نیب میں ریفرنسز دائر ہونے کے بعد کیا بابر اعوان سے استعفی لیا گیا یا انہوں نے خود دیا ؟

News Desk

نندی پور پاور سکینڈل کے سلسلے میں وزیرِاعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور سابق وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف نیب ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان کی غفلت کے باعث نندی پور پاور پلانٹ کی تنصیب میں دو سال کی تاخیر سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔

مبینہ طور پر اس تاخیر کے باعث قومی خزانے کو 27 ارب کا نقصان ہوا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے جان بوجھ کر ذمہ داری پوری نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے نندی پور منصوبے میں تاخیر پر رحمت جعفری کمیشن قائم کیا جس کی تحقیقاتی رپورٹ نے وزارتِ قانون کے افسران کو منصوبے میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا۔

بعد ازاں وزارتِ قانون نے رپورٹ کی روشنی میں معاملہ نیب کو بھجوایا۔ نیب نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وزارتِ پانی و بجلی نے بھی نندی پور معاہدے پر وزارتِ قانون سے رائے مانگی لیکن رائے دینے میں دو سال لگا دیئے گئے۔ نیب ریفرنس میں سابق کنسلٹنٹ شمیلہ محمود، سابق جوائنٹ سیکرٹری ریاض محمود اور وزارتِ پانی و بجلی کے سابق سیکرٹری شاہد رفیع کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اب نیب ریفرنس کی کاروائی کا جلد آغاز کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے خلاف نیب میں ریفرنسز دائر ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انہیں استعفیٰ دینے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے بابر اعوان نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دیا ہے۔

دوسری جانب بابر اعوان نے مشیر پارلیمانی امور کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں کرسی سے چمٹے رہنے کے بجائے، ہاتھ سے استعفٰی لکھ کر اپنے کپتان کو دے دیا ہے، عدالت میں ڈٹ کر بے گناہی ثابت کروں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *