کلچرل سٹرائیک اور غزوۃ الہند

 (تحریر: عاطؔف مرزا)

آج کل ھندوستان کی جانب سے کی جانے والی نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا ذکر عام ھے، ہر ایرا غیرا نتھو خیرا ،پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اسے مذاق کا نشانہ بھی بنائے ھوئے ھے۔ سب اِسی خوش فہمی میں مبتلا ھیں کہ انڈیا کے حملہ کرتے ہی پاکستان ایٹم بم چلائے گا اور انڈیا بھسم ہو جائے گا، کوئی بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے انڈیا جانے کے خواب دیکھ رہا ھے تو کوئی کترینہ کیف سے ملنے کے کیف میں گم ھے۔ کئی لوگوں نے تو غزوۃ الہند کی بشارت بھی دینا شروع کر دی ھے۔ھندوستان کے جھوٹے الزامات ، ھیرا پھیری، بد دیانتی، ظلم و جبر، نا انصافی اور منافقانہ انداز سے یقینا ً ھم سب خائف ھیں مگر اِس سے زیادہ حیرانی ھوتی ھے اپنے کم فہم ھم وطنوں پر جو بے عمل ھو کر بھی آخرت میں کامیابی کے خواب دیکھ رھے ھیں۔ اُدھر انڈیا نے کشمیر پر اپنے مظالم زیادہ کر دیے ہیں ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں واویلا زیادہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائےجس پر لوگوں نے انٹرنیٹ پر طرح طرح کی پٹیشنز بھی سائین کی ہیں۔ ان کے بچے بچے کا نکتہ نظر دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ھے۔ جب کہ ھمارے بڑوں کو اب تک دنیا کے سامنے اپنی بات کو واضح کرنا نہیں آیا۔ کشمیر پر بات ایسے کی جا رھی ہے جیسے کسی سے معافی مانگی جا رھی ھو۔ حب سے پکڑے جانے والے ھندو افسر کا معاملہ ہو یا ملوں میں کام کرنے والے انڈین انجنئیرز کی موجودگی کا مسئلہ ان سب باتوں پر حکومت کی خاموشی ہماری سمجھ سے بالاتر ھے۔ لائن آف کنٹرول پر کیئے جانے والے حملے اور فائرنگ پر دفترِ خارجہ کی جانب سے بھی کوئی پیش رفت نہیں ھوئی۔

پریشانی تو یہ ھے کہ وزارت خارجہ کا چارج بھی مارچ 2013 سے وزیرِ اعظم نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کا معاشی جنازہ پہلے ہی نکلنے والا ہے، اب خارجہ پالیسی کی موت واقع ہونے میں وقت نہیں رہ گیا۔ آموں کی پیٹیاں اور ساڑھیاں تو علامتی تحفے تھے، اصل بات آپس کی تجارت ھے۔ یہی کام اُدھر والے کر رھے ھیں۔ دونوں سیاستدان آپس میں کاروبار پر لگے ھوئے ھیں، مرنے والوں میں معصوم کشمیری شامل ھیں یا فوجی۔ رھی بات سرجیکل سٹرائیک کی تو اُسے تو ھم شاید مذاق میں ٹال دیں مگر جو کلچرل سٹرائیک انڈیا ایک عرصے سے ھمارے معاشرے پر کر رھا ھے، اس سے کون انکار کرے گا۔ ھندو ثقافت کی اِس یلغار میں ھمارے نام نہاد لبرلز کا خاصا کردار ھے، یاد رھے کہ اِن لبرلز میں ایک بڑی تعداد ملحدین یا دہریوں کی ھے۔ امن کی آشا کے نام پر ایک گروپ نے تو باقاعدہ سے تماشا لگایا ھوا ھے۔

کچھ سیاسی پارٹیوں کے کرتا دھرتا بھارت کے تنخواہ دار ھیں اور اُدھر باقاعدہ حاضر ھو کر جانے کس کس کے چرن چھوتے ھیں۔ ان میں الطاف حسین، عاصمہ جہانگیر اور ماروی سرمد وغیرہ کے نام سر فہرست ھیں۔ اسی طرح ھمارے بہت سے سیاستدان، صحافی، فن کار اور ادیب جانے انجانے میں انڈیا کے نظریات کی تشہیر میں اھم کردار ادا کر رھے ھیں۔ ھمارے اکثر ٹی وی چینلز تو باقاعدہ ھندوستانی نشریات، فلمیں، ڈرامے اور گانے نشر کرنا اپنا فرض سمجھتے ھیں۔ بچے شادی میں پھیرے کرانے کی ضد کرتے نظر آتے ہیں۔ بزرگوں کی عزت ادب کا تقاضہ سہی مگر جھک کر ان کے قدموں کو چھونا یا گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کا فیشن ھندی فلموں کی وجہ سے یہاں بھی رواج پا گیا ھے۔ھمارے جن فن کاروں کو یہاں کوئی پوچھتا نہیں وہ انڈیا جا کر لیٹ جاتے ہیں، ھمارے کھلاڑیوں کو وہاں جاکر آئی پی ایل میں اپنی بولی لگوانے کا شوق جانے کہاں سے چڑھ گیا ھے۔ ھندو انتہائی خوشی سے کوتلیہ چانکیہ کے “پوتر اشلوک” پر صدیوں سے عمل کرتا چلا آیا ھے، شادی بیاہ ھو یا کار و بار، تعلقات ھوں یا جنگ و جدل اِس کی سوئی ابھی تک چندر گپت موریا کے وزیرِ باتدبیر کے کہے ھوئے “شبدوں” سے آگے نہیں بڑھتی، ھندو دیومالائی داستانوں کو اتنا مضبوط اور طاقتور کر کے دکھایا گیا کہ ساری دنیا اُسے سچ سمجھے بیٹھی ھے، جبکہ ھندو کی اپنی تاریخ جنگ و جدل ، ظلم و جبر اور زیادتی سے بھرپور ھے۔

اِدھر مسلمان کو اللہ اور اُس کے پیغمبرِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر چلتے دیکھ کر اُس کی پھوک سرکنا شروع ھو جاتی ھے اور وہ طرح طرح کے ھتھکنڈوں سے مسلمان کو اُس کی راہ سے ھٹا دیتا ھے، جیسے یہودی اپنی عورتیں پیش کر کے اپنا نظریہ پھیلاتے تھے ، ھندوؤں نے بھی اپنی عورتوں کے ذریعے مسلم معاشرے کو ناپاک کرنے کی شازشیں صدیوں سے جاری رکھی ھوئی ھیں۔ مسلمان کو بھی اب قرآن و حدیث پر چلنا بوجھ لگنا شروع ھو گیا ھے۔ اینٹرٹینمنٹ کے نام پربے حیائی کا ایک طوفان پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیے ھوئے ھے۔ میں یہ بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ ھم پاکستانی رند کے رند رہنا چاھتے ھیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہیں چھوڑنا چاھتے۔ یہ بات اپنے پلے باندھ لیجیئے کہ جو کلچر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ھم تک پہنچایا اور جو جینے کا انداز خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے طور پر ھمیں بتایا گیا اُس سے بہتر کچھ بھی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جتنے غزوات لڑے ان میں شامل ھونے والے صحابہ خالصتاً حُبِ رسول میں اپنی مثال آپ تھے، دیانت، امانت، صداقت میں یکتا تھے۔ کسی بھی صورت ان کی نظر کسی اجنبی عورت کی جانب نہیں اٹھتی تھی، کچھ بھی ھو وہ غیر کا مال اپنا نہیں بناتے تھے۔ اپنے بچے کا پیٹ پالنے کے لیے دوسرے کے منہ سے لقمے نہیں چھینتے تھے۔ یہ بات تسلیم شدہ ھے کہ قیامت کی نشانیوں میں غزوۃ الہند کی خبر دی گئی ہے، مگر ایسا نہیں ھو سکتا کہ ھم انڈیا کی فلمیں دیکھتے دیکھتے اٹھیں اور جا کر غزوۃ الہند لڑیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *