خوشامدیوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بند گلی میں پہنچا دیا‎

News Desk

ایک انٹرویو میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے ان کی عمران خان سے ایک ملاقات ہوئی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں تحریک انصاف میں شامل ہوجاؤں۔جو ماحول بن رہا تھا مجھے پتا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بن رہے ہیں۔ عمران خان اسکول کے زمانے سے میرے دوست ہیں

چوہدری نثار علی خان نے پی ٹی آئی میں شامل نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا کہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہوکر حکومتی بینچز پر بیٹھا کیسا لگوں گا جہاں میاں نواز شریف، شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر لوگوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کچھ رہنما میاں نواز شریف کے کان بھرتے تھے

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ پہلے غلطی کی گنجائش تھی اب نہیں ہے کھائی ہمارے بالکل سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر راز اگر میں باہر لے آؤں تو شاید مجھے تو شہرت مل جائے لیکن ملک کو نقصان ہوگا مجھ سے سب کو یہ فائدہ ہے کہ میں راز باہر نہیں نکالتا۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پارٹی کی قیادت کو کہا کہ آئیں میاں صاحب کو قائل کریں کہ اچھے انداز میں معاملات آگے لے کر جائیں۔ میاں صاحب سے جب میں ملا تو انہوں نے مجھ سے اتفاق کیا میاں صاحب نے ایک انقلابی کو بٹھایا ہوا تھا جس نے یہ سب کیا
چوہدری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو دو تین افراد سے بہت نقصان پہنچا۔خوشامدیوں نے نوازشریف کو بند گلی میں پہنچا دیاہے۔
چوہدری نثار نے کہا کہ اب ن لیگ کی قیادت اور شریف خاندان سے کوئی رابطہ یا تعلق باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا کیس اس لیے بھی مختلف ہے کہ انہوں نے خود کو عدالت میں پیش کیا۔ میں واحد بندہ تھا جس نے کہا کہ عدالت پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں۔

عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ وہ کبھی عوامی عہدے پر نہیں رہیں اور اس سے پہلے عمران خان بھی نہیں رہے۔جو قوانین دیگر پاکستانیوں پر لاگو ہوتے ہیں وہی علیمہ خان پر لاگو ہونے چاہیئں۔

انہوں نے کہا کہ میں علیمہ خان کو نہیں جانتا نہ ان سے کبھی ملا۔ میں نے عمران خان نے کہا کہ اور جب آپ کے ساتھ والے کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس کو کچھ نہیں کہا۔ میں نے عمران خان سے کہا کہ فلاں کیخلاف تو آپ نے شادیانے بجائے کہ یہ صادق اور امین نہیں۔یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر میرے وزرا کیخلاف کیسز ہیں تو عہدے چھوڑ کر الزام کا سامنا کریں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جس طرح اپوزیشن کا رکن گرفتار ہوتا ہے حکومت کا رکن بھی ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کہتے ہیں میں ایک کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔یہ کام حکومت کا ہے ہی نہیں نیب کا قانون جس حد تک اپوزیشن پر لاگو ہوتا ہے حکومت کے ارکان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر حقیقی احتساب چاہتے ہیں تو ان کو احتساب خود سے شروع کرنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ اپوزیشن کا احتساب کریں اور اپنے لوگوں کا نہیں۔احتساب با مقصد تب ہوگا جب حکومت اس عمل سے الگ رہے گی۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو ایسی بیٹنگ وکٹ ملی جہاں انہیں صرف سیدھا کھیلنا ہے۔ لیکن وہ پہلے سیدھا کھیلیں تو سہی اچھی ٹیم میدان میں اتاریں۔سابق وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ عمران خان کو ق لیگ کی حکومت سے بھی بہتر ماحول ملا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جس طرح نیب قانون اپوزیشن پر لاگو ہوتا ہے اسی طرح آپ کے لوگوں پر لاگو ہوتا ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بیانات سے لوگوں کو یقین نہیں آتا ہے۔نیب اگر کوئی آدمی اپوزیشن کی جانب سے گرفتار کرتا ہے تو حکومت کی پوری ٹیم پریس کانفرنس کرتی ہے اور کہتے ہیں کہ ہم نے پکڑوایا ہے۔وزیر اعظم کہتے ہیں ایک کو بھی نہیں چھوڑونگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *