موصل معرکہ : ترکی اور ایران کے مفادات۔۔۔



(اسامہ طیب)

عراق میں دہشت گرد تنظیم داعش(اسلامک سٹیٹ)کے سب سے اہم گڑھ موصل کا قبضہ واپس لینے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔ داعش مخالف اتحاد میں عراقی فوج،کرد بیشمرکہ، شیعہ ملیشیا،عیسائی اور سنی قبائل شامل ہیں جبکہ امریکہ فوجی امداد کے علاوہ انٹیلی جنس معلومات بھی فراہم کر رہا ہے۔ عرب موسیقی کے مرکز سمجھے جانے والے اس شہر کو داعش سے آزاد کرانے کی جنگ میں ترکی اور ایران کے اپنے اپنے مفادات ہیں جن کے باعث یہ لڑائی ختم ہونے کے بعد ایک اور لڑائی شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک جانب ترکی کے موصل سے تاریخی،نسلی اور ثقافتی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران اس علاقے کو بحیرہ روم تک راہداری کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے۔ عراق میں فلوجہ آپریشن کے دوران شیعہ ملیشیاؤں نے سنی قبائل کے سینکڑوں افراد کا قتل عام کیا اور انسانیت کے خلاف جرائم کے متعدد واقعات پیش آئے۔ اب موصل آپریشن میں ان ملیشیاؤں کی شرکت کو تشویش ناک نظروں سے دیکھا جا رہا ہے اور مسلک کی بنیاد پر قتل و غارت گری کے شدید خدشات موجود ہیں۔ عراق کی پچھلی حکومت کی غیر متوازن پالیسیوں سے سیاسی نظام کو شدید دھچکا لگا اور اب موجودہ حکومت کے پاس مابعد جنگ کسی منصوبے کی عدم موجودگی سے داعش کی شکست کے بعد ایک نئی داعش پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

mosul-iraq-map

ترکی اور ایران شام وعراق میں جاری خانہ جنگی اور باغی گروہوں کی باہمی لڑائی کے اہم کھلاڑی ہیں۔ دونوں ملک جغرافیائی سیاست کے کھیل میں مسلکی اور فرقہ وارانہ علاقائی تقسیم کے پتوں کو بخوبی استعمال کر رہے ہیں تاکہ شام اور ترکی میں ان کا اثر و رسوخ قائم رہے۔ ایران اس علاقے میں عراق، ترکی اور شام کی کرد برادری کی ایک نیم خودمختار حکومت قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ ترکی اور عراقی کردستان کی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں آیا جا سکے۔ اور وہ اس علاقے کو بحیرہ روم میں شام اور لبنان کے ساحلوں تک پہنچنے کے لیے زمینی راہداری کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔ ایران کے لئے بحیرہ روم تک رسائی کے لیے سب سے مختصر راستہ موصل ہی ہے۔

ترکی کے موصل اور اس کے باسیوں سنی عرب اور سنی ترکمانوں کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ ترک حکمرانوں کا یہ موقف بھی ہے کہ موصل کے علاقے کو جنگ عظیم اول کے بعد چھوڑنا نہیں چاہیے تھا۔ ترکی دعویٰ کرتا ہے کہ موصل،کرکوک اور حلب کے علاقے تاریخی طور پر اس کا حصہ ہیں جو جنگ عظیم دوم کے بعد سرحد بندی کے دوران اس سے چھین لیے گئے۔ جنگ عظیم اول کے بعد لوزانے امن کانفرنس میں ترکی نے موصل، کرکوک اور سلیمانیہ کے علاقوں کو اپنی سرحد میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اتحادیوں نے اسے منظور نہیں کیا۔ موصل کے عرب سیاستدان اور قبائلی رہنما بھی مشترکہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور ایران اور شیعہ ملیشیاؤں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی کی حمایت ضروری سمجھتے ہیں۔ ترکی کا ماننا ہے کہ اس علاقے کی سنی عرب اور ترکمان آبادی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ایران اور شیعہ ملیشیائیں سنی ترکمانوں کو بے دخل کر کے موصل اور اس کے مضافات جیسا کہ تل عفر، بادوش، بعشیقہ(بیت عاشقاں) وغیرہ میں آبادی کا تناسب بدلنا چاہتی ہیں۔ ترکی کے عراقی کردستان کی مرکزی سیاسی جماعت کردش ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں جبکہ اس نے عراقی کردستان کی حکومت سے بھی وعدہ کیا ہے کہ خطرے کی صورت میں اس کا دفاع کیا جائے گا۔

mosul-iraq-map-02

ترکی کو خطرہ ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے )شمالی عراق میں اپنی موجودگی بڑھانا چاہتی ہے جو اس کے لیے بڑے خطرے کا باعث بنے گی۔ پی کے کے گذشتہ چار دہائیوں سے ترکی کے ساتھ برسرپیکار ہے ۔ اس سے پہلے پی کے کے شمالی شام میں سنجار کے علاقے کو داعش سے چھڑانے کے آپریشن میں شریک ہوئی تھی جس کے بعد کرد جنگجوؤں نے ترک سرحد کے ساتھ ملحقہ اس علاقے میں اپنے اڈے بنا لیے ۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی موصل آپریشن میں پی کے کے کی شرکت کے سخت خلاف ہے ۔ ترکی نے شام میں ’آپریشن فرات ڈھال‘ بھی شروع کر رکھا ہے جس کا اولین مقصد داعش اور کالعدم تنظیم پی کے کے کو سرحدی علاقے سے دور رکھنا اور انہیں دریائے فرات کے اس پار محدود کرنا ہے تاکہ سرحد کے ساتھ شام میں ایک ’سیف زون‘ بنایا جا سکے اور اس کی اپنی سرحدیں محفوظ رہیں۔

عراق میں سابق وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیاں سیاسی نظام کی ناکامی کا سبب بنی تھیں۔ غیر متوازن پالیسیوں کے باعث ایک جانب احساس محرومی اور معاشرتی دھارے سے بے دخلی کے احساسات نے جنم لیا تو دوسری جانب کوئی دوسرا راستہ نہ پا کر سنی نوجوان مسلح بغاوت کی جانب مائل ہوئے جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی اور ملک کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔ حکومت سے مایوس ہو کر سنی اور کرد برادری مدد کے لیے ملکی سرحدوں سے باہر دیکھنے پر مجبور ہوئی۔ عراق کی موجودہ حکومت اور امریکی اتحاد کے پاس داعش کو شکست دینے کے بعد موصل کی تعمیر نو اور آبادکاری کا کوئی منصوبہ سرے سے ہی نہیں ہے ، اور نتیجے کے طور پر فرقہ وارانہ اور مسلکی کش مکش بڑھے گی۔ ترکی اور ایران علاقے میں اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں، اس پہلو کو مدنظر رکھے بغیر کہ اس کے نتائج ایک اور جنگ کی صورت میں نکلیں گے۔ مسلکی اور نسلی تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے مابعد جنگ تعمیر نو کا کوئی منصوبہ فوری طور پر نہ بنایا گیا توتباہی کے اس ڈھیر سے ایک اور مسلح بغاوت کے جنم لینے کا خطرہ ہے ۔

One thought on “موصل معرکہ : ترکی اور ایران کے مفادات۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *