ہمارے محافظ اور حکمران

 آج صبح اخبار پڑھنے کے بعد میں کنفیوز تھا ، میں نے بابو صاحب کو فون کیا . بابو صاحب کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں میں رہتے ہیں اور ان کو سیاست اور حکومت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے . میں جب بھی کسی ذہنی پریشانی کا شکار ہوتا ہوں تو میں انھیں فون کرتا ہوں اور بات چیت میں بہت سی الجھنیں سلجھ جاتی ہیں . آج میں نے فون کیا تو بابو صاحب بولے ” کل رات تین مقامات پر انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی مگر ہماری فوج نے ان کو بڑا کرارا جواب دیا 

میں نے پوچھا کہ کیا جنگ ہو گی ؟ بابو صاحب نے کچھ توقف کے بعد کہا ” جنگ کا پتہ نہیں مگر مجھے پچھلے کچھ دنوں میں سرحد کی جانب روشن لباس میں ملبوس کچھ لوگ نظر آئے ” میں نے پوچھا یہ لوگ کون ہیں ؟ بابو صاحب بولے ” شائد الله کے نیک لوگ ہیں جو ان سرحدوں کے محافظوں کی مدد کے لیے الله نے بھجوائے ہیں “. میں نے پوچھا کہ محافظوں کو مدد کی کیا ضرورت ہے ؟ بابو صاحب بولے ” ان محافظوں کے حکمران ان کے مخالف ہو گئے ہیں اور جب حکمران اپنے محافظوں اور الله کے سپاہیوں کی عظمت کو اپنے کاروبار اور مفادات کی خاطر داؤ پر لگاتے ہیں تو غیب سے مدد آتی ہے جیسے 65 کی جنگ میں آئی تھی” . میں نے بابو صاحب کی بات سنی تو پوچھا کہ ان کا پاکستا ن کی حکمران جماعت اور اپوزیشن کے بارے میں کیا کہنا ہے؟ بابو صاحب نے کچھ خاموشی کے بعد کہا ” شام ہونے والی ہے میں نے بھینس کو گھاس ڈالنا ہے پھر بات کریں گے ” اور کال منقطع ہو گئی

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *