بھارت:سب سے بڑی جمہوریت یا سب سے بڑا قبضہ گروپ

تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو نوع انسانی نے زمین پر قبیلوں سے بستیاں، بستیوں سے قصبے پھر شہر، شہروں سے ریاستیں پھر مملکت اورمملکت سے سلطنتیں بنتی دیکھیں۔ پھر ایک وقت آیا کہ سلطنتوں کا شیرازہ بکھرا تو ملک بننا شروع ہوگئے۔

ایسی ہی اِک رات سن 1947 کو آئی، جب مغلیہ سلطنت پر قابض برطانوی راج نے پاک بھارت کے نام سے دو نئے ملک کھڑے کردیے۔ آئیے آپ کو تاریخ کے کچھ ایسے اواق میں چھپی حقیقت دیکھاتا ہوں جو شاید آپ کے لیے بہت نئی ہو۔

آج ایک طر ف پاکستان ہے جو 20 کروڑ عوام کا مسکن ہے جبکہ دوسرے طرف 1 ارب سے زائد افراد  پر مشتمل ملک بھارت ہے۔ دنیا بھر  میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اور اس کا حوالہ بھارتی سرکار ہر اہم عالمی بیٹھک میں دیتی آئی ہے

کیا واقعی بھارت ایک سب سے بڑی جمہوری ریاست ہے؟ کیا بھارت اتنا ہی بڑا تھا جب ریڈ کلف نے باؤنڈری کمیشن کے تحت ملکوں کو بانٹا؟

چلتے چلتے ایک اور حقیقت ذرا ملاحظہ فرمائیں، کہ ریڈ کلف صاحب کو یہ کارنامہ سرانجام دینے کے لیے صرف 5 ہفتے دیے گئے، اور مزید یہ کہ جناب ہندوستان ہی 8 جولائی کو پہنچے  اور جناب ریڈ کلف صاحب ویسے بھی ہندوستان کے حدود اربعہ سے قطعی ناواقف تھے۔ اس مختصر تاریخی حوالے سے آپ کی آنکھیں یقیناً کھل گئی ہوں گی کہ کس طرح کا باؤنڈری کمیشن تھا، رہی سہی کسر یہاں نکلی کے ریڈ کلف صاحب بہادر نے باؤنڈری کمیشن کا اعلان ہی 16 اگست 1947 کو کیا جب بٹوارا ہوئے 2 دن ہوچکے تھے۔چلو یہ کون سا ان کے باپ کا ملک تھا قبضہ شدہ زمین تھی جیسے سمجھ آئی بانٹی اور چلتے بنے، پنجابی میں ایک ضرب المثل ہے “چوری دا کپڑا تے لاٹھیاں دے گز”  

تو بات ہورہی تھی ، بٹواے کی، ہمارا پہلا سوال تھا کہ کیا بھارت اتنا ہی بڑا ملک تھا جب تقسیم ہند ہوئی؟ تو اس کا جواب ہے نہیں۔۔حقیقت کیا تھی آئے تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں

برطانوی راج پورے ہندوستان پر تو تھا مگر عملی طور پر  انگریز پورے برصغیر میں پھیلی سینکڑوں ریاستوں پر قابض نہ تھے بلکہ ان سے معاہدے کے تحت حکومت کی جارہی تھی یعنی حاکم تو ریاست کے راجہ تھے مگر حکم فرنگیوں کا چلتا تھا، اناج تو ریاست کے باشندے اُگاتے تھے مگر لگان انگریز حکمرانوں کے گودام بھرتا تھا کہنے کو تو ہر ریاست کے سربراہ کو اس کی “حیثیت” کے مطابق انگریز توپوں کی سلامی دیتے تھے مگر  راجہ جانتا تھا کہ توپ کے یہ گولے کسی اور طرح استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

 بہرحال بات ہورہی تھی بٹوارے کی، جب نہرو اور قائد اعظم  نے تقسیم کے فارمولے پر اتفاق کیا تو تاریخ گواہ ہے کہ خود انگریز حکومت نے کہا تھا کہ ریاستیں جن پر انگریز براہ راست قابض نہ تھے ان کو حق ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مل جائیں یا پاکستان کے ساتھ، اگر وہ چاہیں تو آزاد حیثیت سے بھی رہ سکتی ہیں۔ نہرو کا خیال تھا کہ ریاست کی عوام فیصلہ کریں، جبکہ  قائد اعظم نے کہا کہ ریاست کا سربراہ اگر فیصلہ کرے تو بہترہوگا۔ بہرحال چونکہ ریاستی نظام تھا، راجے مہاراجے، نواب حکمران تھے اور صدیوں سے حکمران تھے اور وقت کا رواج بھی یہی تھا کہ حاکم کا فیصلہ رعایا مانا کرتی تھی 

اب آپ کو بتاتے ہیں کہ تاریخ کے اُٗس سیاہ دور میں کیا ہوا،

پاکستان کے حصے میں مشرقی اور مغربی پاکستان آیا ، اور بھارت کے حصے میں ہندو اکثریت کے علاقے آگئے باقی رہ گئیں جن کی تعداد 565 تھی۔ آپ بھی حیران ہونگے کہ اتنی بڑی تعداد میں اگر آزاد ریاستیں تھی تو باقی کتنے حصے پر انگریز قابض تھے جس کا بٹوارا ہوا

مندرجہ ذیل نقشہ سے واضح ہوجائے گاکہ کتنے حصے پر انگریز قابض تھا اور کتنی زیادہ رقبہ آزاد ریاستوں پر مشتمل تھا، نقشے میں دکھایا گیا پیلے رنگ کا ایریا آزاد ریاستیں ہیں

indian-map

ادھر سے ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن لیٹ اُدھر سے ہندو بنئے نے اپنی چالاکی، پھرتی اور اذلی دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے فوری طور پر ریاستوں کو اپنے ساتھ ملانا شروع کردیا، آئیے دو شخصیات سے ملواتا ہوں جنہوں نے بھارت کے لیے یہ کارنامہ سرانجام دیا

پہلا  تھا،ولبھ بھائی پٹیل جو ایک معروف سیاسی رہنما تھا اور تقسیم کے بعد اسے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم کا عہدہ ملا ، دوسرا تھا  وی پی مینن   جو ایک بیوریوکریٹ تھا جو آخری تین انگریز وائسرائے کا آئینی مشیر اور پولیٹکل ریفارم کمشنر رہا۔  اس کے عہدے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے باؤنڈری کمیشن اور بعد میں ہونے والی ریاستی الحاق میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہوگا

ان دنوں شخصیات نے ملکر لابننگ (جسے دوسرے معنوں میں دھونس کہہ سکتے ہیں ) کی اور پہلے دو سے تین ماہ میں تقریباً  565 میں سے 312 ریاستیں اپنے ساتھ ملا لیں اور اس کے بعد شروع ہوا دھونس  کا پارٹ ٹو جس میں بھارتی سورماؤں نے ان تمام ریاستوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا جو آزاد رہنا چاہتی تھیں یا جو پاکستان سے الحاق کرنے کا پروگرام بنا رہی تھی۔

کچھ بڑی ریاستوں کی کہانی کچھ یوں ہے

حیدر آباد

برصغیر کے سب سے بڑی ریاست تھی، جس کا رقبہ آج کی پاکستانی پنجاب سے بڑا تھا (پنجاب کا آج کا رقبہ 205،345 مربع کلومیٹر جبکہ ریاست حیدر آباد کا رقبہ 214،190 مربع کلومیٹر تھا)۔ ریاست حیدر آباد کی آمدنی بھی ان وقتوں میں کروڑوں میں تھی، ریاست کی اپنی فوج، اپنی  ائر لائن، پوسٹل سروس، ریلوے نیٹ ورک، کرنسی اور ریڈیو سٹیشن تھے۔ریاست کے نظام جناب عثمان علی خان آصف جاہ 7 تھے ۔ اور ریاست پر مسلمان نوابوں کی حکومت 1724 سے تھی۔ آزادی  کے وقت طے شدہ قانون کے مطابق ریاست کے نواب نے فیصلہ کیا کہ وہ آزاد حیثیت سے رہیں گے،بھارت کو یہ کہاں منطور تھا کہ اتنی امیر ریاست اس کے ہاتھ سے نکل جائے لہذا 17 ستمبر 1948 کی ایک رات ایک ملٹری آپریشن کے ذریعے بھارت نے اسے ہندوستان میں ضم کر لیا، اس آپریشن کا نام (آپریشن پولو) رکھا گیا

بھوپال

بھوپال مسلمانوں کی حیدر آباد کے بعد دوسری بڑی ریاست تھی۔ یکم جون 1949کو بھوپال کی ریاست کو بھی بھارت میں ضم کرلیا

جموں کشمیر

 جموں کشمیر کی ریاست بھی مسلم اکثریت کی ریاست تھی جہاں 77 فیصد  سے زائد مسلمان آبادی ہے۔ بھارت نے اس ریاست کو بھی 26 اکتوبر 1947  کو فوج اُتار کر قبضہ کر لیا

 جونا گڑھ

 ریاست جونا گڑھ 1748 میں وجود میں آئی یہ ریاست 1807 میں برطانوی زیر حمایت ریاست بن گئی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے کنڑول سنبھالا تو اس ریاست کو سو سے زائد نوابی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔  تقسیم ہند ( 15 اگست 1947 )کے وقت نواب محمد مہابت خان سوئم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی حکومت نے 15 ستمبر 1947 کو اس کی منظوری دی۔ اگرچہ ریاست جوناگڑھ کا خشکی کا کوئی راستہ پاکستان سے نہیں ملتا مگر سمندر کے ذریعے یہ تعلق ممکن ہے کیونکہ اس ریاست کا کراچی سے سمند ری فاصلہ 480 کلومیٹر ہے۔اس ریاست کے ماتحت دوریاستیں تھیں (1)منگروال (2)بابری آباد۔

۔ 9 نومبر 1947 کو بھارت فوجوں نے ریاست جونا گڑھ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر لیا

تراونکور کی مملکت

 تراونکور کی مملکت شمالی بھارت کی ایک بڑی مملکت تھی۔ موجودہ بھارت کی پر فضا مقامات جن میں کیرالہ، کنیا کماری اور تامل ناڈو شامل ہیں اسی مملکت کا حصہ تھے

۔ سن 1947 کی آزادی کے بعد مملکت کے بادشاہ سر سی پی راماسوامے لیر نے اعلان کیا کہ وہ ایک خود مختار ملک کے طور پر رہیں گے اور بھارت میں شامل نہیں ہونگے ۔اکتوبر 1949 میں بھارت نے اس پر قبضہ کرلیا

جودھ پور

 جودھ پور بھارتی ریاست راجھستان کا  سب سے بڑا شہر تھا ۔آزادی کے وقت جودھ پور کے نواب نے بھی پاکستان سےالحاق کی بات شروع کی۔قائد اعظم نے کہا کہ جو شرطیں آپ رکھنا چاہیں رکھیں ہمیں منظور ہونگی  مگر جونا گڑھ پر قبضہ کے بعد بھارت نے جودھ پور پر بھی زبردستی قبضہ کر لیا

جیسل میر

جیسل میر کی ریاست  موجودہ راجھستان ریاست کا حصہ تھی۔ یہ ریاست سونے کا شہر (گولڈن  سٹی) کہلاتی ہے۔ جیسل میر کے حاکم نے جودھ پور کے ساتھ مل کر قائد اعظم سے بات چیت شروع کی۔مگر ماؤنٹ بیٹن کی مدد اور بھارتی فوج کی جونا گڑھ اور ملحقہ علاقوں میں مداخلت کے بعد بھارت نے 1948 میں انہیں بھارت  میں ضم کرلیا

پپلوڈا

 پپلوڈا موجودہ بھارتی ریاست مدھیہ پریش کا  حصہ ہے ۔۔ آزادی کے بعد اس نے بھی خود مختار حیثیت سے رہنے کا اعلان کیا مگر بھارت نے مسلسل دباؤ کے بعد  15 جون 1948 کو اس پر بھی قبضہ کرلیا اور اسے مدھیہ پردیش کا حصہ بنا دیا

اُڑیسہ

 اُڑیسہ کی ریاست بھی خود مختار رہنا چاہتی تھی ، مگر بھارت مسلسل راجاؤں پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ بھارت نے  دسمبر 1947 کو علاقے کے راجاؤں کو دہلی بلایا گرفتار کیا اور اُڑیسہ پر قبضہ کرلیا 

ریاست سکم

آزاد ملک  سکم بھارت  کے لیے سٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ سن 10 اپریل 1975  میں بھارت نے سکم ملک پر قبضہ کرلیا 

اس مختصر سے تاریخی حوالے کے بعد آپ کو اندازہ ہوگیا ہو گا کہ  15 اگست کو آزادی حاصل کرنے کے بعد ہندو سورماؤں نے سب سے پہلے 13 ستمبر (یعنی ایک ماہ کے اندر) حیدر آباد پر فوجی کاروائی کرکے جو قبضہ شروع کیا تھا وہ  10اپریل 1975 کو سِکم پر قبضہ کرنے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس درمیانی عرصہ میں بھارت نے سینکڑوں ریاستوں کو ہضم کرلیا اور اس پرڈھٹائی کہ ہم نے کچھ کیا ہی نہیں۔

اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے یا سب سے بڑا بدمعاش قبضہ گروپ 

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *