شمس اور عدالت کا کشمیر

میں گارڈن میں بیٹھا چائے کا انتظار کر رہا تھا اور ساتھ والے گھر میں دو لوگ کشمیر پر گرما گرم بحث کر رہے تھے . دونوں کی باتوں سے لگتا تھا کہ ان کی کشمیر شناسی مجھ سے بہتر ہے لہذا میں ان کی باتیں سننے لگ گیا . ” میں ان دونوں کو جانتا ہوں ، دونوں تحریکی دوست ہیں اور جب بھی ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو اچھے دنوں اور روشن مستقبل کی بات کرتے ہیں، ان کو پتہ نہیں کیوں لگتا ہے کہ کشمیر آزاد ہو گا ” شاہد بولا ” کون؟ کس کی بات کر رہے ہو ؟” میں نے پوچھا “شمس اور عدالت” شاہد نے چائے کپ میں ڈالتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بات جاری رکھی ، “تمہیں پتہ ہے شمس ایک سکالر ہے اور علی عدالت کو کشمیریات پر عبور حاصل ہے ” . میں نے چائے کا گرم گھونٹ بھرا اور شاہد سے پوچھا کہ آجکل کشمیر کے حالات کیسے ہیں ؟ شاہد بہت اداس تھا اور وادی میں بگڑتے حالات پر اس کی گہری نگاہ تھی ، مجھ سے کبھی کبھار اپنا دکھ بانٹ لیتا ہے، اس کا یہ ماننا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے مگر وہ کشمیریوں کی مکمل آزادی اور خودمختار کشمیر کے تصور کو کبھی خام خیالی کا نام نہیں دیتا ، اسی لیے مجھے اس کی باتیں بہت پر اثر لگتی ہیں . شاہد بولا ” تمہیں پتہ ہے وزیراعظم پاکستان نے مختلف ملکوں میں اپنے نمائندے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو کشمیر پر اقوام عالم سے حمایت حاصل کریں گے ” ، ہاں میں نے پڑھا تھا ، اور کیا یہ اچھی بات نہیں ہے ؟ میں نے شاہد سے پوچھا . ” بہت اچھا ہے مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی ایک ٹیم دنیا میں آباد ان کشمیر شناس دیوانوں کے پاس جاتی اور انہیں لابنگ کے لیے کہتی کہ جنہوں نے کشمیر کو اپنی زندگی بنایا ہے ” یہ کیسے ممکن ہے ؟ یہ کام تو سفیروں کا ، ماہر سیاستدانوں کا، پھرتیلے ذہنوں اور وسیع المُطالعہ لوگوں کا ہوتا ہے جنھیں ایک ریاست تیار کرتی ہے اور جو سفارتی محاذوں پر لڑتے ہیں ، میں نے وضاحت کی . شاہد نے ایک آہ بھری اور بولا ” جی ٹھیک فرمایا آ پ نے مگر وزیراعظم پاکستان نے روس میں نمائندگی کے لیے جس وزیر کا انتخاب کیا ہے ان کے مطابق بھارتی جارحیت کی وجہ سے کشمیر میں بیماریاں پھیل رہی ہیں اور محبوبہ مفتی کون ہے اس کا بھی انھیں علم نہیں ” میں نے یہ سنا تو اگلا گھونٹ حلق سے نہ اتار پایا اور شاہد کے سامنے نظریں جھکائے بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ کیاکبھی شمس اور عدالت کا کشمیر آزاد ہو گا ؟

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *