کیا عوام جمہوریت کے لئے تیار ہے؟



پریشانی و مسائل کا شکار عوام جعلی پیروں اور عاملوں کے ہاتھوں ہر طرح سے لٹنے پر مجبور ہیں،بے روز گاروں  نے اسٹریٹ کرائم کو روز گار بنا لیا یا نشہ کی لت میں مبتلا ہو گئے ،غریب روٹی کی فکر میں مزید غریب تر ہو تا گیا،عوامی نمائندوں کے تعلیم اور صحت کے وعدے ہوا ہو گئے،تعلیم کا سرکاری نظام تباہ ہوا تو پرائیویٹ مافیا نے تعلیم کے شعبہ پر اجارہ داری قائم کرلی،صحت کا شعبہ بھی تعلیم کی طرح انحطاط کا شکار ہے۔ انتخابات کے دوران عوام کے خیر خواہ،مخلص،عزیز کا روپ دھار کر ووٹ کی بھیک مانگنے والے پولنگ کے بعد شو منتر ہو گئے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں جب بھی انتخابات ہوئے اس کے نتیجے میں صرف انتقال اقتدار نہیں ہوا  بلکہ انتقال سیاسی بیانات بھی ہو تا آیا ہے ،انتخابات کے نتائج کے بعد ہارنے والی ہر سیاسی جماعت نے اقتدار اکثریتی جماعت کے سپرد کرکے طاقت کے ایوانوں سے نکلی تو گزشتہ دور کی اپوزیشن کے سیاسی بیانات رٹ لیے ،اس طرح انتخابات کے نتیجے میں حکومت کا سہرا سجانے والوں نے سابق حکومت کے بیانات کو سینے سے لگا لیا ۔انتخابات سے پہلے کل تک جو دعوے سابق حکومت کا طرح امیتاز تھا ،انتخابات کے بعد پچھلی حکومت کے دعووں کے تمام اثاثوں کی نئی حکومت مالک ٹھہری۔

عام انتخابات 2013 سے قبل تمام سیاسی جماعتوں نے الفاظ کی ٹوکری میں سجے اپنے چکا چوند منشور عوام کو دکھا کر انکی آنکھوں کو خیرہ کیا ،ہر سیاسی جماعت نے دعوہ اور وعدہ کیا کہ اقتدار میں آکر پارٹی منشور عوام کی قسمت کو بدل دے گا۔بد حال طبقہ ان کے پارٹی منشور کی بدولت خوشحال طبقہ میں بدل جائے گا۔عام انتخابات تقریبا تمام بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں،مسلم لیگ ن وفاق اور پنجاب میں حکومت کر رہی ہے ،بلوچستان میں  ن لیگ نے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر اقتدار بنایا ہوا ہے ۔پیپلز پارٹی کو سندھ اور تبدیلی جماعت تحریک انصاف کو خیبر پختونخواہ کی عوام کی خدمت کا موقع ملا ۔لیکن پھر ہوا کیا ،،خیبر پختونخواہ کی عوام جائے بھاڑ میں تحریک انصاف کو جلسوں ،جلوسوں ،دھرنوں اور عدالتوں سے فرصت نہیں۔وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت، مسلم لیگ ن کے عوامی نمائندوں کو تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاسی تقریروں اوربیانات کو کاونٹرز کرنے سے فرصت نہیں۔پیپلز پارٹی 49 سال سے مسلسل روٹی کپڑا اور مکان کے مشن پر خلوص دل سے گامزن ہے۔تھر اور سندھ کے دور افتادہ علاقوں میں نومولود و عوام بھوک مرتے ہیں تو مرتے رہیں،بھٹو کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔روٹی کپڑااور مکان کا بھٹو ازم آگے بھی زندہ رہے گا۔چاہےعوام بھوک سے مرتے رہےیا سڑکوں پر سڑتے رہے۔ 1967 سے عوام سے کیے وعدے کو پورا کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کو مزید کتنی بار اقتدار چاہیے ؟؟؟

ملک اور عوام کی زندگیوں میں مجموعی زوال کی وجہ کون ہے ۔کیا اس زوال کی وجہ صرف سیاستدان ذمہ دار ہے یا عوام خود؟؟ 1947  میں قیام پاکستان کے بعد آزادی کے پہلے عشرے کے دوران حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہی۔اس اکھاڑ بچھاڑ کے باوجود چند سیاست دانوں کا ٹولہ حکومت پر قابض رہا ،عوام کے نمائندہ ہونے کے دعووں کے باوجود اس وقت کے حکمران انتخابات کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تھے۔اس وقت کے حکمران یہ سمجھتے تھے کہ عوام کو جب بھی ووٹ کا موقع ملے گا اقتدار سے باہرہونا ان کا مقدر ہو گا۔اسکندر مرزاتو کھلم کھلا انتخابات کا مذاق اڑاتے تھے۔جب بھی عوام کواپنے رائے کا موقع دینے کی بات ہو تی تو سکندر مرزا کہا کرتے تھے کیا  بیلٹ باکسوں سے فرشتے بر آمد نہیں ہونگے؟ بقول سکندر مرزا جمہوریت عوام کے لیے عیاشی ہے،ملک اس امر کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ عوام کو اپنے نمائندے چننے کا موقع دیا جائے۔وقت کا دھارا ایسے موڑ پر پہنچا جہاں عوام کو ووٹ کا حق دینا حکمرانوں کی مجبوری بن گیا ۔

سیاست دان جو یہ سمجھا کرتے تھے کہ عوام کو ووٹ کا حق ملا تو وہ اقتدار سے نکال باہر کریں گے۔بد قسمتی سے قوم کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا آئینی حق ملا تو خود عوام نے اپنے آئینی حق کو وڈیروں،جاگیر داروں،برادریوں اور دیگر مسائل کی نذر کر دیا۔ووٹر نے اکثریت مفاد کی بجائے انفرادی مفاد پر سمجھوتہ کر لیا۔قیام پاکستان کے کئی سال بعد تک پچاس ساٹھ سیاست دانوں کا ٹولہ سیاسی دینگا مشتی کے باوجود اقتدار پر کسی نہ کسی طرح قابض رہا۔آزادی کے 69 سال گزرنے کے باوجود بھی صورتحال جوں کی توں ہے ۔آج بھی عوام  پر چند سیاسی خاندانوں کی حکومت ہے گھوم پھر کو وہی لوگ اقتدار میں آجاتے ہیں۔عوام کو ووٹ کو حق دینے کے ماضی کے حکمرانوں کے جو خدشات تھے وہ سب غلط ثابت ہو ئے۔حق رائے دہی لیکر بھی عوام نے نا اہل ،کرپٹ،غیر ذمہ دار،لاپروار سیاستدانوں کا احتساب نہیں کیا۔

جمہوری نظام حکومت میں عوام کا منتخب نمائندہ درحقیقت  اپنےحلقہ کے لوگوں کا خادم ہو تا ۔ایک ذمہ داری ہو تی جو حلقہ کے عوام اپنے نمائندے کے سپرد کرتے ہیں کہ آج سے ان کے جملہ حقوق کا تحفظ منتخب نمائندہ کریگا۔لوگوں کے صحت،تعلیم،غربت ،بے روزگاری جیسے مسائل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا اور ان کے حل کرانا منتخب نمائندے کی بنیادی ذمہ داری ہو تی ہے ۔نمائندہ اپنی ڈیوٹی سے رو گردانی کرے تو عوام یہ حق رکھتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں اسکا احتساب کرے اور اس کی جگہ کسی ایک شخص کو منتخب کرے جو اپنے فرض کی ادائیگی احسن طریقے سے سر انجام دے سکے ۔جمہوری نظام منتخب نمائندوں کے احستاب کو پورا موقع فراہم کرتا ہے ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہمارےعوام احتساب کے موقع سےفائدہ اٹھانا مناسب ہی نہیں سمجھتے۔گھوم پھر کر انہی وڈیروں،جاگیرداروں،سرمایہ داروں کو منتخب کرتے ہیں جن کا عوام کے مسائل سے کچھ لینا دینا ہی نہیں۔ایسے لوگ مطمع نظر صرف اور صرف اپنی ذات،اپنا خاندان اور اپنے عزیز رہے ہیں۔ایسے ووٹ لینے کے بعد حلقہ کی عوام کو بھول جاتے ہیں۔بد قسمتی سے کبھی ایسے نمائندے امر مجبوری حلقہ کا چکر لگا بھی لیں تو لوگوں میں اتنی جرت نہیں ہوتی کہ جس شخص کو انہوں نے اپنا خادم منتخب کیا ہے سر راہ روک کر اس سے پوچھ سکیں انتخابی وعدے وفا کیوں نہ ہو ئے۔

وقت آگیا ہے کہ عوام یہ سمجھ لیں ان کے منتخب نمائندے حکمران نہیں ان کے خادم ہیں نوکر ہیں۔ ان کے اعزاز میں بڑے جلسے جلسوس، ضیافتوں کا اہتمام کرنے کی بجائے نمائندہ اجتماع منعقد کریں جہاں حلقہ کی عوام بلا کسی خوف و ڈر کے اپنے منتخب نمائندے سے پوچھ گچھ کرسکے کہ الیکشن میں کیے وعدے وفا کیوں نہ ہو ئے۔قوم کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے اس قسم کا انداز سلوک اختیارکرنے سے ہی لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والوں کا احتساب ہو گا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ماضی کی طرح چند سیاست دان و خاندان حاکم بنے رہیں گے اور عوام محکوم۔

imran-wasim

Writer is Islamabad based journalist and covers the Supreme Court of Pakistan for Dunya News.

He can be reached at facebook at @imranshehri and imranshehri@hotmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *