دوستی کا تحفہ – کشمیر



 لاہور سے جاتے ہوئے مودی نے میاں صاحب کی ماں کے قدموں کو چھوا، ماں جی نے معصومیت اور پیار سے کہا ” بیٹا تم سب پیار محبت سے رہا کرو، اسی میں دونوں ملکوں کی سالمیت ہے “. اس رات کشمیر میں بہت تیز بارش ہوئی ، دریائے نیلم لگتا تھا آج آس پاس کی آبادیوں کو تباہ کر دے گا . اتنا غصہ اتنی جارحیت ؟ دریا اتنا وحشی کیوں ہے قادر بخش کی بیوی نے پوچھا ؟ “بزرگ کہتے تھے دریا زندہ چیز ہے ، مجھے لگتا ہے اس کے سینے میں کوئی غم ہے جو وہ کہنا چاہتا ہے ” قادر بخش نے وضاحت کی. ٹیٹوال کے پاس دریا نے دو نیم برہنہ لاشیں کنارے لگائیں اور چیختا ، چنگھاڑتا رات بھر اضطراب میں بہتا رہا . صبح جب بارش تھمی تو مقامی لوگوں نے ان لاشوں پر کفن ڈالا .یہ لاشیں خاموش تھیں ایسے ہی جیسے آج کشمیر کے مسئلے پر دنیا خاموش ہے. قادر بخش چند مقامی نوجوانوں کے ساتھ ان لاشوں کو خشک زمین پر رکھتے ہی بولا “اے میرے سچے رب یہ بھی تیرے بندے ہیں ، ان کا قصور کیا ہے ؟ یہی کہ انہوں نے آزادی کی مانگ کی ہے ؟ میرے پاک پروردگار کیا دریا کی دوسری جانب صرف درندے بستے ہیں جو ہمیں صرف لاشوں کا تحفہ دیتے ہیں ” قادر بخش نے ایک لاش کے ہاتھ میں کسی وردی کا ٹکرا دیکھا تھا جس پر لکھا تھا ” بھارت ماتا کی جے”

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *