!!!….. لب پہ آتی ہے دعا

“بابا تمہیں پتا ہے میں نے خواب میں کیا دیکھا ؟” مراد نے اپنے باپ کے سوکھے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا……. نہیں جان بابا مجھے نہیں پتا ، کیا دیکھا تم نے خواب میں ؟ یوسف نے مراد کو گلے لگایا اور پوچھا. “با با میں نے دیکھا کہ میں بہت بڑے باغ میں ہوں وہاں دور دور تک ہوا میں روٹیاں اڑ رہی ہیں ، ہر طرف بہت سے رنگوں کی مٹھائیاں بکھری پڑی ہیں اور میلوں رقبے پر پھلوں کے باغات ہیں پھر بابا بارش شروع ہو گئی اور مجھے لگا کہ کسی نے ٹھنڈے مشروبات کی سبیلیں کھول دی ہیں.” اپنا خواب سناتے سناتے مراد پر پھر سے غشی کا دورہ پڑا اور وہ خاموش ہو گیا . یوسف ، اس کی بیوی مریم اور بیٹا مراد پچھلے تین دن سے بھوکے اس کیمپ میں بیٹھے تھے جہاں روز کوئی بچہ جب فاقے سے مر جاتا اور اس کی ماں اس کی لاش کو لوری دینے کے لیے جب اقبال کی دعا پڑھتی تو مریم مراد سے کہتی “دیکھا وہ سارے بھی بھوکے ہیں مگر سکون سے سو رہے ہیں ، تم بھی سو جاؤ، کل جب ٹرک راشن لے کر پہنچے گا تو ہم کھیر بنائیں گے .” آج مراد دو بار بے ہوش ہوا اور پھر خود ہی ہوش میں آگیا مگر شام کو جب وہ نہ جاگا تو مریم کے خیمے سے ایک مانوس سے آواز آئی ” لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری”…. وہ ٹرک جس نے تھر پہنچنا تھا راستے میں ایک سیاسی جلسے میں سامان تقسیم کرکے واپس چلا گیا جب کہ تھر کی فضائیں اقبال کی دعا سے  گونجتی رہیں 

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *