سابق خاتون اول کلثوم نواز کی آج رسم قل میں صرف خاندان کے افراد شریک ہوں گے

News Desk

سابق خاتون اول کلثوم نواز کی رسم قل آج ادا کی جائے گی، جس میں صرف خاندان کے افراد شریک ہوں گے۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری بھی اظہار افسوس کے لیے شریف فیملی کی رہائش گاہ پہنچیں گے۔

لاہور میں بیگم کلثوم نواز کی تدفین کے بعد افسوس کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔سابق خاتون اول کی رسم قل آج جاتی امرا میں ادا کی جائے گی، جس میں صرف خاندان کے افراد شرکت کریں گے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے نمازہ جنازہ میں شرکت پر قائدین اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دعائے قل میں شرکت کے خواہشمند افراد سے درخواست کی ہے کہ بیگم کلثوم نواز کے لیے اپنے اپنے علاقوں میں ہی دعا اور قرآن خوانی کا اہتمام کریں۔ ‎رسم قل کا اہتمام صرف شریف فیملی کے لیے کیا جائے گا۔ یہ اقدام عوام کو سفری مشکلات سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی جاتی امرا جائیں گے۔ دونوں رہنماء سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کریں گے۔ پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہمراہ ہوگا۔

   
بیگم کلثوم نواز کے انتقال نے شریف خاندان اور مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت کو رنجیدہ کردیا ہے۔ لیکن مسلم لیگ ن نے بیگم کلثوم نواز کی رسم چہلم کے بعد جارحانہ سیاست کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کے قریبی حلقوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی وفات کے بعد جہاں نوازشریف سخت غمزدہ ہیں وہاں اب انہوں نے سیاست میں جارحانہ اور سخت انداز اپنانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے مصالحت کے لیے ان کو راضی کرنے کی کوشش کرنے والے دوستوں کو واضح طور پر یہ پیغام بھی دے دیا کہ اب مصالحت کی بات کسی صورت قبول نہیں ہو گی اب ہم فیصلہ کریں گے ۔

بیگم کلثوم نواز کی رسم قل کی ادائیگی کے بعد نوازشریف کے قریبی ساتھیوں کو اس حوالے سے باقاعدہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ وہ کچھ دنوں بعد جارحانہ انداز کا آغاز کریں۔ جہاں قریبی ساتھیوں کو یہ پیغام دیا جائے گا ساتھ میں یہ بھی پیغام ہو گا کہ اب جو بیک ڈور سے رابطہ اور ہماری اس پالیسی سے اختلاف کرے گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی ۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق مریم نواز کی ہدایت کو نوازشریف کی ہدایت ہی سمجھنے کے حوالے سے بھی اہم ن لیگی رہنماؤں کو پیغام دیا جائے گا ۔  کلثوم نواز کی وفات کی خبر ملنے پر جب شہباز شریف اور خاندان کے دیگر افراد جیل میں نوازشریف سے ملاقات کے لیے گئے تھے تو اس وقت بھی نوازشریف کا رویہ انتہائی سخت تھا اور نواز شریف دو سے تین مرتبہ شہباز شریف پر برہم بھی ہوئے، بیگم کلثوم نواز کی تدفین کے بعد نوازشریف نے اپنے قریبی ساتھی کو کہا کہ اب وہ سیاست ہو گی جو سب دیکھیں گے ۔

نوازشریف کے جارحانہ سیاست کرنے کی صورت میں ن لیگ کے اندر ایک گروپ کے اس جارحانہ سیاست کے خلاف علیحدہ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ پیپلزپارٹی سمیت دو اور اپوزیشن جماعتوں کے بھی اس جارحانہ پالیسی میں نوازشریف کے خلاف جانے کے امکانات ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی نوازشریف کا ساتھ دیں گے جبکہ جماعت اسلامی جارحانہ پالیسی پر خاموش رہنے کو ترجیح دے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *