!ایک تھی کشمیر کمیٹی



کشمیر کی صورتحال پر اجلاس بلوایا گیا – تازہ ترین صورتحال پر کشمیر کمیٹی کا نقطہ نظر جاننے کے لیے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ایک ایسی شخصیت کے منتظر تھے جو کشمیر کے مسئلے کو عالمی تناظر میں اٹھانے کی تنخواہ لیتا تھا . کافی انتظار کے بعد ایک بھاری بھرکم جسم والے مولانا سفید شلوار قمیض میں ملبوس کمرے میں تشریف لائے . ان کے ساتھ کچھ اور دینی شخصیات بھی تھیں جو مولانا کے دائیں بائیں بیٹھ گئیں . میڈیا بے چین تھا اور وہ چیرمین صاحب کے رد عمل کا منتظر تھا کیونکہ آج صبح تک بھارتی افواج ، کشمیر پولیس اور دیگر نیم فوجی دستوں نے 80 کے قریب نہتے کشمیریوں کو شہادت کی موت اور ان گنت نوجوانوں ، بچوں اور خواتین کے چہروں کو چھروں والی بندوق سے نہ بھرنے والے زخم دیے تھے مگر عالمی دنیا اور کشمیر کمیٹی سب ہی اس ظلم پر خاموش تھے اور کسی کو ان شہادتوں اور زخموں کا درد محسوس نہیں ہو رہا تھا . تقریب کے آغاز میں حکومت کی طرف سے ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا ، مولانا اس دوران مسلسل اپنی کرسی پر جھولتے رہے اور ایسے لگ رہا تھا کہ وہ اس بیان سے متفق ہیں . صحافی سوال کرنے کے لیے بیتاب تھے مگر ترجمان بیان پڑھنےمیں سارا وقت صرف کرنے کی کوشش کر رہا تھا. جیسے ہی بیان ختم ہوا تو ایک انگریز خاتون صحافی کمرے میں کھڑی ہو گئی اور اس نے مولانا سے ایک سوال کیا مگر دوسری جانب سے جواب نہ آیا . خاتون نے سوال دہرایا مگر خاموش غار سے کوئی نہ بولا . مولانا نے اپنے ساتھ بیٹھے ایک دوسرے مولانا کے کان میں کچھ کہا اور یہاں سے اٹھ کر چلے گئے . خاتون صحافی نے کمیٹی کے ترجمان سے وضاحت مانگی تو وہ بولے ” مولانا کی نماز کا وقت ہو گیا ہے اور وہ بعد میں اس اجلاس میں شرکت کریں گے فی الحال سوالات نہ پوچھے جائیں . یہاں ایک مقامی صحافی انگریز خاتون کے ساتھ بیٹھا تھا اس نے خاتون سے مولانا کے رویے پر معافی مانگی اور وضاحت کی کہ مولانا نماز پڑھنے نہیں گئے بلکہ وہ جواب دینے کے قابل نہیں ہیں . “کیوں انہیں کشمیر کی صورتحال پر ہمیں اپ ڈیٹ رکھنے کی تنخواہ نہیں ملتی اور کیا یہی حکومت کی کشمیر پالیسی ہے ؟” خاتون صحافی نے پوچھا. “ملتی ہے اور حکومت کی کشمیر پالیسی کا علم تو ہمیں بھی نہیں ہے مگر مولانا انگریزی نہیں  بول سکتے ” مقامی صحافی نے شرمندگی سے جواب دیا 

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *