ایم کیو ایم، مائنس ون اور نظریہ ضرورت

ملک کے سیاسی منظر نامے پر پچھلے 30 یا 32 گھنٹوں میں جتنا طوفان آیا ہوا ہے اس کی اصل حقیقت “چائے کے کپ میں طوفان” سے زیادہ نہیں ہے۔  پروپز رشید کی ایم کیو ایم سے ملاقات اور پھر ان کی اسلام آباد واپسی سے پہلے ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی دھرنے کو اکھاڑ پھینکنا، اس پر ایم کیو ایم کے قائد کا حسب معمول  ملک کے خلاف تقریر کرنا اور پھر میڈیا ہاؤسز پر حملہ، گرفتاریاں پھر رہائیاں آپ مانیں یا نہ مانیں یہ سب ایک ہی کڑی میں پروی ہوئی داستان کے کچھ حصے ہیں مگر اصل پکچر ابھی باقی ہے۔

کسی بھی تبصرے سے پہلے یہ ذہن نشین کرلیں کہ یہ سب واقعات سیاسی میدان میں ہوئے اور ظاہر ہے ان کا حقیقی دنیا سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں۔ کیونکہ سیاست میں جو نظر آتا ہے وہ نہیں ہوتا اور جو نہیں نظر آتا وہی اصل سیاست ہے یعنی ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔

مگر افسوس اسی بات کا ہے کہ اس سارے منظر نامے اور بیانیے میں مملکت خداداد پاکستان کا نام اور عزت خراب کی گئ اور اس پر کسی کو افسوس نہیں۔ اس سارے واقعات کے کئی رخ ہیں مگر  ابھی صرف نظریہ ضرورت پر بات کی جائے تو بہت سی گھتیاں سلجھ سکتی ہیں۔ رات کے پہلے پہر میں ٹی وی چینلوں پر ویڈوز دکھائی جارہی تھیں کہ کس طرح ایم کیو ایم کے سب سے سینئر رہنما فاروق  ستار کو رینجرز کے  “ٹھاکر”زبردستی گاڑی میں بٹھایا اپنے ساتھ “نا معلوم” مقام پر لےگئے ، صبح کے پہلے پہر دفاتر بھی سیل کر دیے گئے، ایف آئی آر بھی ہوگئیں۔ پکڑ دھکڑ بھی شروع ہوگئی

آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس سب میں نظریہ ضرورت کہاں ہے، تو آپ کے سامنے ان لمحات کی روداد رکھتا ہوں جب کراچی شہر کے مختلف حصوں میں مختلف واقعات ہو رہے تھے، صبح ہونے والی ایف آئی آرز میں سخت ترین دفعات کے باوجود جن لوگوں کے نام آئے تھے ایک ہی وقت میں ان میں سے کچھ گرفتار ملزموں کو عدالت میں منہ پرکپڑے ڈال کر پیش کیا جارہا تھا، ایسے ہی کچھ گرفتار “عالم آن لائن” کو چھوڑ دیا گیا تھا، اسی ایف آئی آر میں شامل ایک “ستار” صاحب پورے پرٹوکول کو لیے پریس کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے۔ کیا یہ موم کی ناک کا قانون نہیں ہے، کیا یہ پری پلانڈ نہیں ہے،  پھر کہتے ہیں ملک میں قانون کی عملداری نہیں، قانون سب کے لیے کیوں برابر نہیں۔ ارے بھائی اگر ایک ہی ایف آئی آر میں درج ناموں کے ساتھ مختلف برتاؤ ہوگا تو ملک میں ایسے ہی لاقانونیت پھیلے گی۔ سب سے مزاقیہ بات یہ تھے کہ جس وقت فاروق ستار پریس کانفرنس کررہے تھے اس وقت رینجرز ایک گرفتار افراد کو ایک  عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ لےرہے تھی اور وہاں ایف آئی آر پر یہ موقف اپنایا گیا کہ “فاروق ستار مفرور ہیں” ارے واہ پورا میڈیا، پورا پاکستان، پوری دنیا دیکھ رہی تھی اور عدالت کو بتایا جارہا تھا کہ مفرور ہیں۔  ظاہر ہے سب جانتے ہیں کے قانون کے ہاتھ لمبے مگر آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے۔

یہ سب کیا ہے ؟ کس کو بیوقوف بنایا جارہا ہے؟ ظاہر ہے اس کہانی کے کرداروں کو تو سب پتا ہے مگر بیوقوف صرف اور صرف عوام کو بنایا جا رہا ہے ، یہ ہے نظریہ ضرورت، کس کو پکڑنا ہے، کس کو چھوڑنا ہے کس کو پرٹوکول دینا ہے سب کیا جارہا ہے کیونکہ “جمہوریت ” کو بچانا مقصد ہے نہ کہ عوام۔ اسے کہتے ہیں سیاست  اور یہ ہے نظریہ ضرورت جس کا شاید تین روزہ میچ کل سے کراچی کی پچ پر کھیلا جارہا ہے

آج پھر پریس کانفرنس ہوئی، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے،  صاحب محفل کی باڈی لینگوئج صاف بتا رہی تھی کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ الفاظ اصل کہانی کا مفہوم بیان نہیں کررہے ۔لفظوں  اور جملوں میں سب کہہ بھی دیا سب سن بھی لیا، میڈیا چیخ چیخ کر اپنا تبصرہ بیان کررہا ہے، اور عوام خاموش بیٹھی ہے۔ کیونکہ ان کے دلوں کو پتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا سب ویسا ہی ہے۔ کیونکہ نظریہ ضرورت ابھی زندہ ہے

نظریہ ضرورت کے تحت رینجرز بھی قانون کی بالا دستی کی بجائے نظریہ ضرورت پر عمل کرتی نظرآئے گی تو ملک کا کیا ہوگا

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *