جمیعت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید

News Desk

جمیعت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقہ میں انکی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے چھریوں کے وار سے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں زخموں کی تاب نہ لا کر مولانا سمیع الحق جاں بحق ہو گئے ۔رپورٹ کے مطابق ساڑھے چھ  بجے مولانا سمیع الحق سفاری ولاز میں واقع گھر میں اکیلے تھے جبکہ ان کا ملازم سودا لینے گھر سے بازار گیا تھا، ملازم واپس آیا تو مولانا سمیع الحق چاقو کے وار سے زخمی خون میں لت پت پڑے تھے۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (س)کے امیر مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں گلریز کے علاقے میں ایک نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی سفاری ولاز میں قیام پذیر تھے ۔

اس دوران نامعلوم چاقو بردار افراد نے گھر میں گھس کر ان پر حملہ کردیا ، چاقوﺅں کے پے در پے واروں سے وہ شدید زخمی ہوگئے ، ان کے سینے ، چہرے اور کندھوں پر چاقوﺅں کے متعدد نشانات تھے۔ان کو شدید زخمی حالت میں سفار ی ہسپتال لایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ جبکہ ان کے گھر کے ایک ملازم نے بتایا کہ وہ سودا سلف لانے بازار گیا ہوا تھا تاہم جب واپس آیا تو مولانا سمیع الحق کو شدید زخمی حالت میں پایا۔ ان کے جسم پر چاقوﺅں کے متعدد نشانات تھے۔مولانا سمیع الحق کے قریبی ساتھی اور واقعے کے وقت ان کے ساتھ موجود مولانا احمد شاہ نے امیر جمعیت علمائے اسلام (س ) کی موت کی تصدیق کردی ۔

مولانا احمد شاہ نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا سمیع الحق جمعہ کو ہی نوشہرہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقے کے سنگم پر واقع نجی ہاوسنگ سوسائٹی کے فیز سفاری ون آئے تھے اور حملے کے وقت سوسائٹی کے اندر ہی موجود تھے کہ چند نامعلوم افراد نے مولانا پر چاقووں سے حملہ کردیا ، انہیں فوری طور پر قریبی نجی ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔جے یوآئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے کہا کہ مولانا سمیع الحق پر گھر کے اندر حملہ کیا گیا۔ عصر کے بعد وہ گھر پر آرام کررہے تھے۔ ان پر چھری سے وار کیے گئے۔ ڈرائیور اور گن مین باہر گئے تھے اور جب واپس آئے تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت پڑے تھے۔واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان تھے۔

وہ دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین تھے۔ وہ متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ)کے رکن بھی رہے۔مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے،وہ  پاکستان کے ممتاز مذہبی اسکالر اور سیاست دان تھے، وہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے، مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر رہے۔مولانا سمیع الحق سینیٹر بھی رہے،وہ متحدہ دینی محاذ کے بانی تھے جو پاکستان کے  مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔ یہ اتحاد  انہوں نے 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنایا تھا۔مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے،وہ  پاکستان کے ممتاز مذہبی اسکالر اور سیاست دان تھے، وہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے، مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر رہے۔مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے،وہ  پاکستان کے ممتاز مذہبی اسکالر اور سیاست دان تھے، وہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے، مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر رہے۔

مولانا سمیع الحق کے والد کا نام مولانا عبدالحق تھا، انہوں نے 1946ء میں دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد نے رکھی تھی وہاں انہوں نے فقہ اصول فقہ، عربی ادب اور حدیث کا علم سیکھا ان کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا لیکن ساتھ ساتھ قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے تھے۔خیبر پختونخوا حکومت نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کی ہدایت پر کل صوبے بھر میں سوگ ہو گا اور صوبے بھر میں سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہے گا۔وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق پر حملے کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت کی کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ انکے بیٹے حامد الحق کی مدعیت میں درج کر لیا گیا، مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ ایئر پورٹ میں درج کیا گیا۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ مولانا سمیع الحق پر حملہ شام 6 بج کر 30 منٹ پر ہوا، ان کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر 12 چھریوں کے وار کیے گئے، مولانا سمیع الحق آبپارہ میں احتجاج کے لیے چارسدہ سے آئے تھے، مولانا کا پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتے۔مولان سمیع الحق کی نماز جنا زہ آج سہہ پہر ظہر کی نماز کے بعد ان کے آبائی علاقے نوشہرہ میں ادا کی جائے گی جہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیئے گئے ہیں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *