دریائے سندھ پر کئی ڈیمز بنائیں گے ،کوئی نہیں روک سکتا ، چیف جسٹس

News Desk

چیف جسٹس اف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان کو پانی کے سنگین مسائل درپیش ہیں اس لیے پانی کا مسئلہ فوری حل نہ کرنے کے نتائج بھی سنگین ہوں گے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے عاشق تھے لہذا آج بھی پاکستان سے عشق کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سمندرپار پاکستانی ملک کے سب سے بڑے عاشق ہیں۔ میرا کوئی سیاسی مقصد نہیں،ریٹائرمنٹ کے بعد صرف انسانی فلاح کیلئے کام کروں گا۔

میں نے یتیموں کے حقوق مرتے ہوئے دیکھے ہیں اس لیے اگر یتیموں، بیواؤں کو انصاف نہ ملا تو معاشرتی انتشار پھیل سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن کے مقامی ہوٹل میں دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔دریائے سندھ پر ایک نہیں، بیسیوں ڈیم بنائیں گے، دریائے سندھ ڈیم بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

کوئٹہ میں بھی پانی کا بحران شدید ہے، مسئلہ حل نہ ہوا تو لوگ نقل مکانی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ  کالا باغ ڈیم کے معاملے میں پتا چلا کہ صوبوں میں اتفاق نہیں ہے تو سوچا کہ چلو بھائیوں میں تفرقہ ڈالنا مناسب نہیں ، لیکن دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم پر تمام صوبوں کا اتفاق ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کیوں نہیں بنے، اس سلسلے میں غفلت کس کی تھی آج پتا چل گیا۔خطاب کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بھی مہم بچوں کے ہاتھ آجائے تو رک نہیں سکتی، میری نواسی نے بھی جمع پونجی سے ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالا۔چیف جسٹس نے بتایا کہ پاکستان کو پانی کے سنگین مسائل درپیش ہیں اس لیے پانی کا مسئلہ فوری حل نہ کرنے کے نتائج بھی سنگین ہوں گے ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے عاشق تھے لہذا آج بھی پاکستان سے عشق کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سمندرپار پاکستانی ملک کے سب سے بڑے عاشق ہیں۔ میرا کوئی سیاسی مقصد نہیں،ریٹائرمنٹ کے بعد صرف انسانی فلاح کیلئے کام کروں گا۔ میں نے یتیموں کے حقوق مرتے ہوئے دیکھے ہیں اس لیے اگر یتیموں، بیواؤں کو انصاف نہ ملا تو معاشرتی انتشار پھیل سکتا ہے ۔ تقریب کے دوران سمندرپار پاکستانیوں کی جانب سے ڈیم فنڈمیں 53 لاکھ پائونڈکا عطیہ دیا گیا جبکہ چیف جسٹس نے بھی ڈیم فنڈ میں ایک ہزار پاونڈ مزید دینے کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *