پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز سے بچاؤ کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے



News Desk

دنیا بھر کے دیگر ممالک سمیت پاکستان میں بھی آج ایڈز جیسے موذی مرض کا دن منایا جا ریا ہے ۔ ایڈز ایک خطرناک بیماری ہے جس کے وائرس انسانی جسم کے خون میں شامل ہو کر مدافعاتی نظام کو ناکارہ کر دیتے ہیں تاحال انسان اس بیماری کے وائرس پر قابو نہیں پاسکا ہے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیابھر میں روزانہ 6000 افراد ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں اور پاکستان میں تقریبا دو لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں  عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق ہر سال ستائیس لاکھ افراد ایڈز کے وائرس HIV سے متاثر ہورہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں ڈھائی کروڑ افراد اس کا شکار ہوئے جبکہ اس وقت متاثرین کی مجموعی تعداد ساڑھے تین کروڑکے قریب پہنچ چکی ہے۔2007

میںبیس لاکھ افراد اس کا نشانہ بنے۔ ان میں بہت بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ ایڈز کے مہلک مرض نے سب سے زیادہ جنوبی افریقہ کو متاثر کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ پانچ سالوں میں وہاں چھ لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، یعنی ملک کا ہر تیسرا بچہ ایڈز کے باعث اپنے ماں یا باپ کو کھوچکا ہوگا۔ جنوبی افریقہ کی حکومت ابھی تک لاکھوں یتیم بچوں کی دیکھ بھال کے لئے امداد فراہم کر رہی ہے۔پاکستان میں اس وقت ایڈز سے بچاؤ کے 33 سنٹر کام کرر ہے ہیں جہاں صرف25 ہزار افراد علاج معالجہ کیلئے رجسٹرڈہیں، مرض کے ٹیسٹ کرانے کی شرح بھی 10فیصد سے بھی کم ہے ۔

یہ خلا پالیسی سازوں اور صحت عامہ کے پیشہ ور افراد کیلئے خطرے کی ایک گھنٹی ہے ۔اکستان میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے افراد ہیں جو اپنی بیماری سے متعلق آگاہی نہیں رکھتے ،،ایڈز کا علاج بروقت تشخیص اور احتیاط کے ساتھ ساتھ مثبت رویہ اپنائے بغیر ممکن نہیں ہےایڈز انسانی جسم کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت اس قدر کم کردیتا ہے کہ وہ جراثیم بھی جو ‏عام طورپر بیماری پیدا کرنے کے بھی قابل نہیں ہوتے، بیماریوں کاباعث بنناشروع ہوجاتے ہیںکا علاج بروقت تشخیص اور احتیاط کے ساتھ ساتھ مثبت رویہ اپنائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو اس مرض کے بارے میں شعور حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔اس دن کی مناسبت سے  ملک بھر میں محکمہ صحت اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *