جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا ۔۔۔ 2 نومبرکو کیا ہوگا؟

ملکی سیاست کا بازار ایک بار پھر گرم ہوچکا ہے، پچھلے تین سالوں کی طرح اس بار بھی سیاسی گرما گرمی کی روح رواں پاکستان تحریک انصاف ہی ہے۔ ہر چائے کے کھوکھے پر سیاست کا ایک ہی موضوع زیر بحث ہے کہ 2 نومبر کو کیا ہوگا؟ دھرنوں کے مشہور زمانہ نعرے “جینا ہوگا مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا” کا مطلب 2نومبر کے اس دھرنے کے حوالے سے اس طرح لیا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کہہ رہی ہے کہ “جینا ہوگا یا مرنا ہوگا” جبکہ دوسری اپوزیشن جماعتیں اور خود حکومت بڑی خود اعتمادی سے کہہ رہی ہے کہ یہ صرف “دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا” اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس دفعہ 2 نومبر کو کیا ہونے جارہا ہے اس کے ممکنہ نتائج کو جاننے سے پہلے  نگاہ اگر تحریک انصاف کی دھرنوں کی تاریخ اور ریلیوں، جلسوں کے تسلسل پر ڈال لی جائے تو بات ذرا جلدی سمجھ میں آجائے گی۔

تحریک انصاف کے پچھلے گرینڈ دھرنا اسلام آباد سے لے کر آج تک تحریک انصاف نے کئی چھوٹے موٹے دھرنے ، دھرنا کنونشن ، ریلیاں، جلسے اور جلوس منعقد کئے۔ اور ان سب کی تعداد کو اگر لاتعداد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ مگر اسلام آباد کے 100 روز سے زائد کے دھرنے سے لے کر آج 2 نومبر کے متوقع دھرنے تک کوئی نتیجہ نکلا؟ کوئی کامیابی ہوئی؟ کوئی بڑا مطالبہ تھا جو پورا ہوا؟ تو اس سب کا جواب صرف اور صرف”نہیں” میں آئے گا۔

اس کا مطلب ہے کہیں تو مسئلہ ہے یا تو دھرنوں اور ریلیوں کی پلاننگ میں کوئی مسئلہ ہے یا عوام اور حکومت سمجھ چکی ہے کہ اس سے حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے خود اسد عمر نے قبول کی دھرنوں کی پلاننگ میں بے شمار غلطیاں ہوئیں انہوں نے یہ بھی قبول کیا کہ بہت سے نعرے اور بہت سے وعدے ایسے تھے جو نہیں کئے جانے چاہیے تھے۔ بہت سے ایسے بے  تکے نعرے اور لا حاصل کالز ایسی بھی دی گئیں جن کی کامیابی پر خود تحریک انصاف کو یقین تھا کہ یہ کامیاب نہیں ہوسکتیں جس کی سب سے بڑی مثال سول نافرمانی کی کال تھی جس پر ۔۔خود تحریک انصاف کے بڑے بڑے لیڈروں اور عام کارکنوں نے بھی کان نہ دھرے

احتجاج کے اس لامتناہی سلسلے میں ایک امر واضح طور پر سامنے آیا کہ ان سب کے پیچھے صرف اور صرف ایک شخص دماغ کام کررہا ہے اور وہ ہے عمران خان۔ جو دوست عمران خان کو جانتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ سنتے ہیں مگر مرضی اپنی کرتے ہیں اور چونکہ مشوروں اور تجاویز سے بالاتر ہوکر ان تمام دھرنوں اور ریلیوں کو پلان کیا گیا اس لیے ان سب کا نتیجہ بھی ایک ہی طرح کا آیا۔

دوسری بڑی وجہ عمران خان کے ادر گرد پائے جانے والے خوشامدیوں کا ٹولہ ہے خاص طور پر وہ جو انہیں سوشل میڈیا بارے بریف کرتا ہے کہ اپ کا پیغام لاکھوں لوگوں نے فیس بک پر دیکھ لیا، ہزاروں نے لائک کرلیا اور ٹوئٹر پر تو طوفان آیا ہوا ہے۔ اس سارے غیر مرئی دنیا کے سبز باغ کے پھل  یقیناً دکھائی تو دیتے ہیں مگر نہ ان کو کھایا جاسکتا ہے نہ ہی ان کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے

اب ایک نہایت اہم سرگرمی کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہو اور وہ ہے “ن لیگ کی سٹریٹجی” آپ لوگ جس طرح ن لیگ کے ری ایکشن کو ان تمام دھرنوں میں لے رہے ہیں اصل میں  وہ سب ایک سوچی سمجھی اور نہایت باریک بینی سے تیار کردہ پلاننگ کا نتیجہ ہے۔ ن لیگ تحریک انصاف اور عمران خان کو اچھی طرح جان چکی ہے اور یہی بات تحریک انصاف کے لیے نہایت خطرناک ہوچکی ہے۔

ن لیگ کس طرح تحریک انصاف کے دھرنوں اور ریلیوں کو ثبوتاج کرتی ہے آئیے اس کے خدوخال کا جائزہ لیتے ہیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف جب بھی کسی دھرنے یا احتجاج کا پلان کرتی ہے تو ن لیگ کا فوری اور پہلا ری ایکشن نہایت تیز ہوتا ہے، “یہ نہیں کرنے دیں گے”، “جمہوریت کو خطرہ ہے”، “دہشت گردی کا خطرہ ہے” ، قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے” وغیرہ وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ سیاست کے میدان میں یہ خبریں گرم کروائی جاتی ہیں کہ حکومت اس کو آہنی ہاتھوں سے نمٹی گی۔ اس سارے عمل سے ماحول نہایت گرم ہوجاتا ہے اور تحریک انصاف ایک ضدی بچے کی  مانند اس پر اڑ جاتی ہے کہ اب تو ہم یہ ضرور کریں گے اور جیسے ہی اس جلسے یا دھرنے کی تاریخ قریب آتی ہے یا وہ دن آتا ہے تو حکومت ایک دم پیچھے ہٹ جاتی ہے اور اس طرح اتنا بڑا سیاسی خلا پیدا ہوجاتا ہے کہ تحریک انصاف جیسی جماعت کے لیے اس کو پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ تحریک انصاف جو پچھلے چند دنوں کی گرما گرمی میں اپنے اعلانات کے ذریعے عوام اور جذبات کو آسمان پر پہنچا چکی ہوتی ہے اب ان کے پاس نہ کوئی پلان ہوتا ہے نہ کوئی پروگرام اور نتیجہ چند تقرریں اور پھر اپنے اپنے گھر۔

.ن لیگ نے اس سٹریٹیجی کے ذریعے تحریک انصاف کے ہر پروگرام کو تباہ کروا دیا اور عمران خان کے پاس اس سیاسی چال کا فی الحال کوئی توڑ موجود نہیں ہے

اب کی بار تحریک انصاف ایک غلطی اوربھی کررہی ہے کہ اپنی رہی سہی طاقت کو مجتمع کرنے کی بجائے کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن کے نام پر پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس دھرنے کا زور بہت جلد ٹوٹ جائے گا۔ اگرچہ مین دھرنا فیض آباد سے زیرو پوائنٹ تک دیے جانے کا ارادہ ہے مگر کئی اور جگہیں بھی مختص کی گئیں ہیں اور وہاں کے لوگ جلد بکھر جائیں گے اور یا تو گھروں کو لوٹ جائیں گے یا پھر مین دھرنے میں آجائیں گے

اب یقیناً سارا معاملہ آپ کی سمجھ میں آچکا ہوگا کہ 2 نومبر کا شور مچا ہوا ہے، پولیس فورس بلائی جارہی ہے، کروڑوں روپے پولیس کے دینے سے لے کر اسلحہ اور آنسوگیس کی فراہمی تک کی خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی پوری ٹیم اس سے نمٹنے کی تیاری کررہی ہے۔ اور ہو گا کیا ،کچھ بھی نہیں کچھ جگہوں پر شاید تحریک انصاف خود الجھنے کی کوشش کرے اور کچھ مالی یا جانی نقصان ہو، مگر زیادہ تر ماحول ویسا ہی رہے گا اور پھر وہی ہوگا کہ تحریک انصاف کے پاس آئندہ کا کوئی پلان نہیں ہوگا سوائے عمران کی پانامہ کی تقریریں اور شیخ رشید کی مار دو مر جاؤ کی للکار۔

کچھ عرصہ کی خاموشی ہوگی اور پھرایک بار تحریک انصاف چلا اٹھے گی “جینا ہوگا مرنا ہوگا۔۔دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا ۔۔ اور شاید یہ سلسلہ 2018 کے ۔۔الیکشن کے بعد بھی چلتا رہے

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *