فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھانے والا امریکی پروفیسر اسرائیل میں گرفتار

News Desk

غاصب صیہونی فورسز نے مقبوضہ فلسطین کے گاؤں الخان الحمر کے انہدام کے دوران رکاوٹ ڈالنے والے امریکی پروفیسر کو گرفتار کرلیا، امریکی پروفیسر نے گاؤں کا انہدام روکنے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے جمعے کے روز ایک 66 سالہ فرانسیسی امریکی پروفیسر فرینک رومانو کو مغربی کنارے پر واقع گاؤں الخان الاحمر سے صیہونی فورسز کے امور میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے امریکی پروفیسر کو ہفتے کے روز مقبوضہ بیت المقدس کی ایک جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔
صیہونی فورسز کا کہنا ہے کہ امریکی پروفیسر فرینک رومانو کو سوموار کے رواز اسرائیل فوجی عدالت میں پیش کیا جائے۔غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی پروفیسر فرینک رومانو فرانس کی ’پیرس نینٹیری یونیورسٹی‘ میں قانون، ادب تاریخ اور فلسفے کی تعلیم دیتے ہیں، جس کی وجہ سے امریکی پروفیسر فرانسیسی شہریت کا بھی حامل ہے، جبکہ فرینک امریکا اور فرانس میں وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں۔۔امریکی پروفیسر کو جمعے کے روز الخان الاحمر سے فلسطینی شہریوں کی املاک منہدم ہونے سے بچانے کے لیے لگائی جانے والے رکاوٹوں کو ہٹانے والے بلڈوزر کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے جس کے باعث انہیں فلسطینی کارکن کے ہمراہ اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔
غاصب اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جو شورش (فتنہ و فساد) پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی پروفیسر نے مقبوضہ فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع چھوٹے سے گاؤں الخان الاحمر کو منہدم ہونے سے روکنے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *