار تھا‘اگست 2014ء میں خان صاحب بمع سیاسی کزن (طاہرالقادری)اسلام آباد کی سونی گلیوں میں رونق لگانے بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ سیاسی نعروں‘الزام تراشیوں ‘دھمکیوں ‘غیر شائستہ جملوں اورماضی کے دشمن مگر اس وقت کے حواریوں سمیت آن بیٹھے ‘ پھر کیا کیا نہ ہوا‘ کیسے کیسے لوگوں نے کیسی کیسی زبان استعمال نہ کی ‘ بھرے مجمعے سے خالی کرسیوں تک خان صاحب نے خطاب کیا‘وزیر اعظم کے استعفے سے شروع ہوئے ‘سول نافرمانی کا درس دیا‘ہنڈی کے استعمال اور سرکاری بینکوں کو خالی کرنے کی ترغیب ‘گیس و بجلی کے بل سے ٹول ٹیکس کی ادائیگی تک کو منع فرما دیا‘اسی دوران پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ آور ہوئے‘خالی کرسیاں دکھانے پر جیو نیوز کے آفس پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کرنے کی بنیاد رکھی‘ سپریم کورٹ کی

بیرونی دیواروں پرگیلی شلواریں سوکھنے کو لٹکائیں گئیں اور لوگوں کی شلواریں گیلی ہونے کی باتیں کی گئیں‘ 126دن تک یہ حملہ یہ ہیجان برقرار رہا‘امپائر کی انگلی نہ اٹھی ‘ خان صاحب کو اٹھنا پڑ گیا‘ الزمات کا معاملہ سپریم کورٹ گیا اورچیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے 22جولائی 2015ء کو ایک فیصلہ تحریر کیا جس میں لکھا ’’تحریک انصاف کے الزمات بے بنیاد ہیں ‘عام انتخابات (2013ء) مجموعی طور پر شفاف اور قانون کے مطابق تھے‘منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے‘ موجودہ حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل ہے‘‘مگر خان صاحب نے اس فیصلے کو بھی تسلیم نہ کیا اور جو ثبوتوں سے بھرے کمروں کا دعویٰ کرتے تھے وہ بھی پورا نہ ہوا‘دھرنے کے دوران اور دھرنے کے بعد خان صاحب قریباََتمام ضمنی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے ‘بلی کے بھاگوں چھینکا ایک مرتبہ پھر اپریل 2016ء میں ٹوٹ گیا جب پاناما لیکس کی شکل میں خان صاحب کے ترکش کو ایک اور تیر حاصل ہوا ‘رگ احتجاج انگڑائی لے کر جاگی ‘ پھر وہی زبان وہی دھمکیاں ‘ملک بند کرنے کی آرزو ‘ایک ماہ قبل پیپلزپارٹی کی حکومت کی کرپشن کے خلاف سندھ میں تحریک اور پاناما لیکس کے معاملے پر بلاول بھٹو کے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہونے کی باتیں ‘بلاول کے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہونے کا اعلان قطعاََ حیران کن نہیں کیونکہ جنہیں خان صاحب کبھی اپنا چپڑاسی بنانے کو تیار نہ تھے انہیں مشیر اعلیٰ کے درجے پر فائز کرچکے ہیں‘ترکی میں بغاوت ناکام ہوئی مگر خان صاحب کے باغی پن کو ایک نیا ولولہ ضرور دے گئی ‘ادھر آزاد کشمیر میں انتخابی مہم بھی زوروں پر تھی ‘سو خان صاحب کو عوامی اجتماعات سے خطابات بھی کرنے تھے ‘ اسی مہم کے دوران خان صاحب نے فرمایا ‘پاکستان میں بغاوت ہوئی تو یہاں مٹھائیاں بانٹی جائیں گی ‘‘اور ’’اگر ترکی میں نواز شریف وزیر اعظم ہوتے تو یہ بغاوت ضرور کامیاب ہوجاتی ‘‘اب ان مٹھائیوں اور اگر کی بات کرتے ہیں ‘ خان صاحب بے وقت مٹھائیاں آپ کی زندگی میں پہلے ہی کافی مسائل لاچکی ہیں‘ جو مٹھائی پاکستان میں عمومی طور پر رائج طریقہء کار کے تحت جس عمر میں کھائی جاتی ہے وہ آپ نے 43سال کی عمر میں کھائی ‘مشرف کے اقتدارمیں حصے کی مٹھائی کھانے میں بھی آپ کو دیر ہوگئی ‘ 2008ء کے انتخابات کی مٹھائی بھی آپ نہ چکھ سکے اور 2013ء کے انتخابات کی مٹھائی جو خیبر پختونخوا کی صورت آپ کھا سکتے تھے مگر آپ نے اسے توجہ نہ دی‘ اور جب قوم آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کے غم میں ڈوبی ہوئی تھی آپ ریحام خان کے ساتھ شادی کی مٹھائی کھا رہے تھے ‘یہ بے وقت کی مٹھائیاں آپ کا منہ میٹھا کرنے کی بجائے آپ کی کڑواہٹ میں اضافے کا باعث بنتی ہیں‘اب خان صاحب کے ’’اگر ‘‘کی بات کرتے ہیں ‘ خان صاحب نے ٹھیک کہا ’’اگر نواز شریف ترکی میں وزیر اعظم ہوتے تو بغاوت ضرور کامیاب ہوجاتی ‘ ‘شائد خان صاحب نے پورا جملہ جان بوجھ کر ادا نہیں کیا‘وہ جملہ کچھ اس طرح سے ہوتا’’اگر نواز شریف ترکی میں وزیر اعظم اور عمران خان جیسے رہنما اپوزیشن میں ہوتے تو فوجی بغاوت ضرور کامیاب ہوجاتی ‘ ‘خان صاحب یہ’’ اگر‘‘ دنیا کے ہر واقعے سے جوڑا جا سکتا ہے‘ جیسے ہم کچھ ’’اگر ‘‘آپ کی ذات اور سیاست کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو نتائج سراسر مختلف نکلتے ‘ چند’’ اگر‘‘ ملاحظہ کریں‘’’ اگر‘‘ 92ء کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انضمام الحق طبیعت خراب ہونے کے باوجود 37بالوں پر 60سکورز نہ کرتے اور فائنل میں وسیم اکرم بیٹنگ میں 18بالوں پر 33رنز اور بعد ازاں تین وکٹیں نہ لیتے تو آپ

شائد کبھی بھی ورلڈ کپ کو تھام کر تصویریں نہ بنوا پاتے ‘ شوکت خانم کینسر ہسپتال کا خواب بھی شرمندہ ء تعبیر نہ ہوتا‘’’اگر‘‘ آپ مشرف کی گود میں بیٹھنے کی کوشش نہ کرتے تو شائد آج آپ کو طعنے نہ سننے پڑتے‘ جس اسمبلی کا آپ پانچ سال حصہ رہے اسی دوران ڈرون حملوں کا آغاز ہوا’’ اگر‘‘ آپ تب ڈرون حملوں کے خلاف بولتے تو کوئی بات بھی تھی‘ ’’اگر‘‘پاشا صاحب کی نظر انتخاب آپ پر نہ پڑتی تو 30اکتوبر 2011ء کا جلسہ نہ ہوپاتا‘’’اگر ‘‘بقول ہاشمی صاحب آپ کو مقتدر افراد کی تھپکی نہ ملتی تو 126دن طویل دھرنا نہ ہوپاتا‘’’اگر‘‘ الطاف حسین راضی نہ ہوتے آپ کا کراچی کا جلسہ نہ ہوپاتا‘ خان صاحب نے اپنی تیسری شادی کی خبروں کے حوالے سے پیمرا کو خط لکھا کہ یہ بے بنیاد ‘ غیر شائستہ اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہے‘ایسا’’ اگر‘‘ انگلینڈ جیسے ملک میں ہوتا تو سزائیں دی جاتیں ‘ جی ہاں خان صاحب’’ اگر‘‘ آپ اپنے بے بنیاد الزامات پر مبنی خطابات انگلینڈ میں کرتے تو یقیناََ سزا کے مستحق قرار پاتے اور شائد شوکت خانم کو دیے جانے والے چندے بھی ہرجانے ادا کرنے سے قاصر ہوتے‘اگر آپ کا ماضی صاف و شفاف ہوتا تو آج ۔۔خیر چھوڑیں ‘’’اگر‘‘ آپ کی زبان شائستہ ہوتی تو شائد کسی کو گمان گزرتا کہ آپ آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے ہیں‘ ’’اگر‘‘ آپ 2011ء کے بعد بھی کچھ سیاسی اصولوں کی پیروی کرتے تو آج جاوید ہاشمی جیسا قد آور سیاست دان آپ کے شانہ بشانہ ہوتا نہ شیخ رشید جیسا موقع پرست ‘’’اگر‘‘ آپ خیبر پختونخوا میں کام کرتے تو شائد آزاد کشمیر کی مٹی سے کوئی سیٹ جیت پاتے ‘’’ اگر‘‘ آپ کے گذشتہ دھرنے کا کوئی ایک دعویٰ بھی پورا ہوجاتا تو آپ کے آنے والے احتجاج میں بھی کسی کامیابی کا گماں کیا جاسکتا ‘’’ اگر‘‘ احتجاج اور ملک بند کرنے کا نام ہی سیاست ہوتا تو آج آپ کی پارٹی میں پھوٹ نہ ہوتی اور آپ کو ’’حکومت مخالف تحریک سے اختلاف کرنے والے میڈیا میں جانے کی بجائے پارٹی چھوڑ دیں ‘‘ کا بیان نہ دینا پڑتا ‘خان صاحب آپ کی پارٹی کوئی چھوڑے نہ چھوڑے ‘کم از کم آپ بے وقت کی مٹھائیاں اور’’ اگر‘‘ مگر کی سیاست چھوڑ کر خیبر پختوخوپر توجہ دیں ‘کیونکہ آپ جس کرسی ‘جس اقتدار کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں ‘ہر گزرتا دن آپ کو اس اقتدار اور عوام سے دور لے جاتا جارہا ہے۔۔۔فیصلہ آپ خود کریں۔۔خیر اندیش

The writer is Islamabad based and works as a Content Producer with a News Channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *