امریکا نے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی امداد بند کر دیا

News Desk

امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کولیشن فنڈ سپورٹ کے تحت ملنے والی 30 کروڑ ڈالر کی دفاعی امداد روک لی۔غیر ملکی خبر رپورٹس کے مطابق امریکی وزارت دفاع نے پاکستان کو کولیشن فنڈ سپورٹ کے تحت ملنے والی 30 کروڑ ڈالر کی دفاعی امداد روک لی ہے۔ ترجمان پینٹا گون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی دفاعی امداد امریکی کانگریس کو وزیردفاع کی سفارش نہ ملنے کی وجہ سے روکی گئی۔ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون کررہاہے، کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت دونوں ممالک مسلسل کام کر رہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ امریکا دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے اتحادی پاکستان سے منہ موڑنے لگا ، امریکا نے حقانی
نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کے الزام پر پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دی ۔
پینٹاگون کے مطابق وزیر دفاع ایش کارٹر نے وہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے یہ رقم پاکستان کو مل سکتی تھی ۔ 2015 کے بجٹ میں پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی رقم طے کی تھی تاہم یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اس میں سے 30 کروڑ ڈالر تب جاری ہوں گے،جب وزیر دفاع حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی کارروائی سے مطمئن ہوں اور اس کا سرٹیفیکیٹ دیں ۔
محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں کئی دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک
اور افغان طالبان دونوں ہی پاکستان کے کئی علاقوں میں اب بھی سرگرم ہیں ۔2016 کے لیے محکمۂ دفاع نے پاکستان کے لیے طے بجٹ کو ایک ارب ڈالر سے کم کر کے 90 کروڑ ڈالر کیا ہے ۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں پاکستان کو اب تک 14 ارب ڈالر دیے جا چکے ہیں ۔دوسری طرف واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوجی امداد کی رقم دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان کی مدد کرتی ہے اور امریکہ اور پاکستان دونوں کو اس کارروائی سے فائدہ ہوتا ہے ۔ پاکستان نے ضرب عضب میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی ۔ اس سے پہلے امریکہ نے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی خریداری میں پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد پر روک لگا دی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *