چیف جسٹس کا ڈیم کے مخالفین پرآرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا اعلان

News Desk

سپریم کورٹ نے منرل واٹر ازخود کیس کی سماعت کرتے ہوئے تمام بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیٹو افسران کو کل بروز اتوار طلب کرلیا ہے، چیف جسٹس کا کہنا ہے ڈیم بنانے سے روکنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کروں گا۔
 آج بروز ہفتہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب
نثار کی سربراہی میں ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ کمپنیاں مفت میں پانی نکال رہی ہیں، نقصان عام آدمی کو ہورہا ہے۔چیف جسٹس نےتمام بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز کو کل بروز اتوار صبح ۱۱ بجے طلب کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا کہ منرل واٹر میں منرلز شامل کیے جارہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنیاں رواں سال تک زمین سے مفت پانی حاصل لرکے بیچ رہی ہیں، حکومت کے ساتھ بیٹھ کر پانی نکالنے کا ریٹ طے کریں۔اس موقع پر حکومتی وکیل نے چیف جسٹس کے روبرو کہا کہ منرل واٹر کمپنیاں 25 پیسے فی لیٹر دے کر 50 روپے فی لیٹر میں فروخت کررہی ہیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ غریب آدمی آج بھی جوہڑ کا پانی پینے پر مجبور ہے ، میں خود نلکے کا پانی ابال کر پی رہا ہوں اور میری قوم بھی یہی پی رہی ہے۔سماعت کے دوران چید جسٹس نے کٹاس راج میں قائم سیمنٹ فیکٹری کے مالک پر اظہارِ برہمی کیا۔ ان کہنا تھا کہ ججز نے آپ کی فیکٹری کا دورہ کیا اور آپ نے وہاں رکنا ہی مناسب نہ سمجھا۔ کٹاس راج مندر کا سار پانی آپ نچوڑ گئے ہیں ، وہاں کے لوگوں کی حالتِ زار پر آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
عدالت نےضمیرچوہدری کوآئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیاچیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ریٹائرمنٹ کےبعدمجھےکوئی عہدہ آفرکرکےشرمندہ نہ ہوں۔ میں نے آرٹیکل چھ کا مطالعہ شروع کردیا ہے ، ڈیم کو روکنے کی کوشش کرنے پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کروں گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کپانی اب سونےسےبھی زیادہ مہنگاہے،منرل واٹرکی عادت ڈال دی اوراب نوٹ کمائےجارہےہیں ، پانی کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گاڑی کیچڑسےنکال کرسڑک پرلانی ہےپھریہ چل پڑےگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *