چیف جسٹس کا عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی دبئی میں جائیداد کا ازخود نوٹس



News Desk

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی دبئی میں جائیداد کے معاملے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جائیداد کے معاملے پر ازخود نوٹس کیس سماعت کیلیے بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ علیمہ خان نے بیرون ملک موجود جائیداد ایف بی آر کے حوالے کر دی تھی۔


وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اپنی بیرون ملک جائیداد کا 25 فیصد بطور ٹیکس اور 25 فیصد بطور جرمانہ ایف بی آر کو جمع کروایا۔ان کی پراپرٹی کی مالیت تقریباً 7 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے۔ ان کا فلیٹ دبئی کے قلب میں برج خلیفہ سے متصل ہے جو انتہائی مہنگا علاقہ ہے۔

علیمہ خان کبھی بھی کسی سرکاری یا حکومتی عہدے پر براجمان نہیں رہیں تاہم اس کے باجود کسی بھی پاکستانی کو بیرون ملک بنائی گئی جائیداد لازماً ڈکلئیر کرنا ہوتی ہے۔ علیمہ خان نے دبئی میں بنائی گئی جائیداد ڈکلئیر نہیں کی تھی اسی باعث ایف بی آر کی جانب سے انہیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دبئی میں پراپرٹی کے معاملے میں ایف آئی اے لاہور کو جواب جمع کروا دیا تھا۔


وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایف آئی اے کو دئیے گئے تحریری جواب میں اپنی دبئی کی پراپرٹی خریدنے کے ذرائع بتائے تھے۔ علیمہ خانم نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے دبئی کی پراپرٹی بیرون ملک بزنس ڈیلنگ سے خریدی تھی تاہم انہوں نے جواب میں بزنس ڈیلنگ کی وضاحت نہیں کی تھی۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خانم نے اپنے جواب میں بتایا کہ انہوں نے پراپرٹی نمبر 1406 دبئی کے پوش علاقے لوفٹ اسٹ ڈاؤن ٹاؤن میں خریدی تھی۔


اور دبئی میں اپنے نام خریدی جائیداد فروخت کر دی ہے۔جب کہ ایف بی آر کو بھی اپنی دبئی کی پراپرٹی کی خرید و فروخت کی تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے دبئی میں اپنے پرتعیش فلیٹ دی لافٹس ایسٹ۔ 1406 کی 25 فیصد تخمینی مجموعی قیمت اور 25ف یصد جرمانے کی رقم ٹیکسوں کی مد میں جمع کرا دی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ایف آئی اے نے سیاسی تعلقات رکھنے والے 44 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جن کی متحدہ عرب امارات میں جائیدادیں ہیں۔ ایف آئی اے کی فہرست منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے تفتیش کا حصہ ہے جو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے پاس جمع کروائی گئی۔

ایف آئی اے نے عدالت میں بتایا کہ اس فہرست میں  وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی دبئی میں بے نامی جائیداد کی مالک ہیں جبکہ سابق وزیر مرحوم مخدوم امین فہیم کی اہلیہ رضوانہ امین کے نام 4  پی ٹی آئی رہنما ممتاز احمد مسلم کے نام 18 اور عدنان سمیع خان کی والدہ نورین سمیع خان کے نام 3، سمیت مشرف کے سابق سیکرٹری طارق عزیز کی بیٹیاں بھی دبئی میں جائیداد کی مالک ہیں۔

انکشافات کے بعد وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین نے کبھی بھی کسی حکومتی عہدے پر براجمان نہ رہنے والی علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کیے اور ان کیخلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس نے اس معاملے کہ تہہ تک پہنچنے کیلئے از خود نوٹس لے لیا ہے

واضح رہے کہ دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے 893 مالکان کو نوٹس بجھوائے تھے جن میں سے 450 افراد نے جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کر لی تھی جب کہ 443 افراد نے اس حوالے سے کوئی جواب جمع نہیں کرایا تھا۔

جبکہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے نیب سے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دبئی میں جائیداد کیسے بنائیں ؟نیب حکام اس بات کی تحقیقات کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *