خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ درج‎



News Desk

پاکستان کی وفاقی حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان کی قیادت اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔توڑ پھوڑ میں ملوث تحریکِ لبیک کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلیں گے۔جبکہ خادم حسین رضوی سمیت تحریک لبیک کے دیگر رہنما حفاظتی تحویل میں ہیں۔
تحریکِ لبیک کے پنجاب سے 2899، سندھ سے 139 اور اسلام آباد سے 126 لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات چلائے جائیں گے۔

گزشتہ روزاسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں فواد چوہدری نے کہا کہ کچھ شرپسند عناصر نے نظام کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی۔ قانون کے دائرے سے باہر احتجاج پر ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ آئین کے اندر رہ کر احتجاج سب کا حق ہے لیکن شہریوں کی جان و مال کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پرتشدد احتجاج کے معاملے پر ریاست کے اندر تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں یکجا ہیں اور شرپسندوں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہےکہ تحریک لبیک کے پیر افضل حسین قادری، عنایت الحق شاہ اور حافظ فاروق الحسن کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کو روکا گیا آگ لگا دی گئی اور پھل فروش کو لوٹا گیا احتجاج کے دوران کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خادم حسین رضوی کےخلاف سول لائن تھانہ لاہور میں مقدمہ درج ہوا ہے جس میں بغاوت اور دہشت گردی کے چارجز لگائے گئے ہیں جب کہ خادم رضوی سمیت تحریک لبیک کے دیگر رہنما حفاظتی تحویل میں ہیں، افضل حسین قادری کے خلاف گجرات اور عنایت الحق شاہ کے خلاف راولپنڈی میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، ان تمام افراد کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت میں مقدمات چلیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف تحریکِ لبیک پاکستان نے نومبر کے اوائل میں تین روز تک احتجاجاً ملک بھر کی شاہراہوں کو بند رکھا۔

گزشتہ ماہ احتجاج کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔گاڑیوں کو روکا گیا آگ لگائی گئی اور لوٹ مار ہوئی۔
احتجاج کے کئی روز بعد حکومت نے گزشتہ ماہ کے اختتام پر تحریکِ لبیک کے رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی جس کے دوران ملک بھر سے سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *