سکھ بھائیوں کی خواہش کے تناظر میں کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا‎



News Desk

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میرے تبصرے کو سکھوں کے جذبات سے جوڑنے کا مقصد گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔اپنی ایک ٹوئیٹ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حقائق توڑ موڑ کر پیش کرنے یا تنازعات پیدا کرنے سے ان میں تبدیلی نہیں آسکتی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم سکھوں کے جذبات کا بے حد احترام کرتے ہیں اور سکھ بھائیوں کی خواہشات کے پیش نظر کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ نیک نیتی سے کیا گیا ہے اس لیے کرتارپور فیصلے پر اچھی نیت سے عملدرآمد بھی ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا بیان بھارتی حکومت کے ساتھ دو طرفہ رابطوں کے تناظر میں تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہے میرے تبصرے کو سکھوں کے جذبات سے جوڑنے کا مقصد انہیں جان بوجھ کر گمراہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تاریخی اقدام اچھے یقین کے ساتھ اٹھایا ہے اور اس اچھے اقدام کو آگے بڑھائیں گے. میرے بیان پر سکھوں کے جذبات ابھارنے کی دانستہ کوشش گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہے جو میں نے کہا وہ بھارتی حکومت کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سکھوں کے جذبات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کسی قسم کے تنازع یا حقائق مسخ کرنے سے اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔

خیال رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ دنوں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نیویارک میں پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوجاتی تو اچھا تھا لیکن سشما سوراج اندرونی سیاسی مجبوری کی وجہ سے ملنے سے انکاری ہیں جب کہ عمران خان نے کرتارپور کی گگلی پھینکی تو بھارت کو اپنے وزیر بھیجنے پڑے۔

شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی گزشتہ روز ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ پاکستانی وزیرخارجہ کے گگلی والی بیان سے کسی کا کچھ نہیں گیا۔ بلکہ وہ خود بے نقاب ہوئے بیان ظاہر کرتا ہے کہ آپ سکھ برادری کے جذبات کا احترام نہیں کرتے بلکہ صرف گگلیاں کھیلتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہم آپ کی گلگی کے جال میں نہیں پھنسے جبکہ دو بھارتی وزیر کرتارپور کے گوردوارے میں حاضری کیلئے آئے تھے۔ اور کرتارپور راہداری کا مطلب یہ نہیں کہ دوطرفہ مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *