کوئٹہ پھر سے

 عجیب بات ہے حکومت وقت کہتی ہے ” ہم نے کہا تھا دیواریں اونچی کریں ، ہم نے کہا تھا سیکیورٹی مہیا کریں ، اب دیکھ لیں آج پھر کوئٹہ میں دہشت گرد اپنے عزائم میں کامیاب ہو گئے، ہماری تو کوئی سنتا ہی نہیں ہے ” . ایسے ہی کچھ روز پہلے جب بلوچستان کے پولیس چیف نے حکومت سے کہا ” ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس ٹریننگ اکیڈمی کی دیوار اونچی کروا دیں” تو تب بھی حکومت اٹھی اور بادشاہوں کی طرح بولی ” ہم اس کی منظوری دیتے ہیں” “یہ کیا بکواس ہے ؟ ” بوڑھےعصمت الله نے اپنے بیٹے کو ٹی وی بند کرنے سے پہلے کہا . ” ابا آپ پریشان نہ ہوں الله مالک ہے اور جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں انہیں الله نے شہادت کی موت دی ہے ” ارسلان بولا . ” بیٹے اس ملک کا الله ہی مالک ہے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب اس ملک کے حکمران اس کے عوام کو مویشیوں کی طرح کسی منڈی میں بیچنے چلے جائیں گے اور عوام کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کوئی ان کی سانسوں کا بھی سودا کر گیا ہے . رائے وند میں دیواریں اونچی ہو رہی ہیں اور پورے ملک میں حفاظتی حصار گرائے جا رہے ہیں ، میں نے جس وطن کی خاطر دو جنگیں لڑیں اور تین بار زخمی ہوا کیا یہی وہ ملک ہے ؟ اور کیا ہم نے یہ ملک ان سیاستدانوں کے لیے آزاد کروایا تھا جنہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ حکومت میں ہیں اور انہیں مدد کرنی ہے مانگنی نہیں ہے جبکہ تو کہتا ہے ، ابا پریشان نہ ہو ” عصمت الله غصے میں کانپ رہا تھا 

” ابا حکومت کیا کرے مسائل ہی اتنے ہیں ، آپ کا دور اور تھا اب حالات بدل گئے ہیں اور پھر فوج بھی تو سرحدوں پر مصروف ہے اب دہشتگردی کو روکے بھی تو حکومت کیسے روکے” ارسلان بولا. عصمت الله کو ارسلان کے جواب پر حیرانگی ہوئی اور وہ بولا

 بس یہی تمھاری سوچ اور مسائل کا رونا اور بدلے ہوئے حالات کا مرثیہ پڑھنا مجھے پریشان کر رہا ہے . فوج اپنا کام کر رہی ہے کیا باقی ادارے بھی اپنا کام کر رہے ہیں ؟ حکومت اپنی کرپشن کو چھپانے ، فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے ، اپنے ذاتی کاروبار کے لیے ہندوستان کو خوش کرنے ، مال بنانے ، عمران خان کو غلط ثابت کرنے ، اسکیموں کا اعلان کرنے ، اخبارات کو من پسند خبروں کے نوالے کھلانے اور اپنے بچوں کی تاج پوشی کے انتظامات کرنے کے بجائے اگر صرف ایک دن کے لیے باہر عوام میں نکلے تو ساری دیواریں مظبوط اور سارے مسائل کا حل نکل آئے گا اور پھر یہ کلبھوشن کو کس لیے روٹیاں کھلا رہے ہیں ، بنائیں اس کو عبرت کا نشان تو کوئی واہگہ کے اس جانب آیا یا کسی نے اس مٹی کو میلی نگاہ سے دیکھا تو میرا نام بدل دینا ، ان حکمرانوں کو فکر ہے کہ بس افغان کہیں واپس نہ چلے جائیں اور پاکستان کہیں مظبوط نہ ہو جائے ، الله میرے وطن کو ہمیشہ آباد رکھے مگر “ایک اور کوئٹہ ” جیسا حادثہ ان حکمرانوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ کوئٹہ ہائیڈ پارک کے پاس نہیں ہے

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *