راولپنڈی میں نوکرانی پر وحشیانہ تشدد ، ڈاکٹر محسن اور میجر عمارہ پر مقدمہ

راولپنڈی میں نو عمر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا راولپنڈی پولیس کے مطابق ولایت کالونی کی رہائشی میجرڈاکٹر عمارہ ریاض اور ان کے شوہر محسن ریاض نے اپنی گھریلو ملازمہ 11 سالہ کنزہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے بچی کی حالت غیر ہوگئی ۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق  کنزیٰ کے معدے اور آنتوں پر تشدد کی وجہ سے سوجن ہے، کنزیٰ کی گردن اور کمر پر تشدد کے نشانات موجود ہیں جب کہ وہ بائیں بازو کو ہلا بھی نہیں پارہی ، کنزیٰ کے دائیں کندھے کے پیچھے پرانے زخم کا نشان ہے۔

گھروں میں کام کرنے والے کم سن گھریلو ملازمین پر تشدد کوئی نئی بات نہیں یہ ہر دور میں ہوتا چلا آیا ہے  پاکستان میں آئے دن گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں ۔ گھریلو ملازم بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام میں متعلقہ ادارے بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔بچوں سے گھریلو مزدوری کروانا چائلڈ لیبر کی بدترین شکل ہے۔کم سن گھریلو ملازمہ کنزہ کا کہنا ہے کہ اسے   مار پیٹ کرنے کے علاوہ اسے بھوکا بھی رکھا جاتا تھا، مالکن اور مالک بیلٹ اور رسی سے مارتے تھے، نہ کھانا دیتے تھے، نہ رات کو سونے دیتے تھے۔

گھریلو ملازمہ پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس اور دیگر ادارے حرکت میں آ گئے۔کیپٹل سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی عباس احسن نے بچی اور اس کے والد کو واپس لانے کے لیے ٹیم سمندری بھیج دی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچی پر تشدد ثابت ہونے پر میاں بیوی کے خلاف کارروائی ہو گی۔

کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ رفع دفع کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔ گیارہ سالہ کنزہ کے والد کا مبینہ بیان حلفی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ بچی کو چوٹیں گیٹ پھلانگتے ہوئے لگیں، بچی کو اپنی مرضی سے واپس آبائی علاقے سمندری لے جا رہا ہے۔ی پی او راولپنڈی احسن عباس نے معاملہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں سامنے آنے پر متعلقہ پولیس اہلکار کو معطل کر دیا ۔تھانہ ایر پورٹ میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔مگر سوال یہ ہے کہ طیبہ تشدد کیس ، گھریلو ملازمین کو جلانے کا وقوعہ اور اب کنزہ کیس میں ذمہ داروں کو سزا کا تعین کون کرے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *