چائے والا

چائے والا ایک ٹھرکی ذہن کی بیمار سی اختراع ہے اور کچھ نہیں” نینا بولی. میں نے وضاحت کے لیے کہا تو بولی “میں پختون ہوں اور پختون خوبصورت ، خوش شکل اور جاذب نظر ہوتے ہیں مگر بے چارہ ارشد خان ایک ٹھرکی سوچ کی نظر ہو گیا . کل سے آج تک سوشل میڈیا نے اس غریب کو ایک مذاق بنا دیا ہے . ہر ٹی وی چینل یہ دعوی کر رہا ہے کہ وہ سب سے پہلے مشہور چائے والے تک پہنچا ہے ، کوئی اس کا موازنہ شاہ رخ خان اور نیریندر مودی سے کر رہا ہے اور کوئی اس کا شجرہ نسب تلاش کرنے میں لگا ہے جبکہ بے حیائی کی حدوں کو عبور کرنے والی شیرنیاں اس مزدور پر ایسے جھپٹ پڑی ہیں جیسے انہوں نے پہلے کوئی مرد نہیں دیکھا ” ” یہ کیسے ہو سکتا ہے نینا ، ملک اب روشن خیال ہے اور ان شیرنیوں کو حق ہے کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار کریں ” میں نے کہا ” نہیں یہ روشن خیالی نہیں بیمار ذہنیت ہے ، بلکل ہی بیمار ذہنیت. یہاں گنگا الٹی بہتی ہے ، ہم ماڈرن اور روشن خیال ہونے کے چکروں میں اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں . کچھ روز پہلے جب انڈیا نے پاکستانی فنکاروں پر سرجیکل اسٹرائیک کی تو پاکستان کے ایک نجی چینل پر بیٹھے فنکار اس بات پر افسردہ تھے کہ اس ماحول میں فن اور فنکار کو نقصان پہنچے گا مگر انھیں یہ فکر نہیں تھی کہ قومی وقار کا جنازہ نکل رہا ہے 

“نینا تم جیلس ہو ” میں نے طنز کیا. نینا مسکرائی اور بولی ” ہاں میں جیلس ہوں کیونکہ مجھے اپنی بنیادوں سے پیار ہے . تم دیکھنا کچھ دنوں میں ارشد ماضی کی ایک کہانی بن جائے گا ، ابھی وہ پانچ سو روپیہ دن کا کماتا ہے کل وہ جب بے روزگار ہو گا تو اس کے خاندان کو اس کی نیلی آنکھیں نہیں اس کا ہنر رزق دے گا اور رزق کے لیے کام کرنا پڑتا ہے جو وہ حلال طریقے سے کر رہا تھا ، ابھی کچھ دنوں میں کوئی سبزی والا یا نان والا بھی کسی بیمار سوچ کا شکار ہو گا اور سوشل میڈیا پر لکھا آئے گا – میری ماں کو یہی داماد چاہیے

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *