لاک ڈاؤن ۔۔ ناک ڈاؤن ۔۔۔ کیا عمران نواز ملے ہوئے ہیں؟؟؟

پچھلے پندرہ دن پاکستانی سیاست میں طوفان برپا رہا ، ہر طرف ایک ہی شور تھا کہ اسلام آؓباد کو بند کیا جارہا ہے، حکومت ہر فورم پر اعادہ کروا رہی تھی کہ ایسا کسی قیمت پر نہیں ہونے دیا جائے گا جبکہ دوسرے طرف عمران خان اینڈ کمپنی ایک ہی بات دہرا رہے تھے کہ لاک ڈاؤن تو ہر صورت ہوگا، عمران خان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ چاہیے سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہے لاک ڈاؤن اور احتجاج جاری رہے گا، اس موقف کے لیے انہوں نے مثال بھی پیش کی کہ چوہدری افتخار کی بحالی کی تحریک ان کے کیس کے دوران اسی طرح جاری و ساری رہی تھی ۔

انتظامیہ اور عدلیہ بھی اسی شور وغوغا کا حصہ بنے ہوئے تھے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کا فیصلہ آگیا جس میں دونوں فریقین کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی، کہ حکومت کنٹینرز نہ لگائے جبکہ تحریک انصاف کو پابند کیا گیا کہ وہ مقررہ جگہ پر ہی جلسہ کر سکتی ہے، ظاہر ہے نہ تو حکومت نے اس پر عمل کرنا تھا نہ کیا اور نہ ہی تحریک انصاف نے ایسا کرنا تھا نہ ہی ان کا ارادہ تھا۔

مقررہ لاک ڈاؤن کی تاریخ سے تین روز پہلے پکڑ دھکڑ اور مار کٹائی شروع ہوگئی یہ بالکل ایسا ہی منظرتھا جیسے انگریزی پہلوان رنگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے ہیں تاکہ ناظرین کو اضافی “تفریح” فراہم کی جاسکے ۔تحریک انصاف کی بڑے لیڈران خود ساختہ نظر بندی میں چلے گئے، چلیں عمران خان کی تو شاید سمجھ آتی ہے کہ ان پر دو ایک کیس ہیں جن میں پارلیمنٹ ، پی ٹی وی حملہ کیس بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ضمانت نہیں کروا رکھی ، ان کیسیز میں ان کی گرفتاری ہوسکتی تھی اسی خوف کی وجہ سے وہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں بھی حاضر نہیں ہوئے۔ مگر شاہ محمود قریشی، اسد عمر، جہانگیر ترین اور دیگر دوسرے لیول کی لیڈر شپ بھی بنی گالہ کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور اُترنے کا نام تک نہیں لے رہے تھے۔ جبکہ دوسرے طرف خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی اپنے کارکنوں سمیت سڑکوں پر آنسو گیس کھاتے رہے جبکہ دیگر کارکنان جنگل اور پہاڑ عبور کرکے بنی گالہ کی ” درگارہ “پر پہنچے کی کوشش کرتے رہے۔

اسی دوران شیخ رشید کے جلسے کی تاریخ بھی آگئی ، انتظامیہ نے اپنا کام دکھایا جبکہ تحریک انصاف نے شیخ رشید کی پیٹھ پرسیاسی چھرا گھونپ دیا۔ شیخ رشید بچارے ٹھہرے عوامی لیڈر وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے، پہلے کئی گھنٹے وہ تحریک انصاف کے چئرمین کا انتظار کرتے رہے کہ وہ ضرور آئیں گے پھر بات دوسرے لیڈر شپ پر چلی گئی پھر انہوں نے نے جلسے کی جگہ تبدیل کرنے کا بھی عندیہ دیا مگر تحریک انصاف پہاڑی سے نہ اُتری اور گلی محلے کی سطح پر سیاست کرنے والا یہ عوامی لیڈر ان کی راہ ہی تکتا رہ گیا۔ شیخ رشید سے عوام کا رشتہ بہت مضبوط ہے مگر اس ایک واقعہ نے شیخ رشید کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے جسے انہوں نے کسی طرح موٹر سائیکل پر چڑھ کر پورا کرنے کی کوشش کی ہے مگر ظاہر ہے یہ صرف کوشش ہی تھی تلافی نہیں۔ شیخ رشید کو کتنا نقصان پہنچا اور انہیں مستقبل قریب میں فوری کیا سیاست کرنی چاہیے اس پر اگلے بلاگ میں لکھوں گا بہرحال شیخ رشید گہری سوچ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

ادھر سپریم کورٹ بھی اس کھیل میں سرگرم نظر آئی پانامہ کیس میں اولاً کوئی اور تاریخ دی گئی اور پھر شاید “کسی اشارے ” پر اس تاریخ کو تبدیل کرکے نئی تاریخ دے دی گئی اور لاک ڈاؤن سے ٹھیک 29گھنٹے پہلے شنوائی شروع ہو گئی ۔ چونکہ یہ پٹیشن آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت تھی اس لیے سپریم کورٹ کے پاس تین آپشنز تھے پہلا یہ کہ کمیشن بن جائے جیسے میمو گیٹ سکینڈل اور ارسلان افتخار کیس میں بنا تھا، دوسرا یہ کہ معاملے ایف آئی اے یا نیب کو بھیج دیا جاتا جیسا حج کرپشن کیس میں ہوا تھاجبکہ تیسرا یہ کہ سپریم کورٹ خود رولز 1981 کی دفعہ 33 کے تحت خود بھی تفتیش کرتی جیسا مہران بنک سکینڈل میں ہوا ۔ سپریم کورٹ نے کمیشن بنانے کا اعلان کیا اور اگلی تاریخ میں دونوں فریقین کو اپنے اپنے ٹی او آرزبنا کر لانے کو کہا۔
شاہ محمود قریشی عدالت سے باہر نکلے اور صحافی کی پوچھنے پر بتایا کہ لاک ڈاؤن تو جاری رہے گا لیکن جتنی دیر میں وہ عدالت سے بنی گالہ پہنچے لاک ڈاؤن کا فیصلہ ناک ڈاؤن میں تبدیل ہوچکا تھا۔ کس نے یہ فیصلہ کیا اور کب ہوا ظاہر ہے اس کے خدو خال سب کو معلوم ہیں یا ہوجائیں گے۔

عمران خان باہر سٹیج نما بالکونی میں آئے جس لمحے انہوں نے یوم تشکر کا اعلان کرنا چاہا تو حاضرین اس دوران لاک ڈاؤن کے نعرے لگا رہے تھے لیکن ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا، عمران خان اس دوران طاہر القادری کا عکس دکھائی دے رہے تھے جو پہلے حاضرین کو گرماتے پھر چپکے سے اعلان کردیتے کے تتر بتر ہوجائیں پھراکھٹے ہونگے۔جنہوں نے ماریں کھائیں ، جو جیلوں میں گئے ان کی کون سنے گا، وہ لیگل ٹیمیں کہاں گئیں جن کے ذمہ تھا کہ وہ کارکنان کو قانونی مدد فراہم کریں گے جبکہ اڈالہ جیل سے تحریک انصاف ک ایک قیدی کا خط سامنے آگیا کہ انہیں کوئی نہیں پوچھ رہا۔

اس پس منظر میں اب چلتے ہیں اس سیاسی کڑی کی طرف کہ کہیں عمران خان اور نواز آپس میں ملے تو نہیں ہوئے؟ تو یقیناًبہت سے گھتیاں سلجھتی نظر آئیں گی۔ اس کی ایک مثال جیسا کہ پچھلے بلاگ میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ گیم کچھ اور ہی ہے اور اس سارے کھیل میں کچھ نہیں نکلے گا اور پھر وہی ہوا، دوسرا عمران خان کی خود ساختہ نظر بندی اور باہر نکل کر ڈنٹ تو لگائے مگر پہاڑی سے نیچے نہیں اُترے، اگر یوم تشکر ہی تھا تو عمران خان کے اعلان کے وقت شاہ محمود قریشی ، اسد عمر، جہانگیر ترین اور ان کے پیچھے کھڑے سب عمائدین کے چہرے کیوں مرجھائے ہوئے تھے؟ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان کہتے رہے کہ دس لاکھ بندے اکھٹے ہونگے مگر چند ہزار لوگوں کے سوا کوئی نہیں تھا، لوگ آئے نہیں یا لائے نہیں گئے یہ معمہ بھی سب کے سامنے کھل چکا ہے ، کہاں ہیں شاہ محمود قریشی کے ہزاروں بلکہ لاکھوں مریدین؟کہاں ہے جہانگیر ترین کے حلقہ کے لوگ ،؟چلو وہ تو دور کے علاقے کے لوگ ہیں اسلام آباد کی سیٹ سے جیتنے والے اسد عمر کے حلقہ کے لوگ کہاں ہیں؟ عمران خان کی اپنی سیٹ پنڈی کے لوگ کیوں نہیں آئے؟ اگر چند لوگ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کے ساتھ آبھی رہے تھے تو انہیں کس سوچ کے تحت رات کو ہی واپس بھیج دیا گیا؟ شیخ رشید کے جلسے کو تباہ کس سوچ نے کیا؟ان سب عوامل کے تانے بانے اسی طرف اشارہ کرتے ہیں دال کالی ہوچکی ہے عمران خان پنجاب کی سیٹیں حاصل کرنے، وفاق میں وزاتوں کی خواب دیکھ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان کو ان کی “آبائی “وزارتیں دینے پر بھی مہر ثبت کرچکے ہیں۔ٹی اور آرز بنانے اور پانامہ کی کھیل میں پی ٹی آئی تمام اپوزیشن کو ایک گیم کے تحت بائی پاس کرچکی ہے اور پس پردہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں کیس چلے گا، ٹی او آرز پر اتفاق تو پہلے ہی نہیں ہوا تھا لہذا اب سپریم کورٹ ہی اتفاق رائے کے ٹی او آرز بنوائے گی جن میں 70فیصد حکومتی شقیں ہونگی جبکہ 30فیصد اپوزیشن کی۔کیس چلے گا اور چلتا رہے گا اور پھر الیکشن کے دن آجائیں گے ۔ اس طرح یہ ناک ڈاؤن ، کاؤنٹ ڈاؤن میں تبدیل ہوجائے گا۔اور عوام پھر نعرے لگا رہے ہونگے۔

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *