چیف جسٹس نے منشا بم کیس میں تفصیلات طلب کرلیں‎

News Desk

لاہور رجسٹری میں منشا بم کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایل ڈی اے.محکمہ ریونیو اور ضلعی حکومت سےتفصیلات طلب کر لیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ پٹوار سرکل کس قانون کے تحت کام کر رہا ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں  مفاد عامہ کے مختلف کیسسز نمٹا ئے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے منشا بم کیس کی بھی سماعت کی ۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زمینوں پر منشا بم کے قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر لاہور سے استفسار کیا کہ ابھی تک اربنائزیشن کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، شہری علاقوں میں محکمہ مال کا کیا کردار ہے۔
چیف جسٹس نے کہا ممبر ریونیو بتائیں یہ کھاتہ کھتونی کیا ہوتا ہے اور پٹوار سرکل کس قانون کے مطابق کام کررہا ہے۔

لاہور رجسٹری میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نہ لگانے کے خلاف کیس سمیت دیگر مقدمات کی سماعت ہوگی جس میں عدالت نے پنجاب حکومت سے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کا حتمی پلان طلب کر رکھا ہے۔
اس دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈپٹی کمشنر سے سوال کیا کہ محکمہ مال کا اس سارے معاملے میں کیا کردار ہے 
اس پر ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ 90 کی دہائی میں منشا بم نے 32 کنال اراضی خریدی جو بعد میں فروخت کر دی گئی ۔ڈپٹی کمشنر کا بتانا تھا کہ منشابم کے خلاف درخواست گزار کو قبضہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دینا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رجسٹری پر گورنر ہاوس لکھوا لے تو کیا گورنر ہاوس اس لکھوانے والے والے کا ہوجائے گا مجھے بتایا جائے کہ پٹوار سرکل کس قانون کے تحت کام کر رہا ہے۔اس موقع پر ایل ڈی اے محکمہ ریونیو اور ضلعی حکومت سے تفصیلات بھی طلب کرلیں۔                     
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر سائلین کی بڑی تعداد موجود تھی جب کہ خواتین نے عدالتی کے اندرونی احاطے میں جانے کی کوشش کی جس پر وہاں موجود اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *