پندرہ سال بعد

کیا نانگا پربت کے آ س پاس یا فیری میڈوز میں پریاں اترتی ہیں ؟ میں نے کامران سے پوچھا . نہیں یار کہاں پریاں اترتی ہیں ؟ سب کہانیاں ہیں ، جہاں انسان نہیں جا سکتا، جہاں ابھی بھی سڑک ، بجلی اور تعلیم نہیں ہے اور جہاں فرقہ واریت کے جنات بستے ہیں وہاں پریاں اتریں یا فرشتے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ؟ کامران نے جواب دیا ، کامران خان چلاس کا رہنے والا ہے۔

کیا ابھی بھی پشین کی راتیں حسین اور قلات کی شامیں رومانوی ہوتی ہیں ؟ میں نے جلال سے پوچھا . نہیں بھائی اب رومانس بس یہی ہے کہ آپ دن کی روشنی مدہم پڑنے سے پہلے اور رات کی تاریکی سے پہلے کسی اندھی گولی سے بچ کر گھر آ جائیں ، اگر آپ کو کوئی انتہا پسند نہیں مارے گا تو ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنا ہی آپ پر نشانہ لگائے بیٹھا ہو، پشین اور قلات میں اب کوئی راتوں کو باہر نہیں نکلتا ، اب بلوچستان کی راتیں اور شامیں خوف میں ڈوبی رہتی ہیں. جلال نے جواب دیا ،عبدا لجلال کاکڑ کا تعلق مسلم باغ سے ہے۔

دریائے نیلم کے آ س پاس آباد لوگ کتنے خوش نصیب ہیں ، کیا یہاں دریا ابھی بھی گنگناتا ہے ؟ میں نے زبیب سے پوچھا. کون سے نغمے اور کیسی خوبصورتی ؟ وہ جو بارود کی بو سے آلودہ ہے یا وہ کہ جس میں معصوموں کا خون شامل ہے . اب نیلم گنگناتا نہیں بس چلاتا ہے ، چنگھاڑتا ہے اور اپنی بد نصیبی پہ ماتم کرتا ہے . زبیب نے جواب دیا، سردار زبیب سرور کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔

پندرہ سال بعد ہم سب ملے تو مجھے لگا کہ مجھ سے میرا بچھڑا ہوا نانگا پربت ملنے آیا ہے ، مجھے اپنی آنکھوں میں پشین کی اس خوبصورت رات کے وہ حسین مناظر اور قلات کے موسم کی تازگی کا احساس تھا جسے میں نے پندرہ سال پہلے محسوس کیا تھا ، میرے وجود کی گہرایوں میں نیلم کے سرد پانیوں کی ٹھنڈک نےکپکپی پیدا کی مگر حقیقت اس کے برعکس تھی . پندرہ سال میں بہت کچھ بدل چکا تھا ، فیری میڈوز میں اترنے والی پریاں دہشت گردی کے جنات سے خوف زدہ تھیں ، پشین کی حسین راتیں اور قلات کی رومینٹیک شاموں میں بغاوت کی بو تھی اور نیلم کے ہر کونے پر اداسی کا راج تھا جبکہ پاکستان کے حکمران سڑکوں کے جال بچھانے میں اور کسی اور قطری شہزادے کے مکتوب کے متلاشی و منتظر تھے کہ جو ان کی کرپشن پر پردہ ڈال سکے۔ 

Anwaar Ayub Raja is a linguist and broadcaster based in United Kingdom. He could be reached at awaar@anwaarraja.com 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *