منرل واٹر چھوڑیں ، گھڑے اور دریا کا پانی پیئیں ، چیف جسٹس

News Desk

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے زیر زمین پانی نکالنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی ۔سماعت میں کمیٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا پلاسٹک بوتل فوڈگریڈ سے نہیں بنی ہوتی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں کراچی میں نیسلے کے پلانٹ کو دیکھنے گیا، نیسلے پانی کا پورا پلانٹ معیاری نہیں تھا، انہیں زمین مفت لیز پر دی گئی ہے، نیسلے کا پانی کا نمونہ حاصل کیا وہ بھی معیاری نہیں تھا۔منرل واٹر کمپنیاں جو بوتلیں استعمال کر رہی ہیں وہ خوراک کے طے کردہ اصولوں کےمطابق نہیں ہیں  منرل واٹر کمپنیاں مفت پانی حاصل کرتی ہیں اور دس لاکھ سے زائد سالانہ منافع کما رہی ہیں، زیر زمین پانی عوامی ملکیت ہے اوریہ کمپنیاں اربوں روپے کھا گئی ہیں۔

منرل واٹر کمپنیاں جو پانی گراؤنڈ پر پھینکتی ہیں وہ زہر ہوتا ہے، منرل واٹر کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، کیا کوئی شعور رکھنے والا 54 روپے کی بوتل لے کر اپنی صحت خراب کرنا چاہے گا۔دھوپ میں رہنے کے باعث پلاسٹک کی بوتل سے خرابی ہوتی ہے، میں قوم سے کہوں گا بوتل کا پانی نہ پیئیں میں نے بھی پینا بند کردیا ہےاللہ کا نام لے کر نلکے ، گھڑے یا دریا کا پانی پی لیں ۔اگر نلکے کا پانی پینا ہے تو ابال کر پی لیں کچھ بھی نہیں ہو گا ۔

۔کراچی میں نیسلے کمپنی کا پورا پلانٹ ہی غیر معیاری تھا۔ وہاں ایک گھنٹے میں 20 ہزار ٹن پانی نکالا جا رہا تھا، ہمارے ماہر نے کہا نام نہاد نیسلے کے بجائے دریا کا پانی پینا پسند ہےپانی پبلک پراپرٹی ہے اس کی قیمت یکساں ہونی چاہیے، چاروں صوبے نرخ طے کرنے کے لیے میٹنگ کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا منرل واٹر کمپنیوں کے مالکان  سفارشیں کرا رہے ہیں کہ 10 پیسے فی لیٹر ٹیکس لگائیں، کیوں لگا دیں پاکستان کیا لوٹ کا مال ہے، جو مقدمات ہم سن رہے ہیں انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں۔کوئی انسان بھی 50 سے 55 روپے کا پانی بیمار ہونے کے لیئے نہیں خریدتا، قصور اور شیخوپورہ میں پانی میں آرسینک آرہی ہے۔چیف جسٹس نے منرل واٹرکمپنیوں کے مالکان کو 13 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *