روس کے شہر بیرزنکی میں زمین میں دھنستا ہوا شہر

News Desk

روسی شہر بیرزنکی، ملک کے پہاڑی علاقے ارل ماؤنٹین میں نمک کی کان کے اوپر بسایا گیا تھا۔ یہ ایک صنعتی شہر ہے جس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے۔شہریوں کے مطابق سنہ 1980 میں نمک کی کان پر شہر بسانے کے نقصانات سامنے آنے شروع ہوئے اور کئی مقامات پر انتہائی بڑے گڑھے پڑ گئے جن میں فیکٹریاں اور دفاتر دھنس کررہ گئے، جبکہ کئی اسکول اور مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ۔،
سنہ 2007 میں بیرزنکی شہر کو ایک بار پھر بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ، ماضی کی نسبت اب تک کا سب سے بڑا گڑھا اس سال پیدا ہوا جس کےبننے سے پیدا ہونے والی ارتعاشی لہروں نے پورے شہر کو ہلا کررکھ دیا۔
تباہی کا نشانہ بننے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے کو ابھی تک سنجیدگی سے نہیں لے رہی، ہمارے گھروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور ہمیں ہر وقت خو ف رہتا ہے کہ کسی بھی وقت ہم زیرِ زمین گہرائی میں کہیں جا گریں گے، تاہم ابھی تک حکومت نے ہمارے لیے عارضی رہائش کابندوبست بھی نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور جب ضرورت ہوتی ہےتو شہریوں کو نئے مکانات مہیا کیے جاتے ہیں ۔ سنہ 2016 میں روسی صدر پیوٹن نے شہر کے حکام سے اس معاملے میں تاخیر کا سبب معلوم کیا تھا اور خطرے کا شکار شہریوں کے لیے جلد از جلد مکانات تعمیر کرنے کی ہدایات کی تھی۔ تاہم دو سال گزرنے کے بعد بھی یہ عمل مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔سابق سویت یونین کےفوجی ویلری میٹ اس آفت سے متاثرہ افراد کی بحالی کی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2007 کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اندوہناک صورتحال تھی، لوگ اپنے اہل خانہ کو قریبی اضلاع میں رہنے والے رشتے داروں کے گھروں میں منتقل کررہے تھے اور ہر
کوئی خوفزدہ تھا۔
وہ گورنر کو اس صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے مستقل خطوط لکھتے ہیں اور ان کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں ، ایک خاتون جن کا گھر آہستہ آہستہ زمیں میں دھنس رہا ہے ،ا ن کے لیے میٹ اب تک دس خطوط لکھ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *