آشیانہ ہاوسنگ سکینڈل کیس میں شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی گئی



News Desk

احتساب عدالت میں آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میں شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف کو پروڈکشن آرڈر ختم ہونے کے بعد احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو دوران سماعت بتایا کہ ملزم شہبازشریف نے انہیں دھمکی دی جس پر شہبازشریف نے کہا کہ میں نے کوئی دھمکی نہیں دی الزام غلط ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے شہباز شریف سے کی گئی تفتیش سے متعلق عدالت کو بتایا کہ احد چیمہ نے خود ایک فیزیبیلٹی رپورٹ بنائی ہے۔

تفتیشی افسر نے کہا ابھی ہم نے شہباز شریف سے مزید تفتیش کرنا ہے، قومی اسمبلی کے اجلاس اور بطور اپوزیشن لیڈر مصروفیت کے باعث تفتیش مکمل نہیں کر سکے، عدالت سے استدعا ہے شہباز شریف کا مزید 15 روز کا ریمانڈ دیا جائے۔ شہباز شریف کے وکیل نے کہا نیب نے آشیانہ اسکینڈل کی انکوائری 19 جنوری کو شروع کی، نیب نے ملزم کو 22 جنوری کو طلب کیا، نیب نے صاف پانی کمپنی کیس میں 5 اکتوبر کو بلایا، آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا، شہباز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، آج نیب نے چوتھی بار جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی، جنوری سے شروع انکوائری میں ایک سال تک تفتیش مکمل نہیں کی گئی، مزید جسمانی ریمانڈ مانگنا مذاق ہےڈی جی نیب شہباز شریف کیخلاف پارٹی بن چکے ہیں۔شہبازشریف کے وکیل نے دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے آج تک کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا،جس طرح کی تفتیش کی اس کے بعد جسمانی ریمانڈ کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

عدالت میں  شہباز شریف کی پیشی پر کمرہ عدالت میں وکلا کے نعروں پر معزز جج نے کہا کہ اس شور شرابے میں کیسے کیس کی سماعت کروں گا اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔بعد ازاں عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کرتے ہوئے 24 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *