ججز گریبان میں جھانکیں، انصاف کی فراہمی میں تاخیر نظام کے لیے ناسور بن چکی ہے، چیف جسٹس

News Desk

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ججز اپنے گریبان میں جھانکیں، انصاف کی فراہمی میں تاخیر نظام کے لیے ناسور بن چکی ہے، ایک خاتون کو 61 سال بعد گھر واپس ملا، ہم سب کو اپنی نا اہلیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار وہ لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ ایک جج یومیہ 55 ہزار کا پڑتا ہے، کیا ہم اتنی ذمے داری ادا کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ’بابا رحمتے کی بات کو مذاق میں لیا گیا، ان کا کردار معاشرے میں ایک منصف کا کردار ہے، جوڈیشری کا مقام ایک بزرگ کی طرح ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک نصیبوں والوں کو ملتا ہے، پاکستان نہ ہوتا تو شاید میں بینک کلرک یا چھوٹا موٹا وکیل ہوتا، میں پہلے اپنے گریبان میں جھانک رہا ہوں، ملک کے حقوق جو ذمے داریوں میں شامل ہیں شاید میں ادا نہیں کر رہا، ملک نہ ہوتا تو ہم بڑے بڑے عہدوں پر نہ ہوتے۔پاکستان نہ ہوتا تو شاید میں بینک کلرک یا چھوٹا موٹا وکیل ہوتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان جیسا ملک نصیبوں والوں کو ملتا ہے، پاکستان نہ ہوتا تو شاید میں بینک کلرک یا چھوٹا موٹا وکیل ہوتا، میں پہلے اپنے گریبان میں جھانک رہا ہوں، ملک کے حقوق جو ذمے داریوں میں شامل ہیں شاید میں ادا نہیں کر رہا، ملک نہ ہوتا تو ہم بڑے بڑے عہدوں پر نہ ہوتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ججز کئی کئی دن تک شنوائی نہیں کرتے، تاریخیں دے دی جاتی ہیں، بد قسمتی سے آج کے دور میں بھی ہم زبانی ثبوت مان رہے ہیں، ماڈرن ڈیوائسز آ گئی ہیں جن سے سچ اور جھوٹ کا پتا چل سکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں شخصی آزادی اور پراپرٹی پر رائٹس معلوم ہونے چاہئیں، جن معاملات پر ایکشن لیا وہ صرف روشناس کرانے کے لیے تھے، ریاست کو ذمے داری سے آگاہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ ایکشن لیتی ہے، کیا ریاست کی ذمے داری نہیں کہ کوما میں موجود بچے کو اس کا حق دے۔

بابا رحمتے کی بات کو مذاق میں لیا گیا، ان کا کردار معاشرے میں ایک منصف کا کردار ہےانہوں نے کہا کہ مقدمات کا فیصلہ وقت پر ہونا چاہیے کیونکہ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے۔ جس کا حق مارا جاتا ہے وہ انصاف کا منتظر رہتا ہےانھوں نے کہا کہ 32 روپے کی منرل واٹر کا خام مال ایک پیسے کا چوتھائی ہوتا ہے، بواسیر والا بہترین اسپتال اور کینسر والے کو کوئی نہیں پوچھتا، لوگوں کو رعایت دلانا، نا انصافی ختم کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے، ہیرنگ نہیں ہوتی مگر ہمارے ایگزیٹو آفیسر فیصلہ کر دیتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی کو ڈیڑھ ماہ پہلے ٹاسک دیا، لاپتا افراد سے متعلق ایجنسیز، اداروں سے تفصیلات مانگیں، لاپتا افراد آپ کے پاس نہیں تو لکھ کر دیں، اگر آپ کا حلف نامہ غلط ثابت ہوا تو کارروائی ہوگی، لاپتا شخص کا مارا جانا ماورائے عدالت قتل ہے، مقدمہ ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *