عافیہ صدیقی کو تنہا چھوڑنے والوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں‎



News Desk

امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ریمنڈ ڈیوس اور بریگیڈئیر برگ ڈیل کے بدلے ان کی بہن کو پاکستان کے حوالے کرنے کی پیشکش کی تھی۔تاہم امریکی مطالبات کے بارے میں مزید تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کرنے کے بعد ہی بتا پائیں گی۔ فوزیہ صدیقی یہ بھی کہتی ہیں کہ امریکا ماضی میں بھی عافیہ صدیقی کو رہا کرنے کیلئے تیار تھا، تاہم پاکستان کی حکومت کی سستی اور عدم دلچسپی کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو پایا تھا۔ فوزیہ صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی جیل میں عافیہ صدیقی کو جنسی اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
تاہم انہیں اب 100 فیصد یقین ہوگیا ہے کہ عافیہ صدیقی جلد ان کے درمیان ہوں گی۔

فوزیہ صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی پیشکش کے باوجود پاکستان نے عافیہ کی جگہ کچھ اور لینے کا فیصلہ کیا۔فوزیہ صدیقی نے کہا کہ عافیہ کو صدر اوباما کی طرف سے صدارتی معافی کے آپشن کے وقت بھی پاکستان نے سستی دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 2003 سے اس معاملے پر اُن کے ساتھ ہیں، وہ کہہ چکے ہیں کہ عافیہ کو تنہا چھوڑنے والوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ڈاکٹر فوزیہ نے مزید کہا کہ عمران خان آمرانہ دور میں بھی عافیہ صدیقی کے ساتھ کھڑے رہے جب دوسرے خوفزدہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عافیہ صدیقی پر پیش رفت کا بتایا ہے جس کے بعد وہ عافیہ کی رہائی کیلیے بہت پُر امید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعظم عمران خان سے بہت زیادہ توقعات ہیں، عافیہ کی وطن واپسی کے سیاسی اور سفارتی کئی راستے کھلے ہیں۔

امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا پاکستان سے بعض شرائط منوانے کے بدلے عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہے۔  امریکا پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے بدلے وہ عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ امریکی جیل میں قید عافیہ صدیقی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے نام خصوصی خط تحریر کیا گیا ہے۔ عافیہ صدیقی نے وزیراعظم کے نام اپنا خصوصی پیغام ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل کو جیل میں ملاقات کے دوران دیا۔ 
خیال رہے کہ امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ستمبر 2010 میں 87 برس کی سزا سنائی تھی جس کے بعد سے وہ قید تنہائی کاٹ رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *