قدرت کی ڈ سٹری بیوشن

( ڈاکٹر ایزدفاروق )

پروفیسرصاحب، آپکے کتنے بچے ہیں؟ میں نے کہا ’’تین‘‘۔انہوں نے پھرپوچھا’’انکی عمریں کیاہیں؟میں نے جوا ب دیا ’’نوسال،سات سال اورتین سال‘‘۔یہ سن کر انہوں نے کہا ’’ پھر تو یقیناآپ یونیورسٹی سے واپسی پر ان کے لیے کچھ نہ کچھ لے کرجاتے ہوں گے؟‘‘ میرے اثبات میں جواب دینے پر انہوں نے پھر استفسار کیا ’’آپ ان چیزوں کو ان میں کیسے تقسیم کرتے ہیں؟میں نے کہا ’’میرا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور چونکہ بیٹا بڑا ہے اس لیے میں اپنی لائی ہوئی تمام چیزیں اس کے حوالے کر دیتا ہوں اوراس سے کہتا ہوں کہ انہیں آپس میں بانٹ لو‘‘۔ یہ سن کر انہوں نے فرمایا ’’پروفیسرصاحب،اگر آپ کو کسی دن یہ پتا چلے کہ آپکاصاحبزادہ آپکی لائی ہوئی چیزیںآپکی ہدایت کے مطابق تقسیم نہیں کرتا یا انہیں بانٹنے میں انصاف سے کام نہیں لیتاتوآپ کیا کریں گے؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا’’ اگرکبھی ایسا ہوا تو ا سکا حل تو بہت آسان ہے، میں اگلی بار اس کو صرف اسی کا حصہ دوں گا اور بیٹیوں کا حصہ انہیں خود الگ سے دے دیاکروں گا‘‘۔ یہ سن کر ان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھری اور انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ہوے کہا’’پروفیسر صاحب! آپکی اس بات میں وہی فلسفہ کارفرما ہے جسکی بنیاد پر اللہ پاک نے اپنی عنایات تقسیم کرنے کا فارمولا طے کر رکھا ہے۔اللہ پاک آپ کوجو رزق اور نعمتیں عطا فرماتا ہے وہ صرف اور صرف آپ کے لئے نہیں ہوتیں‘ ان میں بہت سے لوگوں کا حصہ ہوتا ہے اور جب تک آپ وہ حصہ ان حقداروں تک پوری ایمانداری اور انصاف سے پہنچاتے رہتے ہیں ‘آپ کو وہ حصہ اسی تناسب سے ملتا رہتا ہے اور آپ بھی دنیا کی نظرمیں مالدار‘ سیٹھ‘ جاگیردار اورسرمایہ دار بنے رہتے ہیں۔لیکن جب اس تقسیم میں کوتاہی یا بداعتدالی ہوتی ہے تو اللہ پاک آپ کو صرف آپکے حصے تک محدود کر دیتا ہے اور اس ریل پیل سے محروم کر دیتا ہے۔ پھر وہ رب کریم وہ رزق یا تو ان لوگوں تک براہ راست پہنچانا شروع کر دیتا ہے یا اس رزق کی تقسیم کیلئے کوئی نیا ’’ڈسٹری بیوٹر‘‘مقرر کر دیتا ہے اور دنیایہ سمجھتی ہے کہ یہ سیٹھ دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اسی دوران یہ باتیں بھی سننے میں آتی ہیں کہ فلاں کے بیٹے پر اللہ کا بہت کرم ہے‘ دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے‘ دنوں میں کروڑ پتی ہو گیا ہے۔ یہ وہی شخص ہوتا ہے جسے رب کریم نے آپ کو ہٹا کر آپکی جگہ نیا ’’ڈسٹری بیوٹر‘‘ مقرر کر دیا ہوتا ہے‘‘۔

یہ مکالمہ پروفیسر عمران صاحب اور ان کے ایک دوست کے مابین ہوا۔ عمران صاحب ’’شہیدذوالفقارعلی بھٹوانسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ اسلام آباد میں اکاؤنٹنگ کے استاد ہیں اور امریکہ سے اکاؤنٹنگ کی اعلیٰ ترین ڈگری کے حامل ہیں۔ یہ واقعہ انہوں نے ۲۰۱۲ ؁ میں ہم ایم۔بی۔اے کے سٹوڈنٹس کو اکاؤنٹنگ کے لیکچر کے دوران سنایا۔

دیکھا جائے تو اللہ کی تقسیم کا یہ معاملہ صرف رزق تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس میں عزت ‘ سکون‘ امن اور آسانیاں بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر عزت کا معاملہ بڑا خاص الخاص ہے اور اس کو بہت اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ پاک عزت کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ ہم نے اللہ کی دی ہوئی عزت کو اپنی ذاتی کمائی سمجھ لیا ہے۔ہم اس گمان میں مبتلا ہیں کہ اس عزت کے ہم بلا شرکت غیر مالک ہیں۔یہ ساری 

کی ساری ہماری ذاتی میراث اور ہماری اہلیت اور صلاحیتوں کا ثمر ہے۔حالانکہ ایسا قطعاََنہیں ہے۔ اس عزت میں بھی بہت سے لوگ حصہ دار ہیں اور یہاں بھی اسی فارمولا کا اطلاق ہوتا ہے۔ جب تک ہم ہر حقدار کو اس کی عزت کے حق کا حصہ پوری ایمانداری سے دیتے رہیں گے یہ عزت برقرار رہے گی۔دوسری صورت میں بڑے بڑے تخت نشیں‘ خاک نشیں ہو گئے۔ یہی معاملہ امن‘ سکون اور آسانیوں کا بھی ہے۔

آپ اپنے گردواطراف میں نظردوڑائیں تو آپ کو بے چین‘ بے سکون اور ہیجانی کیفیت مین مبتلا لوگوں کا ہجوم نظر آئے گا۔بد قسمتی سے ہم من حیث القوم بھی انہی کیفیات کا شکار ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟باقی اقوام عالم کے مقابلے میں ہم اتنے محروم کیوں ہیں؟ کیا یہ ہماری بداعمالیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے یا کوئی اور معاملہ ہے؟

انسانی بس میں جو برائیاں ہیں ان کو اگر بنظرغائردیکھا جائے تو وہ جھوٹ سے شروع ہو کر قتل وغارت گری تک جاتی ہیں اور ان کے درمیان بے ایمانی‘ چوری چکاری‘ لوٹ مار‘ فتنہ وفساد ‘ رشوت ستانی‘ جواء‘ نشہ بازی اور زنا جیسی علتیں شامل ہیں۔ یہ تمام برائیاں بقدر استطاعت ہماری قوم میں موجود ہیں لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو کوئی بھی قوم یا ملک ان برائیوں سے مبراء نہیں ہے۔ بلکہ بہت سی اقوام ان معاملات میں ہم سے کئی گنا آگے نظر آتی ہیں لیکن عجیب معاملہ ہے کہ وہ اقوام دنیاوی ترقی‘ سہولیات کی دستیابی‘ وسائل کی فراوانی‘ امن وامان اور سماجی بھلائی میں بھی ہم سے کئی گنا آگے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے؟

پاکستانی قوم کی بے سکونی‘ زبوں حالی اور مسلسل زوال پذیری کا جائزہ لینے کے بعد ہونے والا انکشاف انتہائی لرزہ خیز ہے۔ہم اپنے گناہوں کی فہرست کو بغور دیکھیں تو اس میں ایک جرم ایسا ہے جسے ہم غلطی کا درجہ دینے کو بھی تیار نہیں ہیں‘ اورحقیقتاََیہی اس تمام بے برکتی کی جڑ ہے۔ دراصل ہم’’ توہین مخلوق خدا ‘‘ کے مجرم ہیں‘ ہم احترام انسانیت کے منکر ہیں۔ اللہ کریم اپنے منکرین کو تو اس دنیا کی حد تک مہلت دے دیتا ہے لیکن احترام انسانیت کے منکر ین یہاں وہاں ہر دو جگہ زیر عتاب ہیں اور رہیں گے۔یہی ایک سب سے واضح فرق ہے جو ہم اور دوسری اقوام میں ہے۔

ہم نے رب کی دی ہوئی عزت سے لوگوں کا حصہ نکالنا چھوڑ دیا ہے اوراس طرح عزت کی ترسیل میں کمی واقع ہو گئی ہے‘ ہم نے اپنے رب کی دی گئی آسانیوں کو بانٹنا چھوڑ دیا ہے اور وہ آسانیاں بھی ہم سے چھن رہی ہیں۔ کسی اعلیٰ سرکاری افسر یا سیاستدان کے بیٹے حتیٰ کہ اس کے ملازم سے کی گئی نادانستہ بدکلامی تو ہمیں اسکے خوف سے تمام رات بے سکون رکھے اور ر ب العالمین کی مخلوق سے روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی دانستہ زیادتیاں ہمارے ماتھے پر بل بھی نہ ڈالیں۔ ایسے تو نہیں چلے گا اور اگر مصلحتاََ چل بھی رہا ہے تو آخر کب تک؟

یہ توہین آدمیت کا کھیل ہمارے ہر گھر ‘ گلی کوچے ‘ سرکاری دفاتر‘ ہر گاؤں ‘ ہر شہر‘ الغرض ہر طرف انتہائی ڈھٹائی سے کھیلا جا رہا ہے۔ ہم اپنے سے ہر کمتر اور کمزور کیلئے فرعون ہیں۔ جو جس کو نقصان پہنچانے کی اہلیت یا طاقت رکھتا ہے وہ اس کیلئے فرعون ہے۔ فرعونیت کا یہ عمل ہر درجے پر کارفرما ہے۔وزیراعظم وزیراعلیٰ کیلئے‘ وزیراعلیٰ چیف سیکرٹری اور آئی جی کیلئے‘ چیف سیکرٹری اور آئی جی ‘کمشنر اور ایس پی کیلئے اور 

اسی درجہ بندی سے ایک پٹواری ‘کلرک اور سپاہی ایک عام غریب آدمی کیلئے فرعون ہے۔ہر شخص اپنے فرعون کا بدلہ اپنی رعیت پر کئی گنا شدت اور نفرت سے اتارنے پر کمر بستہ ہے اور پھربھی ہم اپنے رب سے شکوہ کناں ہیں کہ اسکی رحمتوں کی برسات میں وہ شدت کیوں نہیں رہی جو ہمارے اسلاف پر تھی اور اب قوم کفار پر بدرجہء اتم جاری و ساری ہے۔

ہم اپنے غریب ہمسائے کے مجرم ہیں‘ اس غریب بچی کے مجرم ہیں جس کی شادی کا کل خرچ ہمارے بچے کی سالانہ پاکٹ منی کے برابر ہے۔ ان طعنوں میں برابر کے شریک جرم ہیں جووہ تمام عمر کم جہیز لانے پر سہتی ہے۔ہم اس بیمار بچے کے مجرم ہیں جس کے علاج کا خرچ ہمارے گھر میں کھڑی بہت سی گاڑیوں میں سے کسی ایک کی قیمت میں ہو سکتا ہے۔ ہم اس عرضی خواں کے مجرم ہیں جو قرض لیکر دور دراز کے گاؤں سے ہمارے دفتر اس غلط وقت پہنچتا ہے جب ہم اپنے کسی عزیز یا دوست سے گپ شپ میں مصروف ہوتے ہیں اور وہ اگلے دن کیلئے ٹال دیا جاتا ہے۔ ہم اس گھریلو ملازمہ کے مجرم ہیں جس کا بیٹا ہمارے گھر کھڑی ٹوٹی سائیکل‘ پرانے کپڑوں اور جوتوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔

اس اجتماعی بے چینی‘ بے سکونی‘بے برکتی اور ہیجان سے نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہے۔ ہمیں اپنے روزمرہ کے رویوں کو بدلنا ہوگا‘ ہمیں یہ سمجھنا پڑے گاکہ مخلوق کی عزت دراصل اسکے خالق کی عزت اور مخلوق سے پیار دراصل اس کے خالق سے پیار ہے۔ کیا ہم ان اقوام کا مقابلہ کر سکتے ہیں جہاں انسان تو انسان ‘ جانور بھی اپنے حصے کی عزت‘ پیار اور سہولیات کا حصہ پوری ایمانداری اوردھڑلے سے وصول کرتا ہے۔ جب ہم پیار کی جگہ نفرت‘ عزت کی جگہ حقارت اور بخشش کی بجائے محرومیوں کا بیوپار کریں گے تو پھر ہمیں یقین کر لینا چاہیئے کہ وہ خالق دو جہاں جلد یا بدیر ہمیں ہٹا کر کوئی نیا ’’ڈسٹری بیوٹر‘‘ مقرر کر دے گا۔

The writer is MBBS doctor and CEO of a Pharmaceutical Company.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *