ستمبر6۔۔ دفاع پاکستانی کی یاد ۔۔ 51 برس بوڑھی ہوگئی؟

یوم دفاع پاکستان ہر سال کی طرح پورے جوش اور جذبے سے منائے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ہر پاکستانی پچھلے دو سالوں سے اس جوش اور جذبے میں بہت اضافہ دیکھ رہا ہے جو مسلسل قومی دنوں کی تقریبات میں برھتا نظر آرہا ہے۔ قریباً 22 روز قبل منایا جانے والے یوم آزادی بھی یہ جذبہ بھرپور تھا ۔ میں نے بھی شاید زندگی میں پہلی دفعہ سڑکوں ، چوراہوں ، بازاروں اور تو اور دفاتر میں اس قدر ولولہ دیکھا کہ دل خوش ہوگیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وطن سے محبت اور الفت پر یقین عوام کے دلوں میں چھانا شروع ہو چکا ہے وطن کی مٹی عظیم ہے تو، عظیم تر ہم بنا رہے ہیں گواہ رہنا تو بات ہو رہی تھی یوم دفاع پاکستان کی، اور اس سے جڑی یادوں اور وعدوں کی۔جوش و جذبہ تو اسی تسلسل سے بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر کیا وہ سوچ ، وہ وعدہ بھی اسی طرح مضبوط ہو رہا ہے جو 6 ستمبر کے دن پیدا ہوا یا پھر وہ سوچ اور عہد بوڑھا ہو کر کمزور پڑگیا ، یہ ہی وہ سوال ہے جو آج میرے ذہن پر مسلسل دستک دیتا رہا 6 ستمبر کی صبح، اچانک محلے کے واحد ریڈیو والے گھر سے شور بلند ہوا، ارے بھائیو ، ارے دوستو، اکھٹے ہوجاؤ، غضب ہو گیا ، بھارت نے رات پاکستان پر حملہ کردیا، محلے کے رہائشی چوہدری نیاز پوری آواز سے چلا رہے تھے، اور پھر اگلے چند منٹوں میں پورا محلہ ان کے صحن میں اکھٹا تھا اور خبروں کی آواز کے سوا ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ تقریباً یہی صورت حال پاکستان کے ہر محلے میں بپا ہوچکی تھی مگر یہ جنگ کا خوف نہیں تھا بلکہ قوم فوری طور پر ایک لڑی میں پروی جاچکی تھی۔ خود پاک فوج کا ہر جوان بھی کِھل اُٹھا تھا کہ آج وہ وقت آگیا جس کے حلف اُٹھائے تھے اور ہر جوان ہروال دستے کا حصہ بننا چاہتا تھا۔

اس تمام صورت حال کی سچائی کی گواہ پوری دنیا ہے جس نے ستمبر کے اگلے چند دنوں میں وہ مناظر دیکھے کہ خود عقل و خرد بھی حیران رہ گئی۔ پچھلے کئی سالوں سے بے شمار فوجیوں، افسروں اور ان کے خاندان والوں سے نشتیں رہیں۔ ہر کسی سے میں نے جنگ ستمبر بارے ضرور پوچھا، اس جذبے کا احوال معلوم کیا اور ہر شخص سے اس کے ایک یادگار واقعہ بھی اسی کی زبانی سننے کا شوق بھی ابھی تک پورا نہیں ہوا ساری ساری رات کے پہرے کی کہانی سے لے کر گھنٹوں اکیلے مورچے میں دشمن پر وار کے واقعات، میجر عزیز بھٹی شہید کی مشہور کہانی سے لے کر سپاہی مقبول حسین گمنام داستان تک سب کچھ ان مٹ ہو چکا ہے،جنگ کے بعد 40 سال بھارت کی قید کاٹ کر واپس آنے والے سپاہی مقبول حسین کے الفاظ “سپاہی مقبول حسین نمبر 335139 ڈیوٹی پر آگیا ہے” ان میں چھپی وطن کی محبت کی گرمی کا کوئی ثانی نہیں ہے ان تمام یاداشتوں، واقعات میں کچھ بھی جھوٹ و فریب نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان واقعات کی گواہ خود ارض پاک ہے کہ جو آج آزاد اور خود مختار دنیا کے نقشے پر موجود ہے اور اس کے کسی ایک انچ زمین پر بھی دشمن کے ناپاک قدموں کے نشان تک نہیں ہیں۔ یہ سب تو ایک حقیقت ہے مگر سوال وہیں کا وہیں ہے کہ کیا وہ سوچ اور وعدہ جو ہم نے اس دن وطن سے کیا تھا وہ بوڑھا ہو گیا یا نہیں۔

مجھ سے ملاقات کرنے والے ہر سپاہی و افسر نے ایک بات ضرور دہرائی کہ پاکستان نے غلطی کی جو سیز فائر کر دیا ورنہ ہم نے بھارت کا تختہ کردینا تھا جوش وجذبہ تو اسی طرح سے قائم ہے مگر ایک چیز کی کمی رہ گئی کہ ہمارے بڑے بوڑھے ان جذبات کو صحیح طور پر نئی نسل تک نہیں پہنچا سکے اور ہماری نئی نسل کسی حد تک گو مگو کو شکار ہے۔ 6 ستمبر کی “تھرل” تو ان کے خون میں محسوس ہوتی ہے جو ان کے رونگٹے کھڑے کردیتی ہے مگر جذبات کی گرمی کی حدت ان کے دلوں کو گرما نہیں پارہی۔ تو یہ ہی ہے ہمارے سوال کا جواب کہ 6 ستمبر ، یوم دفاع پاکستان تو زندہ ہے اور زندہ رہے گا مگر ہمیں اس عہدکو جگائے رکھانا ہے تاکہ وہ یادیں بوڑھی نہ ہو پائیں۔ آئیں ہم نئی نسل کو اس ان اشعار کے معنی من وعن سمجھا دیں یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے یہ فضا تمہاری ہے بحر و بر تمہارے ہیں کہکشاں کے سب جالے راہ گزر تمہاری ہیں پاکستان پائندہ باد

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *