ٹرمپ جیت گیا ، دنیا ہار گئی

نومبر کے سب سے بڑی خبر، دنیا بھر کا میڈیا، زمانے بھر کے سروے، تجزیے اور خواہشات سب دم سادھے رہ گئیں جب امریکہ کے صدارتی الیکشن کا نتیجہ سنایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف جیت گئے بلکہ واضح اکثریت سے جیت گئے ہیں۔اور یوں وہ امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے۔ ایسا کیوں ہوا کہ دنیا بھر کا میڈیا اور تجزئے الٹ ہوگئے یہی سوال سب کے ذہنوں میں چبھ ررہا ہے، کچھ لوگ اس مکتبہ فکر سے بھی تعلق رکھتے ہیں کہ چاہے امریکہ حقوق نسواں کا سب سے بڑا علمبردار ہی کیوں نہ ہوں مگر حالیہ الیکشن رزلٹ نے ثابت کردیا کہ امریکہ میں خواتین کو آگے لانے کی راہ میں حائل ذہنی اور سماجی روکاٹیں دورکرننے میں ابھی بھی شاید کئی صدیاں درکار ہونگی۔بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ کیسے جیت گئے یہ پھر بھی ملین ڈالر کوسچن ہی رہے گا۔
امریکہ کی سیاسی کشمکش کی سب سے بڑی جنگ امریکہ کے صدراتی الیکشن ہی ہوا کرتے ہیں اور بظاہر دہائیوں سے دو جماعتوں رپبلیکن اور ڈیموکریٹس کے درمیاں مقابلہ ہوتا ہے سن 1828میں جب امریکہ کے 11صدر کا تعلق ڈیموکریٹس سے تھا اور یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکن پارٹی میں سیاسی کشمش شروع ہوئی، اس سے پہلے ڈیمکوریٹک ریپبلیکن اور فیڈرلسٹ کے امیدوار مد مقابل رہتے تھ۔ سن 1856یعنی 18ویں امریکہ صدر تک تو ڈیموکریٹس نے ریپبلکن کی باری ہی نہیں آنے دی اور امریکہ کے 19ویں صدر ابراہم لنکن پہلی امیدوار تھے جنہوں نے رپبلکن کی سیٹ پر امریکہ صدر کا عہدہ حاصل کیا ، اس کے بعد آنے والے لگاتا 4امریکی صدرور کا تعلق رپبلکن سے ہی رہا۔ پھر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا کبھی رپبلکن کبھی ڈیموکریٹس، کبھی یوں بھی ہوا کہ لگاتا 2یا3دفعہ ڈیموکریٹس کی باری آئی تو ساتھ ہی اگلی تین باریاں ریپبلیکن نے لے لیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ رپبلکن کی طرف سے 23ویں منتخب ہونے والے صدر ہیں، یعنی اس سے پہلے 22باریاں ریپبلکن پارٹی لے چکی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ کے دوسری طرف ڈیموکریٹس بھی اپنی 22باریاں لے چکی ہے۔ اب یہ حسن اتفاق سمجھیں یا کالے چشموں لگائے 007کے کمالات جانیں بہرحال یہ نہایت حیران کن ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک خاص تناسب سے صدارت پر فائز رہیں۔ اعداد وشمار کے اس خاص تناسب کو دیکھا جائے تو بظاہر دو باتیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ اگلی دفعہ پھر سے ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ کرسی صدارت پر فائز ہوسکتے ہیں یا پھر کم سے کم اتنا ضرور ہوگا کہ صدرات کا عہدہ رپبلکن کے پاس ہی رہے گا۔

اب چلتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف یہ انوکھے ہیر سٹائل والے شخصیت دنیا کی نظروں میں دھول جھونک کر کامیاب ہوگئی یا پھر اس کے پچھلے نہایت احتیاط سے تیار کئے گئے اقدامات تھے ۔ ان تمام پہلوں پر بہت باتیں ہوچکی ہیں مگر کچھ ایسی شہادتیں بھی ہیں جن پر روشنی نہیں ڈالی جاسکی یا جو نظروں سے اوجھل رہے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تبدیلی صرف وہ سیاسی جماعت لا سکتی ہے جو لوگوں کی نبض کو پہچان لے، ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت پہلے سمجھ لیا لوگ کیا چاہتے ہیں، انہیں سمجھ لگ گئی کہ گورے پچھلے کئی دہائیوں سے پریشان ہیں، تارکین وطن ان سے نوکریاں چھین رہے ہیں، کاروبار پر قابض ہوتے جارہے ہیں اس ایک پتے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے نہایت احسن طریقے سے کھیلا اور گوروں نے تمام تر مسائل، سکینڈلز کے باوجود انہیں بھرپور کامیابی دلوائی
دوسرے اہم چیز ٹیکنالوجی کا استعمال تھا، ٹرمپ نے تو شاید ٹیکنالوجی کو استعمال نہ کیا ہو مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی خاص طور پر سوشل میڈیا نے ان کا بھر پور ساتھ دیا، اب یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا یہ بات اور ہے کہ ان دو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کس نے ایسا کرنے کے لیے کہا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایک کامیاب بزنس مین ہیں انہیں گُر آتا ہے کہ کس طرح پیسہ بنایا جاتا ہے ، وہ ہمیشہ سے عورتوں خاص طور پر خوبصورت عورتوں کے دلدادہ رہے ، دنیا میں ہونے والے خواتین کے عالمی مقابلوں کی تنظیمیں چلاتے رہے ، تین شادیاں کیں اور تینوں شادیوں کا مرکزی نقطہ یہ ہی تھا کہ وہ ماڈل یعنی خوبصورتی بنیادی وجہ بنی۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ میں یہ خوبی ہے کہ انہوں نے اپنے تمام بچوں (چاہے ان کی ماں تو طلاق دے دی) کو پالا، اچھی کاروبار شروع کروا کردیے اور تمام بچوں سے رابطے میں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے کچھ اور پہلو بھی ہیں ایک یہ کہ انہوں نے دنیا کا سفر بہت کم کیا ہے اور دنیا کے بارے ان کی معلومات کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ بلجئیم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھا شہر ہے۔ جب کہ ان کے شخصیت کا ایک اور پہلو بھی ہے جو بہت کم لوگ جانتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ جراثیموں سے ڈرتے ہیں انہیں خاص قسم کا فوبیا ہے جسے عرف عام میں جراثیم فوبیا کہا جاتا ہے اسی بنا پر وہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں لوگوں سے ہاتھ نہ ملانا پڑے۔

بہرحال یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر اب وہ امریکہ کے صدر بن چکے ہیں اور جنوری میں اپنے عہدے کا حلف بھی اُٹھائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کاچکر وہ پہلے ہی لگا چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کیسے بھی ہوں اصل بات یہ ہے کہ جس طاقت نے انہیں چلانا ہے وہ بہت مضبوط ہے، کوئی بھی صدر آئے امریکی اسٹیبلشمنٹ اور امریکی پالیساں ویسی ہی رہتی ہیں بلکہ صدر کو ان کے مطابق ڈھلنا ہوتا ہے ، یہ خفیہ ہاتھ کس قدر مضبوط ہیں اس کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے، جب بارک اوباما پہلی دفعہ امریکہ صدر بنے تو ان کی الیکشن مہم کا زور دو باتوں پر تھا پہلا تبدیلی کا نعرہ اور دوسرا بیرون ممالک سے امریکی فوجیوں کی واپسی۔ صدارتی محل میں آتے ہی پہلے چند ہفتوں میں ان کے سامنے ایک درخواست رکھی گئی کہ 40ہزار فوجیوں کا اضافی دستہ افغانستان بھجوایا جانا ہے ۔ براک اوباما درخواست دیکھ کر برہم ہوگئے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ، میرا نعرہ تبدیلی اور فوجیوں کی واپسی ہے ، میں مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کیسے منظور کرسکتا ہوں، بحث ہوتی رہی اور آخر کار برا ک اوباما ان فوجیوں کی تعداد 39999بھی نہیں کرواسکے، یہ درخواست بھی منظور ہوئی اور 40ہزار فوجیوں کو ئی دستہ بھی افغانستان گیا۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کی چاہے ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا کوئی اور امریکہ ایک پانچ کونوں والی عمارت سے ہی چلایا جاتا ہے ۔ اب پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اسے امریکی نئے صدر سے تعلقات اچھے رکھنا ہے کہ اس عمارت کی مکینوں کی ڈو مور کی درخواستوں پر نظر رکھنی ہے فیصلہ حکمرانوں نے کرنا ہے اور وزن عوا م نے اُٹھانا ہے ۔ سمجھ دار کے لیے اشارہ کافی۔۔

The writer is Islamabad based journalist and works as Producer Current Affairs in a private television channel.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *