نواز شریف نے میرے لئے احتساب کورٹس بنائیں۔آج وہ خود کٹہرے میں کھڑے ہیں



News Desk

سابق صدرآصف زرداری نے وزیراعظم کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرغی خریدیں اور اس کے انڈے بیچ کر دیکھیں کتنی خوشحالی آتی ہے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا یہ ملک نہیں سنبھال سکتے۔ ملک کے حالات گھمبیر ہیں کٹھ پتلیاں ملک کے حالات سنبھال نہیں سکتیں ملکی معاملات کو چلانے کے لیے ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جسے زمینی حقائق کا پتا ہو۔


پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو خطرہ ہوا تو وہی بچائیں گے جو انہیں لے کر آئے ہیں ہم کیوں سپورٹ کریں گے۔ عمران خان جو کچھ کررہے ہیں ڈھکے چھپے نہیں کہہ کر کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ساری اپوزیشن کو جیل میں ڈال دوں گا تو بسم اللہ ہم میں جیل جانے کا صبر اور برداشت ہے کیا عمران خان جیل جاسکتے ہیں اور کتنے دن برداشت کرسکتے ہیں جیسی کرنی ہے ویسی بھرنی بھی ہوگی جو ہمیں جیل بھیجے گا پھر تو آنے والے اسے بھی بھیجیں گے کیا وہ برداشت کرلیں گے؟


انہوں نے کہا کہ قومی حکومت بننے یا قبل از وقت الیکشن کی پیشگوئی نہیں کرسکتا البتہ یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ ان سے ملک نہیں چلتا۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ بلے والوں کی پوری کوشش ہے کہ سسٹم توڑ دیں ہم جمہوریت کو مضبوط کریں گے تاکہ کسی اور کو موقع نہ ملے۔ ڈکٹیٹر شپ سے بدترین جمہوریت بہتر ہے اور اسی سوچ کے تحت پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ملک نہیں چلتا چلو اب گھر جاؤ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی کچھ شقوں کا بہانا بنا کر وہ  1973 کا آئین منسوخ کرنا چاہتے ہیں۔ شقوں کا بہانہ بناکر دوبارہ ون یونٹ کی سیاست شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے ون یونٹ کے خلاف بھی جدوجہد کی تھی۔ ہم دوبارہ ون یونٹ کی سیاست نہیں ہونے دیں گے ون یونٹ کی مخالفت ہم نے کی ہے اور کرتے ہیں جب تک جان میں جان ہے جنگیں ہوتی رہیں گی۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ مجھے موجودہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نظر نہیں آتی ان کی تو ایک ہی پالیسی ہے گورنر ہاؤس کی دیوار گرانا پرانی دیوار آخر کیوں توڑی جارہی ہے گورنر ہاؤس میں میوزیم یا لائبریری جو بھی بنائیں دیوار کی ضرورت تو ہوگی۔

آصف زرداری نے کہا ہمارا فرض ہے کہ لوگوں کو نوکریاں دیں تاکہ گھروں کے چولہے جلیں کراچی میں 50 ہزار دکانیں گرادی گئیں بے روزگار کرکے کہا جارہا ہے ٹینٹ میں بیٹھیں پہلے متبادل انتظام کرتے عمارت بناتے جگہ دیتے اور پھر گراتے تو بات بنتی۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ شوگر ملوں سے متعلق پالیسی وفاق کی چل رہی ہے جے آئی ٹی نے شوگر ملوں کوسیل کررکھا ہے نقصان ہوگا تو برداشت کرنا پڑے گا لیکن افسوس ہے کہ نقصان غریب کا ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت آئی تو آبادکاروں کو فائدہ ہوا ہم نے بیمارصنعتوں کو فعال کیا تاکہ روزگار بڑھے اور نوکریاں ملیں ہماری اورموجودہ حکومت کی سوچ میں فرق ہے ان کی سوچ بیکار سوچ ہے اس سے نقصان ہوگا۔

آصف زرداری نے کہا کہ بھارت اور دیگر طاقتیں افغانستان میں بیٹھ کر دہشت گردی کو بڑھا رہی ہیں صدر ٹرمپ افغانستان میں موجود بھارت اور دیگر قوتوں کی دہشتگردی پر بھی کچھ جواب دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے احتساب کورٹس بنائی تھیں آج وہ خود کٹہرے میں کھڑے ہیں نواز شریف نےتو میرے لئے احتساب کورٹس بنائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آتی صرف ایک پالیسی ہے کہ گورنر ہاؤس کی دیوار توڑ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *