بڑے جزیرے کے چھوٹے لوگ

 

ہم پچھلے تین دن سے ایک چھوٹے سے جزیرے پر موجود تھے . بس یونہی بغیر سوچے سمجھے، بلا ارادہ ایک سفر ہمارے مقدر میں لکھا تھا سو کر لیا. یہاں کے مقامی باشندے اپنے جزیرے اور یہاں کی تہذیب کے سفیر تھے ، میں جہاں بھی گیا مجھے ہر طرف کام کرنے والے ، سچ بولنے والے ، اپنی ارض وطن سے پیار کرنے والے انسان نظر آئے . مجھے یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ مرد ہیں یا عورتیں مجھے بس انسان نظر آئے ، جن میں بد عنوانی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر نظر آئی شائد اسی لیے بہت سے لوگ یہاں اپنی رسومات اور تہذیب کا تعارف کرواتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے. رات طویل مسافت کے بعد ہم چھوٹے سے جزیرے بڑے سے ملک میں لوٹے جہاں زندگی کی رفتار اور یہاں کے لوگوں کی اپنی تہذیب کے ساتھ وا بستگی کا پیمانہ مختلف ہے . ہم رات کو جب اپنے شہر میں داخل ہوئے تو بیگم بولی کہ کچھ کھانا خرید لیتے ہیں. ہم سب تھکے ہوئے تھے اور بھوک بھی بہت لگی تھی لہذا میں ایک ریسٹورانٹ میں کھانا لینے چلا گیا . کھانا لے کر میں واپس گاڑی میں بیٹھا تو میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی . بیگم نے پر تجسس انداز میں پوچھا ” ٹھیک ہیں آپ ، کوئی لطیفہ پڑھ لیا ہے ؟” ” نہیں میں ابھی ابھی ایک عورت اور ایک مرد کو دیکھ کر آیا ہوں ” میں نے جواب دیا . بیگم نے استفسار کیا ” پچھلے تین دن میں آپ نے کئی مرد اور لاتعداد عورتیں دیکھیں مگر آپ نہیں ہنسے آج کیا ایسا دیکھ لیا کہ آپ کی ہنسی کے فوارے پھوٹ رہے ہیں ؟” “کچھ نہیں بس ایسے ہی ، میں ریسٹورانٹ میں داخل ہوا تو میرے سامنے ایک مرد اور ایک عورت کھڑے تھے ، وہ ایک دوسرے سے بہت بے تکلف تھے ، خاتون نے مذہبی تقاضوں کے مطابق لباس پہنا تھا اور مرد بھی خوش لباس اور خوش شکل تھا . پہلے عورت کا موبائل فون بجا اس نے فون اٹھایا اور بولی ؛ امی میں ابھی مسجد میں ہوں بعد میں بات کرتی ہوں پھر مرد کے فون کی گھنٹی بجی تو اس نے کہا ؛ بیگم بار بار فون نہ کیا کرو میں اس وقت ایک بہت ہی سنجیدہ میٹینگ میں ہوں شام کو گھر میں بات کریں گے ، بس بیگم مجھے ہنسی اس بات پر آئی کہ پچھلے تین دن میں میں نے صرف انسان دیکھے تھے مگر آج پھر سے مجھے مرد اور عورتیں نظر آنا شروع ہو گئے “

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *