عثمان ڈار خواجہ آصف کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے

News Desk

خواجہ آصف کی اہلیت برقرار رکھنے سے قبل سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ خواجہ آصف پر مفادات کے تصادم کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔ درخواست گزار عثمان ڈار خواجہ آصف کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اثاثے چھُپانے پر خواجہ آصف کو نا اہل کیا تھا جس کے بعد یکم جون کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 اپریل کوپاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات کی وزارت محنت کی جانب سے لیبر کیٹیگری کا شناختی کارڈ جاری ہوا اور ملازمت کی وجہ سے ہی انہیں اقامہ بھی جاری ہوا،2013ء کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت یہ ملازمت ہی خواجہ آصف کا بنیادی پیشہ تھا۔

جس کے بعد خواجہ آصف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ان کی تاحیات نا اہلی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یکم جون کو سپریم کورٹ نے خواجہ آصف کی اپیل پر مختصر فیصلہ دیا تھا جس کے بعد آج سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا جس میں کہاگیا کہ خواجہ آصف پر مفادات کے تصادم کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔ درخواست گزار عثمان ڈار خواجہ آصف کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *