یاسین ملک



 کل سے صحت بہت خراب تھی ، میں اپنے ایک دوست کو ملنے چلا گیا جو ایک ڈاکٹر ہے . میں نے اسے بتایا کہ مجھے نیند نہیں آتی . کیوں نہیں سوتے تم ؟ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا “میرے بازو میں درد ہے” میں نے اپنی تکلیف کے بارے میں بتایا. “دوائی دوں” اس نے میز پر رکھے میڈیسن باکس کو کھولتے ہوئے پوچھا !”نہیں مجھے درد ہے مگر اتنا نہیں جتنا شائد یاسین ملک کو ہے ، کاش یاسین کا درد ہم محسوس کر پاتے ، کاش ہمیں احساس ہوتا کہ پچھلے کئی ماہ سے وادی محاصرے میں ہے ، کاش یہ جماعتیں تقریریں نہ کرتیں ، کاش ٹی وی چینل حکمرانوں کے ماؤتھ پیس نہ ہوتے تو شائد اس درد میں کمی آتی ،کچھ سال پہلے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں میں نے جمعہ کی نماز ادا کی تو میرے سامنے یاسین ملک نماز ادا کر رہے تھے ، میں نماز کے بعد انھیں دیکھتا رہا مگر مجھےان سے کچھ پوچھنے کی تو درکنار اٹھ کر ملنے کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں پوچھوں گا تو کیا ؟جب لاہور سے ساڑھیاں دلی جا چکی تھیں اور گجرات کے قصائی کی جشن تاج پوشی پر پاکستان کے بادشاہ خود ہندوستان تشریف لے گئے اور کشمیر کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا تو میں اپنی کم ہمتی کا رونا بھی نہیں رو سکتا تھا . اس کے بعد دو یا تین بار میں نے یاسین ملک کو اس مسجد کے پاس دیکھا مگر میں ان سے نہیں ملا” میں نے طویل وضاحت کی 

” دیکھو الله کشمیریوں کے ساتھ ہے اور غیب سے مدد آئے گی ” ڈاکٹر بولا. “مجھے غیب کا پتہ نہیں مگر لگتا ہے کہ اب کشمیری کسی دوسری یا تیسری طاقت کے منتظر نہیں بلکہ وہ یہ سمجھ گئے ہیں کہ انھیں خود ہی نکلنا ہو گا ، اسی لیے شائد ہندوستان حقیقی کشمیری قیادت کو ختم کرنا چاہتا ہے ” میری بات سنتے ہی میرے ڈاکٹر دوست نے پوچھا ” آزاد کشمیر کی حکومت کیا کر رہی ہے ؟ ” میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ مظفرآباد میں بیٹھا حکمران کشمیریوں کا نہیں نون لیگ کا نمائندہ ہے اور جہاد کی چادر اوڑھنے والی سیاسی جماعتیں اپنے مفاد اور کرسی کی خاطر خاموشی سے اس گوبر سے بھرے ٹرک میں بیٹھی ہیں جس کی منزل ذلالت کا گٹر ہے . میری خاموشی دیکھ کر ڈاکٹر نے ماحول بدلنے کے لیے پوچھا ” تم نے چائے والے کے بارے میں پڑھا ہے ؟ آج کل بڑا ہٹ جا رہا ہے

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *