جب بڑے چوروں کی بات کرتا ہوں تو چند لوگ کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں ہے‎

News Desk

تحریک انصاف کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے خصوصی تقریب جناح کنونشن سینٹرمیں ہوئی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ 100 دن کا کریڈٹ بشریٰ بی بی کو دیتا ہوں۔ جب کسی پر ظلم دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیب ہمارے ماتحت نہیں ایک آزاد ادارہ ہے۔ نیب میں کوئی چپڑاسی بھی ہم نے بھرتی نہیں کرایا۔ سب پہلے کی بھرتیاں ہیں جو نیب کرتا ہے ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے۔ نیب میں سزا کا تناسب 6 فیصد ہے جو اس سے بہت زیادہ ہونا چاہیے نیب پلی بارگین پر انحصار کرتا ہے اور نیب اس سے بہت بہتر کام کر سکتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے کو مضبوط کیا ہے اور ایف آئی اے نے اب تک 375 ارب روپے کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں ان اکاونٹس میں سے پیسہ آکر گیا ہے، اس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی ہےہم نے26 ممالک کے ساتھ مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے علاوہ 26 ملکوں سے ابھی تک پاکستانیوں کی جانب سے چھپائے گئے 11 ارب ڈالرز کا پتہ چلا ہے۔ 12 ارب ڈالرز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ابھی صرف 26 ملکوں سے اطلاعات ملی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ ابھی باقی ہے یہ پیسہ غیرقانونی ہے کاروباری حضرات کا ہے یا چوری کا یہ بعد میں پتا چلے گا۔

جب بڑے چوروں کی بات کرتا ہوں تو چند لوگ گلا پھاڑ کر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے انہیں خوف ہے کہ سب کو پتا چل جائے گا کہ ان لوگوں نے ملک کو کیسے لوٹا جب تک کرپشن پر قابو نہیں پاتے ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ22 سال اپوزیشن میں رہ کر خود کو بتانا پڑتا ہے کہ وزیراعظم ہوں۔ انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہوتی ہے کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مدینہ کی ریاست میں تمام پالیسیاں رحم پر تھیں۔ غریبوں کو اوپر لانے کیلیے تھیں۔ساری پالیسیاں کمزور طبقے کے لیے بنائی گئیں۔ زکوۃ پیسے والوں سے لے کر غریبوں کو دی گئی۔ معذوروں یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا گیا ہمارے نبی ﷺنےفیصلہ کیا انسانی معاشرے میں کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے۔ 

عمران خان نے کہا کہ پنجاب کا وزیراعلٰی عثمان بزدار کو بنایا تو بڑی تنقید ہوئی یہ بہت سادہ آدمی ہیں کوئی بڑی ٹوپی نہیں پہنتا لانگ بوٹ نہیں پہنتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں تحفظ کیلیے ایک قانون لارہےہیں اور سمندر پار پاکستانیوں کی جائیداد کے تحفظ کے لیے قانون بنائیں گے جب کہ  ایک لیگل ایڈ اتھارٹی بنارہے ہیں جو غریبوں کو انصاف کی فراہمی کیلیے کام کرے گی۔ اسی طرح بیواؤں کو انصاف کی جلد فراہمی کیلیے بھی اصلاحات لے کر آرہے ہیں اس ضمن میں بیواؤں کے لیے ایک خاص پرویژن لاء بنایا جائے گا اور  کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سال کا عرصہ دیا جائے گا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صحت کے نظام میں سرکاری اسپتالوں کو ٹھیک کر رہے ہیں۔ اسپتالوں میں دو معیار ہیں۔سرکاری اور نجی اگر پیسہ ہے تو اچھا علاج کرالیں ورنہ ہمارا نظام ایسا ہے جس میں گورنمنٹ سیکٹر پرائیویٹ سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔ غریب گھرانے کا بجٹ ایک بیماری میں تباہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے لوگوں نےصحت کارڈ کو بہت پسند کیا 5 لاکھ سے زائد صحت کارڈ جاری کیے یہ ان کے لیے برے وقت کا انشورنس ہے۔ سب غریب گھرانوں کو ملک بھر میں صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک میں تین تعلیمی نظام بنائے ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹے طبقے کے لیے انگلش میڈیم اسکول بنا دیئے ہم نے تعلیمی نظام میں تفریق سے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا کوشش ہے یکساں تعلیمی نظام لے کر آئیں تاکہ غریب کے بچے پڑھ کر اوپر آئیں۔غریبوں کے بچوں کو اسکول لانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے پی پی رہنماء خورشید شاہ نے تحریک اںصاف کی حکومت کو غیر جمہوری قرار دیا ہے۔ حکومت نے 100 روز میں صرف دعوے، وعدے اور انتقامی کارروائیاں کیں۔

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ حکمران اپوزیشن پر الزام لگا کر چھپ نہیں سکتے۔حکومتی ٹیم آج بھی کنٹینر پر کھڑی ہے۔ پی ٹی آئی میں بھی نیب زدہ لوگ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا عمران خان نے صرف لیکچر دیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا وژن واضح نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *